Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

سندھ کی بدلتی سیاست اور ڈرامائی تبدیلیاں

SAMAA | - Posted: Aug 28, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 28, 2018 | Last Updated: 3 years ago

سندھ کی سیاست میں روز بروز ڈرامائی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی باآسانی حکومت بنانے میں کامیاب تو ہوگئی ہے مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی کی قیادت کافی پریشان نظر آرہی ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید اور بیٹے عبدالغنی مجید کی گرفتاری کے بعد سندھ کی بہت سی اہم سیاسی شخصیات احتساب کے خوف سے پریشان دکھائی دیتی ہیں۔

منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام بھی ہے۔ پہلے تو پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے اپنی توپوں کے رخ میڈیا کی طرف کر دیئے اور میڈیا پر الزام لگایا کہ میڈیا جھوٹی اور من گھڑت خبریں چلا رہا ہے مگر ایف آئی اے کے بار بار طلب کرنے کے بعد بالآخر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونا ہی پڑا۔ پیپلز پارٹی میں گرفتاریوں کا خوف پھیلا ہوا ہے، اگر پیپلز پارٹی کا کوئی اہم رہنما گرفتار ہوگیا تو سندھ کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی آئے گی۔ بہت سے ارکان سندھ اسمبلی بغاوت کے لئے تیار ہیں، ہالا سے پیپلز پارٹی کی ایک اہم شخصیت کسی بھی وقت 25 سے 30 اراکین کے ساتھ ہم خیال گروپ بنا کر سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔

اس وقت سندھ کے تمام شہروں بالخصوص کراچی سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد تحریک انصاف میں شامل ہورہی ہے۔ حال ہی میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر حاجی مظفر علی شجرہ بھی ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔ مظفر علی شجرہ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر بھی رہے ہیں اور وہ جلد بہت سے لوگوں کی تحریک انصاف میں شمولیت بھی کروائیں گے۔ دیہی سندھ کے شہروں میں جہاں صرف جئے بھٹو کا نعرہ لگتا تھا وہاں جئے عمران کا نعرہ لگ رہا ہے۔ تحریک انصاف سندھ کی دوسری بڑی جماعت بن چکی ہے مگر یوں لگتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کا سندھ سے بھی صفایا ہوجائے گا کیونکہ سندھ میں تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو پریشان کر دیا ہے۔

سندھ میں احتساب کا جھاڑو چلے گا تو بہت سے اراکین نااہل بھی ہوں گے اور بہت سے ہم خیال گروپ بنا کر پیپلز پارٹی سے بغاوت بھی کر دیں گے۔ پیپلز پارٹی کے کئی اراکین ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور فہمیدہ مرزا سے رابطے میں ہیں۔ تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے وفاقی حکومت میں اتحادی ہیں اور یہ اتحاد سندھ میں بھی مضبوط ہو رہا ہے۔  یہ اتحاد اور پیپلز پارٹی کا ہم خیال گروپ مل کر سندھ میں حکومت قائم کر لے گا۔ پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت بنانے کے باوجود عوامی حمایت کھو چکی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کی نے اپنے کارکنوں کو اہمیت دینے کے بجائے دیگر جماعتوں سے آئے لوگوں کو اہمیت دی اور پارٹی ٹکٹیں وڈیروں میں تقسیم کر دیں۔ کسی بھی جماعت کے کارکن پارٹی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہوچکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ کی بدلتی سیاسی صورتحال سے پریشان ہیں، انہوں نے سندھ میں تنظیمی سیٹ اپ بدلنے کا بھی عندیہ دیا ہے مگر اب بہت وقت گزر چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم حسین بھی کرپشن مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ سندھ کے سابق وزیر قانون ضیا الحسن لنجار بھی نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں سندھ میں احتساب کی لہر میں اضافہ تیزی آنے کا امکان ہے جس کے بعد سندھ میں مزید ڈرامائی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube