عمران خان اور سو دن کا پلان

August 10, 2018

تجزیہ: فضل الہی

تبدیلی کسی ایک انسان، کسی ایک سیاسی رہنما یا کسی ایک سیاسی جماعت کے بدلنے سے نہیں آسکتی۔ تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب ایک قوم یا معاشرہ خود کو بدلنے کا فیصلہ کرے۔ تحریک انصاف نے دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور پارٹی چیئرمین عمران خان کو وزیراعظم نامزد کیا جس کے بعد سے سیاسی مخالفین نے عمران خان پر طنزیہ جملوں سے بھرپور لفظی حملے شروع کردیئے ہیں۔ تیس تیس سال تک حکومتوں میں رہنے والے سیاسی رہنما اپنی دور حکومت کی کارکردگی بتانے کے بجائے عمران خان سے جوابات طلب کر رہے ہیں جنہوں نے ابھی تک وزارت عظمی کا تو دور رکن قومی اسمبلی کا حلف نہیں اٹھایا۔

صدر پاکستان نے نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی بھیجی گئی ایڈوائس پر قومی اسمبلی کا اجلاس تیرہ اگست کو طلب کیا ہے جس میں نومنتخب ارکان اسمبلی حلف لیں گے۔ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ملک بھر سے منتخب ہونے والے ارکان حلف اٹھائیں گے۔ ارکان کی حلف برداری کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی کا انتخاب ہوگا جس کے بعد وزیراعظم کو منتخب کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی چیئرمین عمران خان کو وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد کر رکھا ہے جنہیں ایم کیو ایم پاکستان، ق لیگ، عوامی مسلم لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور آزاد امیدواروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف ہیں جنہیں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، پی کے میپ کی حمایت حاصل ہے۔

عمران خان کا پلڑا بھاری ہے اور عمران خان پہلے ہی مرحلے میں وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے۔ عمران خان کا اصل امتحان تب شروع ہوگا جب وہ بطور وزیراعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ ممکنہ طور پر عمران خان سولہ یا سترہ اگست کو حلف اٹھائیں گے۔ سیاسی مخالفین نے عمران خان پر تنقید شروع کردی ہے لیکن باشعور پاکستانی تنقید کے بجائے نئی حکومت اور نئے وزیراعظم کو کم از کم سو دن ضرور دیں گے۔ سو دن بعد ہی حکومت کی کارکردگی دیکھ کر تنقید یا تعریف کی جاسکتی ہے۔ عمران خان نے سو دن کا پلان دیا ہے انہوں نے خود ہی کہا ہے کہ سو دن پارٹی کی عکاسی کریں گے کہ پارٹی کس راستے پر گامزن ہے۔ عمران خان کے سو دن کے پلان میں صحت، تعلیم، زرعی ایمرجنسی، معاشی بحالی، بیوروکریسی اور پولیس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ، پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے اور نیب کو خودمختار بنانے کی منصوبہ بندی شامل ہے جبکہ عمران خان نے جوڈیشل ریفارمز کا بھی وعدہ کیا ہے۔

عمران خان کے سو دن کے پلان میں سینیٹ رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے کیونکہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی اکثریت ہے اور ممکن ہے جلد ہی اپوزیشن جماعتیں چیئرمین سینیٹ تبدیل کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے صادق سنجرانی کو ہٹا کر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان کو سینیٹ چیئرپرسن لانے کا فیصلہ کیا ہے جو سینیٹ کی پہلی خاتون چیئرپرسن ہوں گی۔ سینیٹ میں 104 کے ایوان میں تحریک انصاف کے صرف بارہ اراکین ہیں جبکہ مسلم لیگ نے کے 33 اور پیپلز پارٹی کے 20 اراکین ہیں اس لئے تحریک انصاف کی حکومت کیلئے سولو قانون سازی کرنا ناممکن ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ سینیٹ میں عمران خان کے لیے رکاوٹ پیدا نا کریں تاکہ وہ سو دن کے ایجنڈے کے اصلاحاتی پروگرام پر عمل کرسکیں بصورت دیگر تحریک انصاف سو دن کے پلان کی ناکامی کا ملبہ اپوزیشن جماعتوں پر ڈال دے گی۔