Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

پی ٹی آئی کا اصل مقابلہ پنجاب میں

SAMAA | - Posted: Aug 27, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 27, 2018 | Last Updated: 3 years ago

عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد وفاق سمیت پاکستان کے تین صوبوں میں حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہے۔ جبکہ سندھ میں شہید بھٹو کی انتخابی کروٹ کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی 2013 کی نسبت زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ہونے والی اٹھارہویں ترمیم کے بعد چند وزارتیں ہی ایسے ہیں۔ جو کہ وفاق کے پاس باقی بچی ہیں۔ جن میں وزات خارجہ، وزارت خزانہ اور وزارت دفاع اہم ترین ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں فتح کے بعد پی ٹی آئی کو وفاق، خیبر پختونخوا اور بلوچستان (جہاں اس کی اتحادی حکومت ہے) میں تو کارکردگی دکھانا ہی ہے۔ لیکن وزیراعظم عمران خان کی جماعت کو سب سے زیادہ توجہ پنجاب پر دینا ہوگی۔ جہاں پچھلے 10 سالوں تک پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت رہی ہے۔ جس کے وزیراعلی صدر پاکستان مسلم لیگ نواز میاں شہباز شریف تھے۔ جو کہ اپنی انتظامی صلاحیتوں اور انتھک محنت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔

دیکھا جائے تو پنجاب پاکستان کی پوری آبادی کا نصف سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیحاظ سے اگر پی ٹی آئی کی حکومت بے شک وفاق میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوجائے۔ لیکن اگر عمران خان کےمنتخب کردہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی حکومت پنجاب میں کامیابی نہیں دکھاتی۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تحریک انصاف کی کارکردگی سے بہتر کارکردگی شہباز شریف کی حکومت کی تھی۔ عمران خان کی طرف سے پنجاب کے وزیراعلی کیلئے منتخب کردہ عثمان بزدار کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور میڈیا کی اطلاعات کے مطابق عثمان بزدار کا اپنا گھر اور علاقہ آج بھی بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ جس کی وجہ سے عثمان بزدار کو پاکستان کی 52 فیصد عوام پر حکمرانی کرنے کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔ پنجاب کیلئے قدرے کمزور وزیراعلی کا چناؤ اس لئے سمجھ میں آتا ہے۔ تاکہ عمران خان اور اُن کے قریبی رہنما اسلام آباد سے بیٹھ کر پنجاب کے معاملات چلا سکے۔ چنانچہ عمران خان کو ایک ایسا کمزور اور وفادار وزیراعلی درکار تھا۔ جو کہ عمران خان کے احکامات کو من و عن بغیر کسی اعتراز کے مان سکے۔

عمران خان کی طرف سے پیش کئے گئے 100 دنوں کے ایجنڈے کو ویسے تو بنیادی طور پر پورے ملک کیلئے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اگر حقائق کو دیکھا جائے تو چاروں صوبوں میں سے سب سے بہتر حالت میں صوبہ پنجاب ہی ہے۔ جہاں ناصرف بجلی کی لوڈ شیڈنگ باقی صوبوں کی نسبت بہتر ہیں۔ بلکہ صحت اور تعلیم کی سہولیات بھی بہترین حالت میں نا سہی۔ لیکن دیگر تینوں صوبوں کی نسبت بہتر حالت میں پائی جاتی ہیں۔ پچھلے 10 سالوں میں پنجاب میں ہونے والی ترقی اور ڈیویلپمنٹ کا کریڈٹ بنا کسی شک و شبہ کے شہباز شریف کو جاتا ہے۔ جو کہ اپنے دن کا آغاز صبح 6 بجے کرتے تھے اور رات گئے تک بیروکریسی کو اپنی انگلیوں پر نچواتے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ شہباز شریف کی طرف سے پنجاب کے دیگر علاقوں کی نسبت شہری علاقوں اور خاص کر لاہور پر ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصّہ لگایا گیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی پنجاب کے دیگر علاقوں میں سہولیات دستیاب ضرور ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی حالت میں ہوں۔ ایسی صورتحال میں جب کہ 10 سالوں تک پنجاب میں شہباز شریف جیسے پھرتیلے اور چکنے وزیراعلی ایکشن میں رہے۔ اب عمران خان کی طرف سے عثمان بزدار کا انتخاب عمران خان کیلئے سیاسی غلطی ثابت ہوسکتی ہے اور اس کی وجہ یہ کہ عمران خان کو اگر وفاق میں خارجہ پالیسی، دفاع اور معیشت جیسےبڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ تو عمران خان کو اُس عوام کیلئے بھی کچھ کرنا ہے۔ جس کے 1 کروڑ 68 لاکھ ووٹوں سے عمران خان اور ان کی حکومت وفاق، پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں اقتدار میں آئی ہے۔ عمران خان کو پنجاب میں رہنے والی آدھی سے زیادہ آبادی کے مسائل حل کرنے ہیں اور شہباز شریف کی حکومت سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھانی ہے۔ جسے انتخابات میں نشستیں تو پی ٹی آئی سے زیادہ ملیں۔ لیکن اتحادی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی مدد سے تحریک انصاف پنجاب میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube