Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

پرانے چہرے اور نئی تبدیلی

SAMAA | - Posted: Aug 18, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 18, 2018 | Last Updated: 3 years ago

مجھے بہت امید تھی کہ عمران خان واقعی تبدیلی لانے کے خواہشمند ہیں مگر اب یوں لگتا ہے جیسے وہ صرف اپنی حکومت لانے کے خواہشمند تھے۔ عمران خان جس پرویز الہی کو ڈاکو کہتے تھے وہ تحریک انصاف کی مدد سے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوچکے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کو پنجاب اسمبلی کا اسپیکر بنا کر عمران خان نے تبدیلی کا جنازہ نکال دیا ہے۔

چہرے بدلنے سے تبدیلی ممکن نہیں، تبدیلی تبھی ممکن ہے جب نظام کو بدلا جائے مگر عمران خان نظام بدلنا تو دور چہرے بھی نا بدل سکے۔ دو ہزارہ تیرہ میں جس چوہدری سرور کو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے پنجاب کا گورنر مقرر کیا تھا اسی چوہدری سرور کو عمران خان گورنر پنجاب نامزد کرچکے ہیں۔ جس پرویز الہی کو عمران خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے لئے سپورٹ کیا وہی پرویز الہی انیس سو ستانوے میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی جانب سے اسپیکر پنجاب اسمبلی نامزد اور منتخب ہوئے تھے۔ حیرانگی اس بات کی بھی ہے کہ عمران خان کو اتنے اہم عہدے کے لئے اپنی جماعت میں کوئی بھی اہل شخص نظر نہیں آیا۔ اگر عمران خان چاہتے تو کسی نوجوان اور نئے رکن کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنوا سکتے تھے اور چوہدری پرویز الہی کو مرکز میں کوئی وزارت دے سکتے تھے مگر عمران خان نے پرویز الہی کو قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے مستعفی ہونے اور پنجاب اسمبلی کی نشست رکھنے کا کہا، مطلب عمران خان پہلے ہی پرویز الہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔

دوسری طرف عمران خان کو ایسی جماعت سے ہاتھ ملانا پڑا جس کو عمران خان کبھی کراچی کی دہشتگرد جماعت کہتے تھے تو کبھی بھتہ خور جماعت، کبھی قاتلوں کا ٹولہ تو کبھی زندہ لاشیں۔ عمران خان نے کراچی کے شہریوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں ایم کیو ایم سے نجات دلائیں گے، عوام نے دل کھول کر ووٹ بھی دیا اور تحریک انصاف کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی مگر حکومت بنانے کے لئے عمران خان نے پھر کراچی کے شہریوں پر ایم کیو ایم کو مسلط کر دیا جس سے وہ نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ تبدیلی کا جنازہ نہیں تو اور کیا ہے؟

عمران خان نے حکومت بنانے کے لئے ہر وہ کام کیا ہے جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ عمران خان جن پارلیمنٹیرینز کو کرپٹ کہتے تھے وہی آج ان کی جماعت کا اہم حصہ ہیں اور وہ پارلیمنٹیرینز تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا بھی حصہ ہوں گے۔ میری تحریک انصاف کے ایک اہم اور مرکزی رہنما سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ عمران خان نے جن جماعتوں اور کرپٹ لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کیا وہ ان کی مجبوری تھی کیونکہ حکومت بنانے کے لئے نمبر گیم پورا کرنا ضروری ہے مگر عمران خان کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے اور کرپٹ لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی، سب کا احتساب ہوگا چاہے تحریک انصاف کا کوئی رہنما ہی کیوں نا ہو۔  میں امید کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ تحریک انصاف کے رہنما نے جو کچھ مجھ سے کہا وہ سچ ہو کیونکہ اگر ایسا نا ہوا تو پھر یہ قوم کسی بھی سیاستدان کا یقین نہیں کرے گی اور اگر تمام سیاستدانوں سے اس قوم کا بھروسہ اٹھ گیا تو اس جمہوری نظام سے بھی عوام کا بھروسہ اٹھ جائے گا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ پرانے چہروں کے ساتھ تبدیلی نہیں لاسکتے، عمران خان کو پہلے سو دن میں عوام کو اپنے عمل سے یقین دلانا ہوگا کہ وہ واقعی نظام بدلنا چاہتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube