عمران خان کا سیاسی مستقبل

August 10, 2018

پاکستان تحریک انصاف کے نامزد وزیراعظم عمران خان دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے۔ اگر عمران خان دو تہائی اکثریت کے بغیر حکومت بناتے ہیں تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئین میں ترمیم کے لئے عمران خان کو دو تہائی اکثریت اسمبلی میں درکار ہوگی جبکہ قانون سازی کے لئے سادہ اکثریت کی ضرورت ہوگی۔ تحریک انصاف کے پاس اس وقت 115 قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لئے 172 ووٹوں کی ضرورت ہے، اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے آزاد امیدوار، ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، بے این پی سمیت چھوٹی جماعتوں کا سہارا بھی عمران خان کو مل گیا ہے مگر اس کے باوجود عمران خان کو دو تہائی اکثریت ملنا مشکل لگ رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری کا یہ دعوی ہے کہ وہ اب تک 170 ارکان کی حمایت حاصل کرچکے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کو اپنی جیتی ہوئی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے، اگر ایسا ہوا تو عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کا سادہ اکثریت حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آرہا اور  اگر عمران خاب سادہ اکثریت کے بغیر وزیراعظم منتخب ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں آئین کے تحت عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے، جس میں قومی اسمبلی کے کل ارکان کے 51 فیصد کی حمایت ضروری ہوگی۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے قرار داد پیش کرنے والے کو 172ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

اگر عمران خان مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بھی ان کو قانون سازی اور بالخصوص آئین میں ترامیم کرنے کے لئے اتحادیوں کو منانا پڑے گا۔ عمران خان وزارت عظمی کی جس کرسی پر بیٹھ کر تبدیلی لانا چاہتے ہیں اس اقتدار کی کرسی کا ایک کونا ایم کیو ایم پاکستان، ایک کونا مسلم لیگ (ق) اور ایک کونا آزاد اراکین کے سہارے ٹکا ہے ایسی صورت حال میں عمران خان سے کسی قسم کی تبدیلی کی امید رکھنا حماقت ہوگی۔ فی الحال تو آزاد اراکین اور چھوٹی جماعتیں بالخصوص ایم کیو ایم پاکستان ان کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کر رہی ہیں لیکن یہ اتحاد کتنے عرصے چلے گا اس بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔

حکومت بنانا، چلانا اور اپنی مدت مکمل کرنا عمران خان کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ قانون سازی اور آئینی ترامیم کے لئے عمران خان کو اپنے اتحادیوں کو راضی کرنا ضروری ہوگا اور مدت مکمل کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ دوسری طرف الیکشن سے قبل عمران خان نے جو بلندوبانگ دعوے کئے تھے وہ وعدے پورے کرنا  عمران خان کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن ہے اور عمران خان کو جلد یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھر جیسے تمام دعوے اور وعدے محض سیاسی بیان تھے۔ عمران خان کو حکومت سنبھالتے ہی سمجھ آجائے گا کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومت پر تنقید کرنا بہت آسان ہے مگر حکومت چلانا آسان کام نہیں۔ میرے خیال میں عمران خان کا مستقبل زیادہ روشن نہیں، ممکن ہے تحریک انصاف کی حکومت مدت مکمل کر بھی لے مگر بطور وزیراعظم عمران خان کا مدت مکمل کرنا ممکن نہیں۔ عمران خان کو جلد ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایسی صورتحال میں مستقبل قریب میں میاں محمد سومرو تحریک انصاف کی جانب سے وزارت عظمی کے لئے نامزد کئے جائیں گے جنہیں اپوزیشن جماعتوں میں سے ایک اہم سیاسی جماعت کی حمایت حاصل ہوگی اور یوں عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کی حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرسکے گی۔