Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

نئے پاکستان کے ابتدائی ایام

SAMAA | - Posted: Aug 29, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Aug 29, 2018 | Last Updated: 3 years ago

وہ جو عمران خان کو نابالغ سیاست دان کے طعنے دے رہے تھے، کہاں اڑن چھو ہوگئے؟ وہ جو اندھیروں کوتاریکیوں سے بھگانے کی کوشش کررہے تھے،کہاں رفوچکر ہوگئے؟ وہ جنہیں زعم تھا کہ وہ ہی اس میدان کے اصل پہلوان ہیں باقی توصرف کاغذی شیر ہیں، کہاں غائب ہوگئے؟ شروعات سے ہی پورا معاملہ واضح ہے، کھیل کہاں سے شروع ہورہا ہے، کہاں تک جائے گا اورکون کون گرفت میں آنے والا ہے،خوش فہمی کے ریشمی حصار میں رہنے والے ابھی سے ٹھکانہ تلاش کرلیں ایسا نہ ہو کہ پھر سرچھپانے کے لیے بھی جگہ نہ ملے۔

کپتان کے نئے پاکستان کے ابتدائی ایام سے آئندہ پانچ برس کے خدو خال واضح ہے۔ مرکز اور صوبوں میں مختصر کابینہ، سادگی کی روایت اور سب سے بڑی بات صدر ، وزیراعظم ، وزیروں اور مشیروں کے صوابدیدی فنڈز کا کھاتہ ہی بند کردینا، یہ ہیں نئے پاکستان کی جھلکیاں۔ ابتداء انہوں نے خود سے کی ہے تو سوچیں معاملہ کہاں سے کہاں تک جائے گا؟ اندر کی خبررکھنے والے تو یہ بھی کہتےہیں کہ کپتان کے کچھ طوفانی فیصلوں سے ان کی ٹیم کے کچھ موقع پرست کھلاڑی خوش نہیں اور خاصے بے چین دکھائی دیتےہیں،ممکنہ طور پرمستقبل قریب میں یہ عناصروزیراعظم پر بیک اسٹیپ لینے کے لیے ڈائریکٹ یا پھران ڈائریکٹ دباؤ بھی ڈالیں گے کیا وزیراعظم اپنوں کا پریشربرداشت کرپائیں گے؟

عمران خان کی سیاست نے مخالفین پرقیامت ڈھادی ہے، گرینڈ اپوزیشن کے دعویداروں کے پتے بکھرچکے، وہ جو تبدیلی سرکار کو دیوار سے لگانا چاہتے تھے، آج خود ناراضگیوں کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ شور شرابہ بہت ہوا، چیخ و پکار بھی بہت ہوئی لیکن اپوزیشن نہ پہلے ایک نکتے پر متفق تھی اور نہ اب ہے۔ جس کا فائدہ نئی سرکار نے خوب اٹھایا۔ پہلے اپنا اسپیکر قومی اسمبلی منتخب کرایا، پھر وزیراعظم اور اب باری ہے صدر مملکت کی۔ اعتزاز کے نام پر اعتراض کے بعد ڈیڈ لاک اور پھراپوزیشن کی پھوٹ نے کپتان کی یہ مشکل بھی آسان بنادی ہے اور ممکنہ طور پر لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے نامزد صدر عارف علوی کو اس دوڑ میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔
احتساب سے بچنے کی کوششیں کرنے والے معروضی حقائق کا ادراک کرلیں، این آر او کے سہانے خواب دیکھنے والے بھی خاطر جمع رکھیں۔ شہرآشوب میں اب سراب نہیں حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا، اب جوبھی ہوگا سب کے سامنے ہوگا۔ سب کے روبروہوگا، نیب کے ہاتھ مضبوط کرنے کا عزم اور ایف بی آر میں اصلاحات کا فیصلہ ایسے نہیں ہوا۔ کچھ تو ہے جو معمول سے ہٹ کرہونے جارہا ہے۔

نواز شریف ہوں یا آصف زرداری، دھن دولت کا حساب کتاب اب دینا ہی پڑے گا، اڈیالہ جیل کے سیاسی اسیران اسی انتظار میں ہے کہ شاید آسمانی طاقتیں ان پر رحم کھائیں اور کوئی رحمت کا فرشتہ ان کی مدد کے لیے اترجائے، یہ محض فلمی باتیں ہیں وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے، سعودی سرکار اپنے معاملات میں الجھی ہے اس بار سرزمین حجاز سے کوئی کرشمہ نہیں ہونے والا، شترمرغ کی طرح آنکھیں بند کرنے سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کیلئے نام ای سی ایل پر ڈالنا، کڑے احتساب کا اشارہ ہے اور عقل مندوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے، سمجھنے والے سمجھ جائیں کہ ٹریلر کے بعد پوری فلم کیسی ہوگی؟ مفاہمت کے جادوگر کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، پنتیس ارب روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں ابھی صرف ایف آئی اے کے بلاوے ہیں۔ اگلے قدم پر کیا کچھ ہونے والا ہے ذرا اس پر بھی تو دھیان دیں۔

نئے پاکستان کے ابتدائی ایام سے لگ رہا ہے کہ کپتان اینڈ ٹیم نے آئندہ پانچ برس کے لیے مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔ کفایت شعاری سے لیکر کچھ موقع پرستوں کی اضطراری کیفیت تک، پروٹوکول کلچرکے خاتمے سے لیکر غیرضروری غیرملکی دوروں پر پابندی تک، جہاز کے کلب کلاس میں سفر سے لیکر ریاستی ٹی وی چینل کوحکمرانوں کی غلامی سے آزادی دلانے تک، سخت سے سخت ناقدین بھی نئی سرکار کے اقدامات کی ستائش کرنے لگے ہیں۔ تاہم یہ ابھی شروعات ہےآنے والے دنوں میں کپتان سخت چیلنجزمیں پڑسکتےہیں۔ اتحادیوں سے جووعدے وعید اور پیمان کیے ہیں وہ وزیراعظم کے لیے مشکلات کے باعث بن سکتے ہیں۔ جن میں سے کچھ وعدے ایسے بھی ہیں جنہیں کپتان کے لیے پورا کرنا شاید ممکن نہ ہوں۔ کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جن پر ہاتھ ڈالنا خون آشام بلاوں کودعوت دینا ہے۔ کیا اسٹیٹس کو کے پرخچے اڑانے کے دعویدار عمران خان اس جگہ تک پہنچ پائیں گے جہاں دوسروں کے پرجلتے ہیں؟

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube