Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

جتنا بڑا جرم، اتنی بڑی سہولتیں

SAMAA | - Posted: Aug 16, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Aug 16, 2018 | Last Updated: 3 years ago

قیدیوں اور قید خانوں کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی انسان کی ،پہلے کے دور میں باضابطہ قید خانے تو نہیں ہوا کرتے تھے بس قیدی کو ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا تھا اور باہر پہر ا دار بٹھا دیا جاتاجہاں پر قیدی اُس پہرے دار کے رحم و کرم پر ہوتاتھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اورعمرانی ڈھانچےمیں تبدیلیاں آتی گئیں۔سلطنتیں بنی تو شاہی قیدخانے بھی وجود میں آئے جہا ں باغیوں ،جرم کرنے والے اور دشمنوں کو قید کیا جاتا تھا۔قیدیوں اورباغیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن میں بہتری آتی گئی تو لوگوں کی توجہ انسانی حقوق کی جانب مبذول ہو گئی اور ان قید خانوں کی بہتری کے لیے بھی کوششیں شروع ہوگئیں ۔

آج پوری دنیا کے ہر ملک میں جیل قائم ہے اور سب کے اپنے اپنے نظام ہے۔ مغربی ممالک میں قید خانوں کا نظام بہت عمدہ ہےلیکن برصغیر میں قید خانوں کا نظام انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔دنیا میں ایک جیل ایسی بھی ہے جو قیدیوں کے لے جنت سے کم نہیں۔ ناروے کی ایک جیل دارالحکومت اوسلو سے جنوب میں واقع باستوئی کی جیل میں قید لوگوں کو پرسکون دیہاتی ماحول میں گھومنے پھرنے کی پوری آزادی ہے جہاں وہ چاہیں تو جانوروں کی دیکھ بھال بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں قیدی برف پر اسکیئنگ کرتے ہیں، ٹینس کھیلتے ہیں اور شام کو تاش بھی کھیلتے ہیں۔اس میں تمام قیدیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو تا ہے، جہاں قیدیوں کو راہ راست پر لانے کے لیے مثبت اصولوں پر کام کیا جاتا ہیں جسے آپ ’معمول کا اصول‘ کہہ سکتے ہیں۔اس جیل میں قیدیوں کے لے ورکشاپ ہوتے ہیں۔ ورکشاپ کے بعد جیل کے اندر قیدیوں کی تفریح کے لیے موجود ’میوزک اسٹوڈیو‘ ہے جہا ں کئی قسموں کے گِٹار، ڈرم (ڈھول) اور میوزک کا انتظام بھی ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں سے رہا ہونے والے بیشتر قیدی جرائم کی دنیا سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔
ہمارے وطن ِعزیز پا کستان میں تقریباً99کے قریب قید خانے ہیں،جن میں آدھے انگریزں کے دورِقیادت میں تعمیر کیے گئے تھے۔ان قید خانوں کی مسلسل دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت اتنی خستہ ہوچکی ہے کہ اب یہ رہائش کے قابل نہیں رہے پھر بھی اس وقت 80169قیدی قید میں ہیں۔ پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کیلئے تین کیٹیگریز ہوتی ہیں۔پنجاب کی 42 جیلوں میں سے صرف بہاولپور اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اے کلاس کی سہولتیں میسر ہیں۔اے کلاس اعلیٰ سرکاری افسراوروزرا کو ملتی ہے،چاہے وہ کتنا بڑا مجرم ہو۔اس میں دو کمرے،کچن، ایک بیرک ہوتی ہے،ائیر کنڈیشن،فریج،اخبار،ٹی وی،دو مشقتی بھی دیئے جاتے ہیں۔بی کلاس اچھے لٹیروں کو ملتی ہے چاہے جتنا بڑا مجرم ہو،اس میں ایک کمرہ اٹیچ باتھ،پنکھا،ٹی وی،اخبار اور ایک مشقتی فراہم کیا جاتا ہے۔سی کلاس غریب غربا ءکیلئےہے، جہاں سونے کیلئے بھی جگہ نہیں ملتی،لیٹرینوں کی صفائی سے لیکر جیل بھر کی صفائی کرائی جاتی ہے۔ہر وقت بے عزتی،گالیاں،مارکٹائی الگ سے ہوتی ہے۔پاکستانی جیلوں کے قانون پر تبصرہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے جتنا بڑا جرم، اتنی بڑی سہولتیں،جیل میں ایک تو اعلی قسم کے قیدی ہوتے ہیں جن میں سیاسی اور مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان شامل ہوتے ہیں ۔انہیں جیل میں الگ کمرے دیئے جاتے ہیں۔وہ اپنے گھروں کو خط لکھ سکتے ہیں ،ا ن کو موبائل فون رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔بیماری کی صورت میں وہ جیل کے مقرر کردہ سرکاری ڈاکٹر کے بجائے اپنے نجی ڈاکٹر سے اپنا علاج کرواتے ہیں۔جیل کا کھانا ان کے لاڈلے معدے کو راس نہیں آتا اوروہ اپنا کھانا باہر سے منگواتے ہیں۔اپنے الگ کمرے میں بیٹھ کر اپنے خیالات پر مبنی آپ بیتی لکھتے ہیں۔ماضی میں اور آج بھی بڑے بڑے سیاست دان جیل کی ہوا کھا چکے ہیں جیسے ذوالفقارعلی بھٹو،آصف ذرداری ، الطاف حسین اورآج کل بھی پاکستان کے سابق  وزیراعظم نوازشریف ،ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کی سفارش پرمریم نواز کو جیل میں ایئر کنڈیشنڈ کی سہولت بھی دی گئی ہے۔قانون بنانے والے اداروں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے کہ تمام اشخاص قانون کی نظر میں برابر ہوں اور بغیر کسی تمیز و امتیاز کے قانون میں تحفظ کے یکساں حقدار ہوں۔ اگر ایسا نہیں کیا جاسکتا توکم ازکم قیدیوں کو کھلی فضاءکے ساتھ ساتھ تربیت کا انتظامات بھی کئے جانے چاہئے جس سے بطور مجرم آنے والے یہاں سے جانے کے بعد مفید شہری بن سکے ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube