کیا مودی اپنی تقریر پر عمل کرپائیں گے؟

August 17, 2018

پاکستان اور بھارت کا یوم آزادی ایک دن کے وقفے سے منایا جاتا ہے اور اس موقعے پر دونوں ممالک کی حکومتوں کے سربراہ جہاں پچھلے برسوں کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہیں وہاں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے بارے میں بھی بہت کہا جاتا ہے۔ ان بیانات میں کچھ تو روایتی اور رٹے رٹائے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آنے والے دنوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں اس کے باوجود یا تو دونوں ممالک کے تعلقات تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں یا پہلے سے بھی بد تر صورت حال اختیار کر لیتے ہیں جس کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس بار پاکستان کے صدر ممنون حسین نے یوم آزادی کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق کشمیریوں کی سیاسی و اخلاقی حمایت ہمیشہ جاری رہے گی۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نے جہاں اپنے دور میں ہونے والی معاشی ترقی پر گفتگو کی وہاں سماجی انصاف کا بھی ذکر کیا اور ملک میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے ساتھ جلیانوالہ باغ میں پیش آنے والے آزادی کے ان متوالوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو برصغیر کی آزادی کی جدو جہد کرتے ہوئے لگ بھگ سو سال قبل جنرل ڈائر کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔ دوہزارہ تیرہ سے لے کر اب تک ہونے والی ترقی کے ساتھ انہوں نے زراعت کے شعبوں میں پیش کیے جانے والے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور خواتین کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو بھی خاص طور پر موضوع تقریر بنایا ۔ بھارت میں مسلمان خواتین کے تین طلاقوں کے مسئلے پر بھی انہوں نے کچھ لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر فخر کا بھی اظہار کیا کہ ان کے ملک کی تین خواتین سپریم کورٹ میں ججز کے فرائض انجام دے رہی ہیں ۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کشمیر یوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر تو نہیں کیا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی بات کہی ہاں اس سلسلے میں داخلی طور پر کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے ان کے دعوے پہلے سے ذرا مختلف ضرور دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر میں گولی اور گالی کا راستہ اپنانے کے بجائے لوگوں کو گلے لگانے پر یقین رکھتے ہیں اور اٹل بہاری واجپائی کے نعرے انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کا بھی ذکر کیا۔ مگر ان کے اس دعوے پر تب تک یقین نہیں کیا جا سکتا جب تک مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجوں کو واپس نہیں بلایا جاتا، کشمیری لیڈروں کی نقل و حرکت پر لگائی گئی پابندی کو ختم نہیں کیا جاتا اور نوجوانوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کو ختم کرنے کے بعد وہاں پر امن و امان کی صورت حال کو اس قابل نہیں بنایا جاتا کہ اس مسئلے پر بات چیت کا کا آغاز ہو سکے۔

اقتدار میں آنے سے قبل ہی عمران خان نے دوسرے ممالک کے علاوہ بھارت سے بہتر تعلقات کی جو بات کی تھی نریندر مودی کو اس میں چھپے ہوئے اس پیغام کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے مسائل کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان میں الیکشن کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور بھارت میں آئندہ سال الیکشن منعقد ہو ں گے۔ بھارتی حکومت کے پاس ایک سنہری موقع موجود ہے کہ وہ نئے الیکشن سے قبل کشمیریوں کے رخموں پر مرہم رکھتے ہوئے پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے خاتمے کی راہ بھی تلاش کرے تاکہ الیکشن سے قبل اس کے ماتھے پر لگے ہندو بنیاد پرستی کے بہت سارے نشانات نہ سہی کچھ تو ختم ہو سکیں اور نریندر مودی نے اپنی تقریر میں جو دعوے کیے ہیں ان کو بھی حقیقت کا روپ مل سکے۔