Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

قومی اسمبلی یا مچھلی بازار؟

SAMAA | - Posted: Aug 20, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 20, 2018 | Last Updated: 3 years ago

تحریر: نازیہ ناز

قائد ایوان کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو پوری قوم نے وہی تماشہ دیکھا جو اس سے پہلے اسمبلی میں دیکھا جاتا تھا۔ نئے پاکستان کی اسمبلی میں کچھ بھی نیا نہیں تھا، سب کچھ پہلے جیسا تھا وہی شور شرابہ، وہی ایوان کی بے توقیری جیسے کوئی مچھلی بازار ہو۔ عمران خان کی تقریر کے دوران مسلم لیگ (ن) کے اراکین کا احتجاج سمجھ میں آتا ہے کیونکہ وہ انتخابات اور انتخابی نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کا کام ہی احتجاج کرنا ہے۔ میں سمجھتی ہوں مسلم لیگ (ن) کے اراکین بھی مہذب طریقے سے اپنا ریکارڈ کراسکتے تھے مگر ایسا کرنے میں وہ ناکام دکھائی دیئے۔

اپوزیشن کا احتجاج تو سمجھ آتا ہے مگر مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی تقریر پر حکومتی بینچوں پر بیٹھے اراکین کا احتجاج اور شور شرابہ سمجھ سے بالاتر تھا۔ حکومتی اراکین کو دل بڑا رکھنا چاہیے اور تنقید برداشت کرنی چاہئے مگر قومی اسمبلی کا ماحول خراب کرنے میں اپوزیشن اراکین سے زیادہ حکومتی اراکین کا کردار زیادہ تھا۔ شاید تحریک انصاف کے اراکین اب تک خود کو اپوزیشن میں سمجھ رہے تھے یا پھر پہلی مرتبہ حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے اراکین یہ نہیں جانتے کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے اراکین کی یہ اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔ جو کچھ تحریک انصاف کے اراکین کرتے رہے اس پر شاہ محمود قریشی جیسے سینئر سیاستدان کی خاموشی حیران کن تھی۔ شاہ محمود قریشی پارلیمانی سیاست کا تجربہ رکھتے ہیں، وہ ماضی میں حکومتی بینچوں پر بھی بیٹھتے رہے ہیں اور اپوزیشن کا حصہ بھی رہے ہیں۔ اگر قریشی صاحب اپنے اراکین کو خاموش کرا دیتے اور حکومتی اراکین شہباز شریف کی تقریر تحمل سے سن لیتے تو اس کا فائدہ تحریک انصاف کو ہوتا۔

شہباز شریف کی تقریر میں سوائے دھاندلی کے شور کے کوئی مثبت بات نہیں تھی۔ انہوں نے قومی ایشوز پر کوئی بات نہیں کی اور نا ہی عوامی مسائل پر گفتگو کرنا مناسب سمجھا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین اور منتخب وزیراعظم عمران خان کی تقریر بھی بہت زیادہ بااثر نہیں تھی لیکن ان کا یہ پیغام اپوزیشن اراکین کے لئے واضح تھا کہ مجھے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا اور نا ہی مجھ سے این آر او کی امید رکھی جائے۔ جو ہوا سو ہوا مگر آئندہ حکومتی اراکین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور کوشش کرنی ہوگی کہ ایوان مچھلی بازار نا بنے۔ اگر حکومتی اراکین اپوزیشن کو احتجاج کرنے دیں اور جوابی احتجاج کے بجائے شائستگی سے جواب دیں تو اسمبلی کا ماحول خراب نہیں ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خود کو بالغ النظر لیڈر ثابت کرتے ہوئے ایک بہت ہی مثبت تقریر کی۔ اگر بلاول بھٹو کی تقریر کا موازنہ کیا جائے تو بلاول بھٹو کی تقریر منتخب وزیراعظم عمران خان اور شہباز شریف سے زیادہ بااثر تقریر تھی۔ بلاول بھٹو نے عمران خان کو مبارکباد دی مگر طنزیہ طور پر عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہہ کر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرا دیا۔ بلاول بھٹو نے ادب و احترام سے اور بغیر کسی شور شرابے کے وہی موقف اختیار کیا جو شہباز شریف کا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے مگر بلاول بھٹو کا انداز بیان مختلف تھا۔ مجھ سمیت پوری قوم ایوان میں بیٹھے دونوں اطراف کے اراکین سے یہی امید کرتی ہے کہ وہ ایوان کو مچھلی بازار بنانے اور اکھاڑہ بنانے کے بجائے ایوان کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے قومی ایشوز اور عوامی مسائل پر بات کریں گے اور ملک و قوم کی بہتری کے لئے بہترین قانون سازی کریں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube