کیا ہم آزاد ہیں؟

August 9, 2018

ماہ اگست شروع ہوتے ہی ملک بھر میں جشن آزادی جوش و جذبے سے منانے کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں، بازار رنگ برنگی جھنڈیوں اور سبز ہلالی پرچموں سے سج جاتے ہیں جبکہ نوجوان، بچے، بوڑھے اور خواتین بھی قومی پرچم، جھنڈیا اور دیگر سامان خریدنے پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام رواں سال 72 واں جشن آزادی منارہی ہے، شہر شہر، گلی گلی محلے، شاہراہیں، عمارتیں اور دیگر مقامات کو خوبصورتی سے سجایا جارہا ہے۔

اس خطے کی تاریخ میں 20ویں صدی کا وسط بہت ہی اہم ہے، جس میں دنیا کے نقشے پر بہت اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں، دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب برطانوی سامراج کا سورج غروب ہورہا تھا تو اُس نے جاتے جاتے بہت سے خطوں کی وحدتوں کو پارہ پارہ کیا، برطانوی سامراج کے زوال اور ہندوستان سے اُس کے اخراج میں عالمی حالات کے ساتھ ساتھ اس خطے کی تحاریکِ آزادی کا بنیادی کردار رہا، اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی شب رات 12 بجے دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت پاکستان کا وجود عمل میں آیا۔

قیامِ پاکستان کے 11 ماہ بعد 9 جولائی 1948ء کو حکومتِ پاکستان نے یادگاری ٹکٹ جاری کیا، جس پر پاکستان کا یومِ آزادی 15 اگست 1947ء کو قرار دیا گیا، لیکن بعد میں 14 اگست کو ہی یومِ آزادی ٹھہرا لیا گیا، قوم جشن آزادی 14 اگست کو منائے یا 15 اگست کو، یہ ضروری ہے کہ اس کے درمیانی وقفے میں کچھ گھنٹے لمحۂ فکریہ کے طور پر بھی گزارے جائیں کہ 70 سال گزرنے کے باوجود بھی ہم آزادی کے ثمرات سے فیض یاب کیوں نہ ہوپائے؟۔

برطانوی سامراج اور گاؤ ماتا کے پجاریوں کے بیچ پھنسے ہوئے مسلمانان برصغیر اپنی طویل اور انتھک کوششوں و بے شمار قربانیاں دینے کے بعد اپنے لئے الگ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جسے پاکستان کہا جاتا ہے، یہ ایسی پاکیزہ اور آزاد سرزمین تھی جہاں مسلمان بغیر کسی خوف اور دباؤ کے دین اسلام کو کامل رہنماء بناکر آزادانہ زندگی گزار سکتے تھے، اسی لیے ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الاللہ‘‘ تحریک پاکستان کا خاص عنصر رہا ہے۔

قائد اعظم نے 1948ء میں اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا "ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایسی جگہ چاہتے ہیں جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں"۔ لاتعداد قربانیوں اور بے انتہاء مظالم سہنے والے بانیان پاکستان کی روحیں آج جب 70 سال سے زائد گزرنے کے بعد کا پاکستان دیکھتی ہوں گی تو شاید انہیں اس قوم پر افسوس ہوتا ہوگا۔

قائد نے کہا تھا کہ ”مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟، پاکستان کا طرز حکومت طے کرنے والا میں کون ہوتا ہوں، مسلمانوں کا طرز حکومت 1300 سال قبل قرآن کریم نے واضح کردیا تھا‘‘۔  ہمیں انگریزوں سے آزاد ہوئے 70 سال سے زائد بیت چکے ہیں لیکن آج بھی ہماری سوچ پر انگریز کی مہر ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ قوم کا ہر نوجوان اور اُس کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

تقریباً تین چوتھائی صدی گزرنے کے بعد بھی ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو یقینی طور پر تسلیم کرسکے کہ بحثیت قوم ہم اور ہمارے ادارے آزاد ہیں، ہم اتنے آزاد ہیں کہ ہماری عدلیہ آج بھی برٹش انڈین ایکٹ 1935ء پر انحصار کر رہی ہے۔ ہماری معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی بیساکھیوں پر کھڑی ہیں جبکہ یو ایس ایڈ اور یو این چارٹر کے سہارے ہمارا تعلیمی نظام ہمیں دن بدن نظریہ پاکستان اور مقصد پاکستان سے دور کرتا چلا جارہا ہے۔ اسی تعلیمی نظام کا نتیجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اسلامی روایات اور تہذیب و ثقافت کو بھول کر مغربیت سے مرعوب دکھائی دیتی ہے، ہمارے اسکولوں کی تربیت یہ ہے کہ اہم ترین تقریبات میں ہمارے بچے مکمل قومی ترانہ نہیں پڑھ سکتے لیکن انہیں سنڈریلا، رابن ہڈ اور ٹارزن جیسے فرضی کرداروں پر مبنی داستانیں رٹی ہوئی ہیں۔

ستر سال سے زائد بیت چکے ہم تب سے آزاد ہیں، کیا ایک آزاد ملک کی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں، کیا ہمیں اپنے مذہبی اور معاشرتی عقائد اور رسومات پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے، کیا ہماری معیشت آزاد ہے، ہمارے ہاں قانون آزاد ہے، لوگ آزاد ہیں، اظہار رائے کی آزادی ہے؟۔ ایک آزاد ملک ہونے کا عمومی مقصد تو یہی ہوتا ہے نا، تو کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟