باپو کو سادہ ثابت کرنا کتنا مہنگا پڑتا ہے

Noor Ul Huda Shaheen
September 1, 2018
 

 موہن داس کرم چند گاندھی عرف مہماتما گاندھی بھارت کے بابائے قوم ہیں۔ انگریز کے خلاف جدوجہد اور ہندوستان کی آزادی میں گاندھی جی کا اہم کردار رہا۔ ہندو انہیں نہ صرف سیاسی رہنما بلکہ اپنا روحانی پیشوا بھی سمجھتے ہیں۔ گاندھی جی بھی نیلسن منڈیلا کی طرح فلسفہ عدم تشدد کے پیروکار تھے۔

انہوں نے انگریز کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی کی تحریک کی بنیاد رکھی جو خالص عدم تشدد پر مبنی تھی۔ یہی طریقہ کار آگے جاکر ہندوستان کی آزادی کی وجہ بنی۔ بھارت میں انہیں احترام سے ’باپو‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جس طرح پاکستان نے قائداعظم کو بابائے قوم کا لقب دیا ہے بالکل اسی طرح بھارتی حکومت نے گاندھی جی کو ’راشٹر پتا‘ کے لقب سے نوازا ہے۔ ان کا یوم پیدائش بھارت میں قومی تعطیل کا درجہ رکھتا ہے اور دنیا بھر میں یوم عدم تشدد کی طور پر منایا جاتا ہے۔

گاندھی جی کی ایک خاتون پیروکار تھیں، سروجنی نائیڈو نام تھا۔ سروجنی نائیڈو ایک عظیم خاتون تھیں۔ انگریزی کی شاعرہ، دانشور اور مدبر، قائدانہ صلاحیتوں کی مالک اور آتش بیاں مقررہ تھیں۔ ان کو ہندو مسلم اتحاد کی داعی بھی مانا جاتا ہے۔

سروجنی نائیڈو اور مہاتما گاندھی

سروجنی نائیڈو زمانہ طالب علمی میں گاندھی جی کی تحریک سے وابستہ ہوگئیں اور جلد ہی اپنی قابلیت، محنت اور لگن کے بدولت گاندھی جی کے قریبی حلقے میں شامل ہوگئیں۔ گاندھی جی کے ساتھ اکثر اکھٹے سفر کرتی اور اجتماعات میں اپنی آتش بیانی سے مجمع کو گرفت میں لے لیتی۔ انگریز کے خلاف تحریک میں لازوال کردار ادا کرنے کے بدولت سروجنی نائیڈو کو ’مجاہدہ آزادی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

گاندھی جی  کے بارے میں تاریخی کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ وہ انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ لباس کے طور پر روایتی ہندوستانی دھوتی اور شال کا استعمال کرتے۔ مشہور ہے کہ گاندھی جی اپنی شال خود ہی چرخے پر بُنتے تھے۔ گاندھی جی کھانے میں بھی اسراف کے سخت خلاف تھے۔ اکثر سادہ کھانے اور سبزیاں تناول فرماتے۔ یہ بھی مشہور ہے کہ گاندھی جی روحانی پاکیزگی کے لیے لمبے اُپواس (روزے) بھی اہتمام سے رکھا کرتے تھے۔

اس زمانے میں آمدورفت کے لیے ہیلی کاپٹر کی سہولت شاید دستیاب نہیں تھی اور لمبی لمبی لگژری گاڑیاں گاندھی جی افورڈ نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے ہمیشہ ٹرین کے تیسرے درجے کے ڈبے میں سفر کرتے رہے۔ لیکن جس ڈبے میں گاندھی جی سوار ہوتے، اسی ڈبے کے اندر اور اس کے آگے پیچھے دونوں ڈبوں میں سیکیورٹی عملہ کی بڑی تعداد موجود ہوتی تھی۔

ایک مرتبہ گاندھی جی نے کہیں رخت سفر باندھا تو سروجنی نائیڈو بھی ان کے ہمراہ چل پڑیں۔ جب گاندھی جی ٹرین کے تھرڈ کلاس ڈبے میں سوار ہوئے اور اگلے پچھلے ڈبے سیکیورٹی عملہ سے بھر گئے تو سروجنی نائیڈو سے رہا نہ گیا اور انہوں نے گاندھی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ باپو آپ کا اندازہ نہیں کہ آپ کو غریب رکھنے پر ہمیں کتنا خرچ کرنا پڑتا ہے‘‘۔

ہمارے وزیراعظم عمران خان 22 سال تک بنی گالا کے 300 کنال پر محیط محل میں رہتے ہوئے سادگی کا درس دیتے رہے جبکہ حکومت میں آئے تو سادگی کا عملی مظاہرہ کرنے کا عزم کیا۔ پروٹوکول ختم اور لگژری گاڑیاں بیچنے کا اعلان کیا۔ اجلاسوں میں صرف پانی پیش کیا جانے لگا اور سفر کے لیے سب سے سستی سواری ہیلی کاپٹر استعمال ہونے لگی۔ ہمارے ایروناٹیکل انجنیئر وزیراطلاعات نے ہیلی کاپٹر کا خرچہ پہلے 55 روپے فی کلومیٹر قرار دیا۔ پھر یوٹرن لیا مگر پھر دوسرا یوٹرن لیتے ہوئے پرانی ٹریک پر آگئے اور مزید کفایت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہیلی کاپٹر کا سفر تقریبا مفت پڑتا ہے۔ ہمیں تو اب لگتا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا پائلٹ آخری اسٹاپ پر اتارتے ہوئے چائے پتی کے پیسے بھی دیتا ہوگا۔

وزیراعظم طیارے میں گھومیں، لگژری گاڑیاں استعمال کریں وزیراعظم ہاؤس میں رہیں، یہ ان کا استحقاق ہے۔ اس پر تنقید کا کوئی جواز نہیں بنتا لیکن جس طرح پوری ریاستی مشنری اس سو کالڈ سادگی کو ’ثابت‘ کرنے میں لگی ہے اور جتنی صلاحیتیں سادگی کا یقین دلانے پر خرچ کی جارہی ہیں یقین کریں یہ بہت قیمتی ہیں۔ ان صلاحیتوں کو نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے وقف کردینا چاہئے۔

تحریک انصاف کی صفوں میں بھی آج درباریوں اور خوشامدیوں کے علاوہ جسٹس وجیہ الدین جیسے لوگ موجود ہوتے تو بخدا چیخ اٹھتے کہ ’ باپو آپ کو اندازہ نہیں آپ کو سادہ ثابت کرنے کے لیے ہمارا کتنا قیمتی وقت اور صلاحیتیں خرچ ہورہی ہیں‘۔