آزاد وطن کے غلام شہری

August 14, 2018

پاکستان کو آزاد ہوئے 71برس ہوچکے ہیں۔ چودہ اگست کو پاکستان کا 72واں یوم آزادی منایا جارہاہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں ایک پاکستانی ہوں اور اس بات پر بھی فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں آزاد پاکستان کی آزاد فضا میں سانس لیتا ہوں۔ جہاں دنیا تیزی سے ہر شعبے میں ترقی کر رہی ہے وہاں پاکستان بھی پیچھے نہیں مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی پاکستان کے بہت سے دیہی علاقوں میں بسنے والے شہری آج بھی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

میں پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سندھی بھی ہوں اور میں اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا کہ سندھ کے دیہی علاقوں کے رہنے والے لوگ آج بھی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ویسے تو جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے ملک بھر میں غریب عوام، کسان، مزدور اور محنت کش افراد کو غلام بنا رکھا ہے مگر سندھ پاکستان کا وہ صوبہ ہے جہاں آج بھی ہاری وڈیروں کے غلام ہیں۔ وڈیرے بائیس سے پچیس ہزار کے عوض غریب ہاریوں سے سال بھر کام کرواتے ہیں اور ہاری اپنی بیوی، بیٹیوں اور بچوں کو بھی کام پر لگا دیتے ہیں۔ بیچارے ہاری سال بھر خاندان سمیت وڈیروں کی زمینوں پر کام کرتے ہیں اور ہر سال وہ مزید قرض کے نیچے دب جاتے ہیں، سندھ میں کتنے ہی ایسے خاندان ہیں جو نسل درنسل قرض اتارنے کے لئے وڈیروں کی زمینوں پر کام کرتے ہیں۔

سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک ہاری پچیس ہزار کے عوض سال بھر کسی وڈیرے کی زمین پر کام کرے گا تو گزارہ کیسے کرے گا، ظاہر ہے وہ قرض لے گا اور ایک غریب ہاری کو کون قرض دے گا، اسی بات کا فائدہ وڈیرے اٹھاتے ہیں۔ وڈیرے ہاریوں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھتے ہیں اور پھر انہیں سود پر قرض دے کر ایک طرف ان پر احسان کردیتے ہیں اور دوسری طرف ان کو کبھی نا اترنے والے بوجھ کے نیچے دبا دیتے ہیں۔ سود پر قرض لینے والا ہاری بمشکل اپنا گزارہ کرتا ہے، قرض کی ادائیگی تو دور دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہوتا ہے۔ جب ہاری قرض ادا نہیں کر پاتا تو وڈیرے سالانہ رقم دینا بھی بند کر دیتے ہیں اور پھر وہ ہاری دو وقت کی روٹی کے لئے زندگی بھر خاندان سمیت وڈیرے کی زمین پر کام کرتا ہے جسے دوسرے لفظوں میں غلامی کہا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی ہاری یا اس کا بچہ وڈیرے سے بغاوت کرے تو اسے وڈیرے کی نجی جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ رواں سال مارچ کے مہینے میں پولیس نے سیشن کورٹ گھوٹکی کے حکم پر نواحی علاقے میں چھاپا مارا اور جبری قید ہاریوں کو مقامی وڈیرے کی نجی جیل سے بازیاب کرایا جن میں ایک ہی خاندان کے 5 مرد، 4 عورتوں اور 12 بچوں سمیت 21 افراد شامل تھے۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، اس طرح کے واقعات سندھ میں ہوتے رہتے ہیں۔

حالیہ انتخابات میں سندھ کے پسے ہوئے ہاریوں کے پاس یہ سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنا مستقبل بدلتے مگر وڈیروں کی غلامی کی وجہ سے غریب کسان اپنا ووٹ بھی اپنی مرضی سے نہیں دے سکے۔ اگر کوئی ہاری یا کسان اپنی مرضی سے کسی کو ووٹ دیتا ہے تو اسے وڈیرے کے گاؤں کو چھوڑ کر جانا پڑتا ہے اس لئے یہ سندھ کے دیہی علاقوں کا اصول ہے کہ اگر وڈیرے کے گاؤں میں رہنا ہے تو وڈیرے کے پسندیدہ امیدوار کو ہی ووٹ دینا پڑے گا۔ چودہ اگست کو 72واں یوم آزادی منانے کے ساتھ پوری قوم کی اور ریاست کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ سندھ کے لاچار اور غریب ہاریوں کو ظالم وڈیروں کی غلامی سے نجات دلائے۔