Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

گوادر کے اصل ہیرو

SAMAA | - Posted: Aug 7, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Aug 7, 2018 | Last Updated: 3 years ago

پاکستان کی ایک نامور شخصیت ملک فیروز خان نون جو کہ برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھےجہاں ان کی ملاقات محترمہ وکٹوریہ ریکھی سے ہوئی ۔ملک صاحب کی دعوت پر انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام وکٹوریہ سے وقار النساء نون رکھ لیا اور فیروز خان کی دوسری بیوی بنیں۔گوادر جو کہ آج ساری دنیا کیلئے سونے کی چڑیا کی حیثیت اختیار کر چکا ہے دراصل وہ ان دو ہستیوں کی وجہ سے پاکستان کی ملکیت ہے، گوادر کا علاقہ اٹھارویں صدی کے خان آف قلات میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھا جسکاآدھا ریوینیو خان صاحب کو دیا جاتا تھالیکن انتظام سارا گچکی قبائل کے ہاتھ میں تھا۔

1783 میں جب عمان کے حکمران کو اپنے بھائی کے ہاتھوں شکست ہوئی تو اس نے خان آف قلات نےاس کی بہتر گزر بسر کی خاطر یہ علاقہ اس شرط پر اسکے سپرد کیا کہ جب سلطان کو ضرورت نہیں رہے گی تب تمام حقوق خان آف قلات کے پاس واپس چلے جائیں گے لیکن ایسا ممکن نہ ہو پایااور جب معاملہ مزید خرابی کی طرف گیا توثالثی کے بہانے برٹش نے مداخلت کردی لیکن عمان سے کچھ مراعات لیکر قلات خاندان کا دعوی ٹھکرا دیا اور بہانہ یہ بنایا کہ مزید گواہیاں سامنے آرہی ہیں حتمی فیصلہ کسی کے حق میں نہیں دیا جاسکتا۔

اس خدمت کے بدلے برٹش نے عمان سے گوادر کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنی افواج گوادر میں داخل کر دیں ہاں البتہ عمان کو آدھا ریوینیو جاتا رہا اس طرح سواسال تک برطانیہ اس علاقہ پر قابض رہا،قیامِ پاکستان کے بعد جب خان آف قلات نے اپنی جائیداد پاکستان میں شاملکرنے کا ارادہ کیا تو گوادر کا معاملہ پھر اٹھایا گیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوسکا اور پھر اسی دور میں ایک امریکی سروے کمپنی نے گوادرکی بندرگاہ کے بہت سارےفوائد بتائے۔

ایران کو جب یہ پتہ لگا تو اس نے اسے چابہار کے ساتھ ملانے کی کوششیں شروع کردیں اس دور میں شاہِ ایران کا طوطی بولتا تھا اور سی آئی اے اس کی پشت پناہی پر تھی صدر نکسن کے زریعے کافی دباو ڈالا گیا کہ گوادر کو شاہِ ایران کے حوالے کیا جائے۔لیکن کوئی کامیابی نہ حاصل ہوسکی۔

1956 میں ملک فیروز خان نون نے وزارتِ خارجہ کا قلمدان اٹھایا تو انہوں نے گوادر کے معاملے کو ہر صورت حل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مشن کو اپنی اہلیہ محترمہ وقار النساء نون کو سونپ دیا جنہوں نےگوادر کے کیس کو برطانیہ کے سامنے رکھا تاکہ ہاوس آف لارڈز سے منظوری لیکر گوادر کا قبضہ واپس لیا جائے۔

اس جنگ کو محترمہ نے دوسال لڑا اور قلم ، دلائل اور گفت و شنید سے اسے جیتا۔عمان کے سلطان سعید بن تیمور نے حامی تو بھر لی لیکن اس کے عوض پیسوں کا مطالبہ رکھا لیکن ملک صاحب اس معاملہ پر ڈٹے رہے اور 6 ماہ کے مذاکرات کے بعد عمان 3 ملین ڈالر کے عوض گوادر کا قبضہ پاکستان کے حوالے کرنے پر راضی ہوگیاجو کہ آج سی پیک تک پہنچ چکا ہے اس کا کریڈیٹ کسی کو بھی دینے سے پہلے اس کے اصل ہیرو اور شخصیات کو قوم سے متعارف نہ کروانا بہت بڑی زیادتی ہوگا۔یہی وہ شخصیات تھیں جنہوں نے گوادر ہمیں دلوایا وہ بھی اس وقت کے سی آئی اے،برطانوی پارلیمنٹ، ایران اور عمان سے لڑ کر جو کہ معرکہ عظیم کی حثیت رکھتا ہے اس گراں قدر خدمت کے بدلے محترمہ کو 1959 میں سرکار کا سب سے بڑا سول اعزاز’ نشان ِامتیاز’ عطا کیاگیا۔

لیکن صرف یہی نہیں اس کے علاوہ ان کی اور بھی بہت سی گراں قدر خدمات ہیں۔جو کہ انہوں نے انتہائی محنت سے ادا کئیں اور آخر کار 16 جنوری 2000 کو طویل علالت کے بعد انہوں نے وفات پائی۔
نون خاندان آج بھی تحصیل بھلوال کے ایک گاؤں نور پور نون میں مقیم ہیں جن میں سے عدنان حیات نون ایم این اے بھی رہ چکے ہیں اس کے علاوہ ان کی اہلیہ ھالیہ حکومت میں وزیر بھی رہ چکی ہیں۔جنہوں نے ملک و قوم کی خدمت کیلئے بہت سے کام کیے۔آج بھی بھلوال میں ان کے نام ہی سے ان کی ایک شوگر مل ‘نون شوگر مل’ چل رہی ہے۔ڈیری پروڈکٹ میں نور پور ملک اور نورپور بٹر نہ صرف مشہور ہے بلکہ ایکسپورٹ بھی کیا جاتا ہے۔
نو دسمبر 1970 کو ملک فیروز خان نون نے وفات پائی اور تحصیل بھلوال کے گاؤں نور پور نون میں ان کی تدفین ہوئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube