Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

قسمت کے نرالے رنگ

SAMAA | - Posted: Aug 20, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Aug 20, 2018 | Last Updated: 3 years ago

سیاست کا کھیل بہت ہی نرالا ہے، نصیب کب مہرباں ہوجائے، قسمت کی دیوی کب منہ موڑ لے؟ کسی کو کچھ خبر نہیں۔ ن لیگ کو ہی لیجئے، کل تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ میاں برادران جو آج کل بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں، مقدر کے سکندر تھے۔ تخت لاہور ہو یا مرکزی سرکار، ان کی ایک جنبش سے کیا سے کیا ہوجاتا تھا۔ مگر پھر یوں ہوا کہ جس سرکارنے دھرنا گردی کا ڈٹ کرمقابلہ کیا وہ پانامہ گردی کی لپیٹ میں آگئی۔ معاملات پھر بھی ٹھیک ہوسکتے تھے اوربڑے میاں مصاحبین خاص کے نرغے میں نہ پڑتے۔ لیکن وہ نواز شریف ہی کیا جواپنے پیروں پرکلہاڑا نہ مارے۔ خود کو للکار بریگیڈ کے مشوروں پرچھوڑا ۔ للکار بریگیڈ نے قومی اداروں پریلغار کرکےمیاں برادران کی ایمپائرکا بٹھہ بٹھا دیا، پھر الیکشن میں تبدیلی کے دعویداروں نے اس گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دے ڈالا۔

قسمت کے یہ نرالے رنگ ڈھنگ دیکھ لیں کہ جس عمران کو وہ سیاست سے آوٹ کرنا چاہتے تھے آج خود ان کے مستقبل پر تالے لگ چکے ہیں۔ عمران خان سیاست کے کھیل میں ہیں۔ بڑے میاں اڈیالہ جیل میں ہیں۔ اقتدار کے ایوان سے زندان تک کا فاصلہ تو ویسے چند کلومیٹر کا ہے۔ لیکن منٹوں کی یہ مسافت طے کرنے میں اب شاید نواز شریف کوبرس ہا برس لگ جائیں۔

جس دن اراکین اسمبلی حلف اٹھا رہے تھے اسی دن نواز شریف کو بکتربند گاڑی میں احتساب عدالت پیشی کے لیے لایا گیا، وہاں جیت کے شادیانے بج رہے تھے یہاں غم و الم کے فسانے ۔۔ بکتربند گاڑی کے موٹے شیشے کے اس پار، میاں صاحب غم و یاس کے مجسم بنے تھے۔ ان کے چہرے سے بے بسی، بے کسی، لاچارگی، مظلومیت اور خودترسی ٹپک رہی تھی۔

بڑے میاں کے اس خوفناک انجام کو سامنے رکھ کر عمران خان بھی سوچیں کہ سیاست کے اس کھیل میں کوئی کسی کا اپنا نہیں، کارکردگی ہی نیا پارکرسکتی ہے۔ عوام سے کیے گیے وعدے وفا نہ ہوئے تو انجام اس سے بھی بھیانک ہوسکتا ہے۔ قومی اسمبلی کے پہلے دن کا ماحول دیکھ کرلگا شاید اپوزیشن کا رویہ بدل گیا ہے لیکن اس کے ایک روز بعد ہی اپوزیشن نے اپنی اصل رنگ دکھائی۔ قومی اور پنجاب اسمبلی میں جو ٹریلر چلا ہے اس سے واضح ہے کہ اگلے پانچ برس کپتان اور کھلاڑیوں کے لیے کتنے کٹھن ہونگے۔ ایوان کے اندر اور باہر دونوں محاذوں پرمشکل صورتحال کا سامنا ہوگا۔

دھاندلی کے خلاف دھرنا دینے کی جس ریت کی بنیاد تحریک انصاف نے ڈالی ہے اسی پر اب اپوزیشن عمارت تعمیر کرے گی، اگرچہ اس مجموعی صورتحال میں پیپلزپارٹی کا کردار ذرا مختلف رہا ہے۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، قانون سازی ہو، بجٹ یا پھر دیگر حکومتی معاملات، اپوزیشن نئی سرکار کو لوہے کے چنے چبوائے گی۔

اسی لیے کپتان اینڈ ٹیم ابھی سے تیاری پکڑلیں وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ شروعات میں اگرچہ معاملات خوش کن دکھائی دے رہےہیں لیکن وقت تیوربدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتا۔ اس قوم کو جو خواب دکھائے گئے ہیں، جو امیدیں دلائی گئی ہیں، جو بڑے بڑے وعدے کیے گئے ہیں، وہ بھی تو پورے کرنے ہیں۔ سعودی عرب اور چین کی جانب سے اچھے اشارے ملنے کے بعد معاشی صورتحال سال بھر کے لیے نہ سہی کچھ ماہ کے لیے سنبھل جائے گی لیکن آگے کیا کرنا ہے؟ یہ ابھی سے طے کرنا ہے۔ قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا ہے۔

وزیروں مشیروں کے پروٹوکول کے خاتمے کا وعدہ کرکے عمران خان نے عوام سے شاباشی سمیٹی ہے لیکن یہ واہ واہ کہیں کراہ میں نہ بدل جائے۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ عمران خان ابھی سے پالیسی بنائے اور اسے عملی شکل دیں کہ خواص کو عوام پر کوئی فوقیت نہیں۔۔ بے بس شہری اب قاتل پروٹوکول کی بھینٹ نہیں چڑھیں گے۔

کراچی میں اپنے ایم پی اے کی داداگیری کا نوٹس اور پھر مذکورہ رکن صوبائی اسمبلی کا متاثرہ شخص سے معافی ، یقیناً پی ٹی آئی کی قیادت بہت میچور سیاست کرنے لگی ہے۔ ویسے بھی اکثریت حاصل کرنے کے بعد عمران خان بہت سوچ سمجھ کر قدم رکھ رہے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ اقتدار کی تنی رسی پر چلنا ہر کسی کے بس میں کہاں۔ اس میں معمولی سی لغزش بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

آخر میں اسلام آباد کے ایک ڈھابہ ہوٹل میں کام کرنے والے کھلاڑی کا مشورہ کہ اگر عمران خان ان تمام غلطیوں سے بچ جائیں جو نواز شریف نے کی ہے تو سیاسی پچ پر انہیں کوئی بھی نہیں پچھاڑ سکتا۔۔ گردن میں سریا آگیا تو پھر قسمت ستم ڈھانے میں کسی کی خاطر داری نہیں کرتی۔ چاہے وہ میاں صاحبان ہوں یا پھرکوئی اور بھولو پہلوان۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube