مشروط نوٹیفکیشن کا معاملہ کیا رنگ لائیگا

August 9, 2018

عام انتخابات کے ٹھیک بارہ دن بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 817 کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئےجبکہ قومی اسمبلی کے بہت سے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن ابھی فی الحال روک لیے گئے ہیں جن میں سےمسلم لیگ ن کے چار اور تحریک انصاف کے چھ امیدوار شامل ہیں۔اِس کےعلاوہ قومی اسمبلی کے پانچ حلقے ایسے بھی ہیں جن کے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری تو کئے گئے لیکن اِنھیں عدالتی فیصلے سے مشروط کردیا گیا ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کامیاب تو پانچ حلقوں سے ہوئے ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے عمران خان کے پانچ میں سے تین حلقوں کے کامیابی کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کئے ہیں جن میں این اے 35 بنوں، این اے 95 میانوالی، این اے 243 کراچی شامل ہیں باقی دو حلقوں میں این اے 131 لاہور اور این اے 53 اسلام آباد کے نوٹیفکیشن روک لیے گئے ہیں۔ اِس حوالے سے انتخابی قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نوٹس جاری کر رکھا ہے جس میں عمران خان نے انتخابات والے دن اپنا ووٹ کاسٹ کرتے وقت کیمروں کے سامنے مہر لگائی تھی۔

اِسی طرح قومی اسمبلی کے حلقے این اے 129 سے مسلم لیگ ن کے کامیاب امیدوار ایاز صادق اور این اے 25 نوشہرہ سے تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک کے کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں جبکہ ایاز صادق اورپرویز خٹک پر الیکشن مہم کےدوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالفین کےلیے نازیبا زبان استعمال کرنے کا الزام ہے۔الیکشن کمیشن نےاِس بات کا نوٹس لیتے ہوئے جلد فیصلہ سنائے جانے کا عندیہ دیا ہے۔اگر الیکشن کمیشن نے فیصلہ اِن تینوں کے خلاف دیدیا تو ایاز صادق اور پرویز خٹک کو تو اپنی اپنی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑینگے ہی ساتھ عمران خان اپنے پانچوں حلقوں سے نااہل قرار دئیے جانے کے بعد وزیراعظم کے عہدے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گےجس کے ساتھ ساتھ حکومت سازی کے عمل کو بھی شدید دھچکا لگے گا جس کے باعث ایک خاص قسم کا سیاسی بحران پیدا ہونے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔ ویسے ہی تحریک انصاف عددی برتری کے حوالے سے گومگو کی کیفیت سے دوچار ہے۔ایسے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے چھ کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کے سبب تحریک انصاف کی 116 نشستوں میں سے کم ہوکر 110 نشستیں رہ گئی ہیں۔اِسی طرح مسلم لیگ ن کی چار پاکستان پیپلزپارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی کی ایک ایک نشست کم ہوگئی ہے۔ایسے میں تحریک انصاف کے لئے حکومت سازی کے عمل کو مکمل کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاجی سلسلہ کل سے شروع ہونے جارہا ہے۔پہلے مرحلے میں تمام اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر کے سامنے احتجاج کرینگی جن کا مقصد الیکشن کمیشن کو پریشر میں لے کر جمہوری اور سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کی جانب سے مشروط نوٹیفکیشن کا جاری کرنا اور بعض امیدواروں کے نوٹیفکیشن روک لینے والا معاملہ جتنا سادہ نظر آرہا ہے ممکن ہے اتنا سادہ نہ ہو۔ تحریک انصاف کےلئے جس طرح حکومت سازی کے عمل کو ممکن بنانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے پارٹی کے اندر جس طرح عہدوں پر شدید اختلاف پایا جارہا ہے ایسی صورتحال میں تو بات بنتی نظر نہیں آتی اور اگر بات بن بھی گئی تو زیادہ دور تک جاتی نظر نہیں آتی ہے۔اگرچہ یہ تحریک انصاف یا عمران خان کے خلاف کوئی سازش ہے تو ریاستی کے اداروں کو اِس حوالے سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کی ضرورت ہے،ممکن ہے اِس سارے کھیل کے پیچھے تحریک انصاف کے اپنے لوگ بھی شامل ہوں۔ٹی وی پر بیٹھے بعض اینکرز پرسن تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم کے بعد سب سے معتبر اور بااثر عہدہ وزارتِ خارجہ کا قلمدان لینے سے انکاری ہیں جبکہ کے اس کے برعکس اسپیکر آف قومی اسمبلی بننے پر راضی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ اسپیکر آف قومی اسمبلی وزیراعظم پاکستان کی غیرموجودگی میں وزیراعظم کا قائم مقام ہوتا ہےجبکہ شاہ محمود قریشی کے اور پاکستان پیپلزپارٹی کے تعلقات بھی اتنے زیادہ خراب نہیں ہوئے کہ جو بحال نہ ہوسکیں بحرحال اللہ کرے ایسے تمام تجزیے اور تبصرے غلط ثابت ہوں اور الیکشن کمیشن ملکی و سیاسی استحکام کےلیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے مشروط نوٹیفکیشن والے معاملے کو جلد از جلد نمٹانے تاکہ عوام کو غیر یقینی سیاسی صورتحال سے چھٹکارہ مل سکے جبکہ ملک میں جلد از جلد اقتدار جمہوری انداز میں منتقل کرکے سیاسی استحکام کی جانب بڑھا جاسکے۔