صدارتی انتخابات اور پیپلز پارٹی کی مجبوریاں

September 3, 2018

عام انتخابات کو ہوئے ابھی ایک مہینہ ہی گزرا ہے کہ صدارتی انتخاب ہونے لگے ہیں۔ جس میں یقینی فتح پاکستان تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کی نظر آرہی ہے۔

صدارتی انتخابات سے پہلے اور عام انتخابات کے بعد بننے والی سیاسی صورتحال میں ہارنے والی جماعتیں اور خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی پر متفق نظر آئیں۔ جس کے بعد منتخب ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بھی بنایا گیا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ مشترکہ اپوزیشن حیران کُن طور پر صدارتی انتخابات کیلئے مشترکہ امیدوار لانے میں ناکام ہے اور اب 4 ستمبر کو اپوزیشن کے دو اور ایک حکومتی امیدوار کے درمیان مقابلہ ہونے جارہا ہے۔

میڈیا میں آنے والی ابتدائی خبروں کےمطابق اپوزیشن جماعتیں صدارتی انتخاب کیلئے مشترکہ امیدوار لانے پر رضا مند تھیں۔ لیکن بعد ازاں سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف ہونے والی منی لانڈرنگ کیس کی کاروائی کے بعد پیپلز پارٹی کی طرف سے چوہدری اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوارنامزد کردیا گیا۔ جسے نواز لیگ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے رد کردیا گیا۔

صدارتی انتخابات سے پہلے اگر چاروں صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی پارٹی پوزیشن کو دیکھا جائے تو قومی اسمبلی، پنجاب، خیبر پختونخوااور بلوچستان اسمبلیوں میں نواز لیگ کی نشستیں پیپلز پارٹی سے زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ سینیٹ میں بھی اکثریت نواز لیگ کی ہے۔ جس کی وجہ سے متحدہ اپوزیشن کا صدارتی امیدوار اصولی طور پر نواز لیگ کا ہونا چاہیئے تھا۔ لیکن پیپلز پارٹی کی طرف سے اعتزاز احسن کو نامزد کرکے ایسا ماحول پیدا کردیا گیا کہ اپوزیشن مشترکہ امیدوار پر راضی نا ہوسکیں اور اس کا غائبانہ فائدہ تحریک انصاف کے امیدوار کو ہوا۔

صدارتی انتخابات سے پہلے مشترکہ اپوزیشن میں اختلافات یقینی طور پر تحریک انصاف کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ وگرنہ اگر عددی نمبر گیم کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ تین صوبائی اسمبلیوں اور وفاق میں تحریک انصاف کی اکثریت ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار کو برتری حاصل تو ہوگی لیکن پنجاب، سندھ اور سینیٹ میں تحریک انصاف کی اکثریت نا ہونے کی وجہ سے صدارتی انتخاب دلچسپ صورتحال اختیار کرسکتا تھا۔ لیکن چونکہ اب حکومتی صدارتی امیدوار ایک ہے اور اپوزیشن کے امیدوار دو۔ لہذا اس کا فائدہ یقینی طور پر حکومتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کو ہوگا۔

سوچ کر اور غور کرکے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے چوہدری اعتزاز احسن کو بطور صدارتی امیدوار نامزد کرنا اور وہ بھی دیگر اپوزیشن جماعتوں کی منظوری کے بغیر ثابت کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی درحقیقت اپنے ذاتی مفادات کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپوزیشن سے کنارہ کشی اختیار کر رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اس انتخابی سائنس سے بخوبی واقف ہے کہ اگر متحدہ اپوزیشن اپنا مشترکہ امیدوار لاتی ہے تو متحدہ اپوزیشن حکومتی صدارتی امیدوار کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی بھی سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف چلنے والے منی لانڈرنگ کیسز کی وجہ سے مجبور ہے۔ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کو حکومتی صدارتی امیدوار کے مقابلے میں نا آنے دیا جائے۔

پیپلز پارٹی بنیادی طور پر ان خفیہ قوتوں کے ہاتھوں مجبور ہے جو تحریک انصاف کو اقتدار میں لائی ہیں۔ ان قوتوں کے ساتھ ڈیل کرکے پیپلز پارٹی سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف چلنے والے منی لانڈرنگ کیسز میں رعایت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ویسے بھی صدر اپوزیشن کا آئے یا پھر حکومتی جماعت کا۔ سارے اختیارات تو وزیراعظم اور اس کی کابینہ کے پاس ہوتے ہیں۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اب اگلے پانچ سال تو پیپلز پارٹی کو سندھ میں حکومت کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔