کیا عمران خان چھو منتر کہیں گے؟

September 3, 2018

تحریر: ورشہ شاہد الدین

حکومت کو ابھی میدان میں آئے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے کہ مخالفین نے طعنے دینا بھی شروع کردیئے کہ ہائے ہائے کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، یہ کام شروع نہیں ہوا، یہ ترقیاتی کام بھی ادھورا پڑا ہے، یہ نئی حکومت کے سیاست دان ہیں یا چھوٹے بچے جو کچھ کرکے ہی نہیں دے رہے، ان سے حکومت چلتی نظر نہیں آتی، حکومت تو بس ہم نے چلائی ہے، عوام کی خدمتوں کے انبارکھڑے کردیئے تھے ہم نے جس سے عوام آج بھی فیض اٹھا رہے ہیں اور ہمیں دل ہی دل میں دعائیں دے رہے ہیں۔ واہ کیا کارنامے تھے ہمارے، کیا بات تھی ہماری، زبردست یہ تو ابھی بچے ہیں بچے۔۔۔ یہ کیا کریں گے۔

ارے بھائی! پہلی بات تو یہ حکومت چلانا کوئی کھیل تماشا یا گڑیا گڈے کا کھیل نہیں، جو نئی حکومت آتے کے ساتھ ہی کارنامے دکھانا شروع کردے گی چاہے وہ کوئی بھی پارٹی ہو جو اقتدارمیں آئی ہو۔ ذرا وقت تو دیں پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اگر آپ کو نتائج نہ دکھیں تو پھر آپ سب مخالفت کرنے میں اپنی جگہ بالکل بجا ہوں گے اوراس سے بڑھ بڑھ کر کیجیئے گا لیکن ایک دم سے ہر بگڑے کام کے سنور جانے کی امید رکھنا بالکل بھی ٹھیک بات نہیں ہے۔

کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، وہ میدان میں آتے ہی اپنی قابلیت کا مظاہرہ نہیں کرسکتی، چاہے اس جماعت میں کتنے ہی پایہ تکمیل کے سیاسی رہنما اور کارکنان ہوں۔ وہ بھی ایسے ملک میں جہاں کوئی ایسا ادارہ نہ ہو جس کا سسٹم بگڑا ہوا نہ ہو، جہاں چھوٹی بڑی کرپشن، دہشتگردی، لوٹ مار، خون ریزی اورغنڈہ گردی عام ہو۔

اس سسٹم کو سمجھنے کے لیے یہ مثال سب سے بہترین ہے کہ کسی بھی طالب علم کو اچانک کہہ دیا جائے کل اس کا پیپر ہے تو یقینی طور پر اس کا موقف ہوگا کہ اسے تیاری کا وقت تو دیا جائے تاکہ وہ نتائج بہتر لانے کی کوشش کرے۔ ایک دم تو کوئی عاقل بھی اتنے بہتر نتائج نہیں لاسکتا جتنا وہ تھوڑی بہت تیاری کرکے لاسکے گا۔

وزیر اعظم عمران خان ہوں یا پاکستان تحریک انصاف کا کوئی بھی رہنما، انہیں وقت دیجیئے، اور یہ جماعت تو پہلی بار برسر اقتدار میں آئی ہے، ذرا سجھنے اور منصوبہ بندی میں وقت تو لگتا ہی ہے اور ہاں ایک خاص عرصہ گزرنے کے بعد اگر یہ جماعت آپ کو اپنی کارکردگی نہ دکھائے اور اپنے منشور پر عمل پیرا نہ ہوں اور جو جو دعوے اور وعدے انہوں نے عوام سے کیے ہوں وہ پورے نہ کیے جائیں تو بالکل ان کی ہرطرح سے مخالفت کی جانی چاہیئے۔

اب ایسا تو ہے نہیں کہ عمران خان صاحب چھومنتر کہیں گے یا کوئی جادو کریں گے اور یک دم سب کچھ اور سارے ہی بگڑے ہوئے کام اور پورا پورا گرد آلود سسٹم سنور جائے گا۔

خیر اس بگڑے ہوئے سسٹم کا سوال تو پچھلی حکومتوں سے بھی کرنا چاہیئے جنہوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا کہ ملک کے سسٹم کو صحیح ڈگریا پٹری پرلانے کے لیے اتنا وقت سرف ہورہا ہے اور پھرٹرین تو بعد میں چلے گی۔ حکومتی ادارے ہوں یا کوئی بھی سسٹم سب کا برا حال ہے، ایسا برا حال کہ جیسے باقائدہ منصوبہ بندی سے اداروں میں بگاڑ پیدا کیا گیا ہو، افسوس!

جناب نئی حکومت کو وقت دیجیئے وقت، مخالفین کو بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ وہ ملک اور اس کے اداروں کا کیا حال کرکے گئے ہیں اور چند دنوں میں پوری تبدیلی کی امید بھی رکھ رہے ہیں جو خود ان کے منہ پر ہی طمانچہ ہے اگر انہیں محسوس ہو تو۔