تحریک انصاف کی حکومت کیلئے اصل چیلنج؟

August 10, 2018

یہ بات لگ بھگ واضح ہوچکی ہے کہ اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف ہی بنائے گی، اگرچہ یہ حکومت اتنی مضبوط نہیں ہوگی جتنی ماضی کی حکومتیں رہی ہیں لیکن یہ اتنی کمزور بھی نہیں ہوگی کہ اپوزیشن کے جھٹکوں کو سہہ نہ سکے۔ موجودہ حکومت کے پاس اپنے آپ کو منوانے کیلئے ابتدائی 4 ماہ  یعنی 120 دن ہی ایسے ہونگے جس سے یہ ظاہر ہوجائے گا کہ پی ٹی آئی حکومت کتنے پانی میں ہے، اس میں کتنی صلاحیتیں ہیں اور یہ اگلے سالوں میں پاکستان کیلئے کیا کر سکتی ہے؟۔

پاکستانیوں نے بڑی امید کے ساتھ عمران خان کو منتخب کیا ہے اور اگر یہ امید ٹوٹتی ہے تو اس کے بعد بہت ہی گہری مایوسی اور اگلے کئی سالوں کا انتظار ہے، آنیوالی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج معیشت ہوگا، آپ کے ہمسائے میں بھارت جیسی بڑی اور طاقتور معیشت موجود ہے جبکہ آپ کی چھت پر چین جیسی مضبوط معیشت بھی موجود ہے۔ اِن دونوں ممالک کی آبادیاں سوا ارب فی ملک سے زائد ہیں، یعنی دوسری طرح سے دیکھیں تو پاکستان کے ہمسائے میں تقریباً 3 ارب نفوس پر مشتمل منڈیاں موجود ہیں۔

ابھی حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ بھارت نے معاشی میدانوں میں فرانس کو بھی پچھاڑ دیا ہے اور یہ اب دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بننے جارہا ہے، فرانس کا جی ڈی پی 2.5 کھرب ڈالر ہے جبکہ بھارت کا 2018ء کا جی ڈی پی 2.6 کھرب ڈالر عبور کرچکا ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ بھارت کی صرف آبادی ہی نہیں بڑھی بلکہ گزشتہ 10 سالوں میں اس کا جی ڈی پی بھی دو گنا ہوگیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگلے 2 سالوں میں بھارت کی جی ڈی پی گروتھ  میں مزید کئی ٹریلین ڈالر اضافہ متوقع ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی معیشت اس وقت امریکا کی ہے، باوجود اس کے کہ امریکا گزشتہ دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے، اس کی معیشت کا کل حجم 20.41 کھرب ڈالر ہے، اس کے بعد چین ہے جس کی معیشت کا حجم 14.09 کھرب ڈالر ہے، یعنی نمبر ون اور ٹو کے درمیان طویل فاصلہ ہے جسے عبور کرنا اتنا بھی آسان نہیں ہے اور اس کیلئے کافی وقت درکار ہوگا۔ اکثر سوال ہوتا ہے کہ چین اتنی بڑی طاقت بن چکا ہے، یہ امریکا کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا کیوں نہیں ہوتا ہے؟، اس کا جواب معیشت کا یہ سمندر ہے جس کو عبور کرنے کی چین کوشش کررہا ہے اور ظاہر ہے ایسی پوزیشن میں امریکا کے سامنے ایک حد سے زیادہ تو کھڑا نہیں ہوا جاسکتا ہے۔ جاپان 5.16 کھجرب ڈالر کے ساتھ تیسرے، جرمنی 4.211 کھرب ڈالر کے ساتھ چوتھے اور برطانیہ 2.94 کھرب ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔

دنیا بھر کی کمپنیاں دھڑا دھڑ بھارت کا رُخ کر رہی ہیں، بھارت کا امپورٹ ایکسپورٹ سے پیدا ہونیوالا تجارتی خسارہ  صرف 78 بلین ڈالر ہے  اور جس طرح سے پوری دنیا کی انویسٹمنٹ بھارت میں جارہی ہے، امید ہے کہ یہ تجارتی خسارہ مزید کم ہوگا۔

بھارت اور چین کے ہمسائے ہم یعنی پاکستانی ہیں، ماشاء اللہ سے ایسی ناشکری قوم بھی اس کرہ ارض پر شاید ہی کہیں ہوگی، اللہ نے ہمیں سمندر، گہرے سمندر، صحرا، میدان، پہاڑ اور بہترین موسم عطا کئے ہیں، لیکن من حیث القوم ہم انتہائی ناسمجھ واقع ہوئے ہیں، پہلے چور ڈاکو حکمران چنتے ہیں، وہ ہم پر نا اہل افسران بٹھاتے ہیں جس کی وجہ سے بدانتظامی ہوتی ہے اور نتیجتاً اللہ کی نعمتیں ضائع ہوتی رہتی ہیں، یہاں تک کے اُن کی قلت ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب ہمارے حکمران ہمیں ہی لوٹ کر دنیا بھر میں جائیدادیں کھڑی کرتے رہتے ہیں لیکن قدرت ہمیں موقع دیتی رہتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ 71 سال اس ملک کو سب نے لوٹا ہے پھر بھی چند سر پھرے پاکستانیوں کی محنت کی بدولت اب بھی ہماری معیشت 41 ویں نمبر پر  ہے، ہماری کل معیشت کا سائز اس وقت 235 ارب ڈالر ہے، یہ دونوں ملک تو ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے تھے لیکن ایک ملک سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن گیا اور دوسرا ملک 41ویں معیشت ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کا حقیقی چیلنج معیشت ہوگا، اس کے بعد تعلیم، صحت اور نظام قانون کا نمبر ہے، پاکستان کی معاشی ترقی کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس ملک میں صحیح اور دیرپا امن آسکے، یہ بھی ممکن نہیں کہ کمزور معیشت کے ہوتے ہوئے مضبوط جمہوریت قائم ہوجائے، ہمارے پالیسی سازوں کو اس لائن پر گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے تاکہ فوکس پیدا کرکے کام کیا جاسکے۔