Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

پاکستان بدل رہا ہے

SAMAA | - Posted: Aug 7, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 7, 2018 | Last Updated: 3 years ago

تحریر: نازیہ ناز

جی ہاں پاکستان بدل رہا ہے۔ بدلتے پاکستان کی تازہ ترین مثال حالیہ انتخابات کے نتائج ہیں۔ میں یہ اس لئے نہیں کہہ رہی کہ انتخابات میں تحریک انصاف اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے بلکہ اس لئے کہہ رہی ہوں کیونکہ پاکستانیوں نے اپنے ووٹ کا درست استعمال کیا۔ پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات میں پاکستانیوں کی اکثریت نے نئے اور نوجوان امیدواروں کو منتخب کیا اور روایتی سیاستدانوں کو مسترد کرکے تمام سیاستدانوں کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی قوم تبدیلی چاہتی ہے۔

پاکستان میں گیارہویں عام انتخابات کے دوران بہت سے غیر متوقع نتائج سامنے آئے۔ پنجاب کے ضلع جھنگ سے قومی اسمبلی کی نشست پر بھی کچھ ایسا ہی ہوا جہاں ایک خاتون امیدوار نے مدمقابل محمد احمد لدھیانوی کو شکست دی۔ غلام بی بی بھروانہ سے شکست کھانے والے محمد احمد لدھیانوی کالعدم اہلسنت والجماعت کے سربراہ ہیں جو 2009 میں اس وقت سپاہ صحابہ کہلانے والی جماعت کے رہنما علی شیر حیدری کے ایک حملے میں مارے جانے کے بعد پارٹی قائد منتخب کئے گئے تھے۔ حالیہ انتخابات میں عوام نے کالعدم جماعتوں کے نامزد کردہ امیدواروں کو مسترد کیا اور ملک بھر میں انہیں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک اور غیر یقینی اور غیر متوقع نتیجہ لیاری سے سامنے آیا جہاں ایک عام سیاسی کارکن عبدالشکور شاد نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو شکست دی۔ تحریک انصاف کے امیدوار عبدالشکور شاد نے انتخابات سے چند ماہ قبل ہی پیپلز پارٹی کو خیرباد کہا تھا۔ عبدالشکور شاد نے پیپلز پارٹی چھوڑنے سے قبل پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سے ملاقات بھی کی تھی اور اپنے کچھ مطالبات ان کے سامنے رکھے تھے مگر فریال تالپور نے انہیں نظرانداز کردیا کیونکہ وہ عبدالشکور شاد کو ایک عام کارکن ہونے کی وجہ سے بہت معمولی سمجھتی تھیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو گھمنڈ تھا کہ لیاری سے کبھی پیپلز پارٹی نہیں ہاری اور اس مرتبہ تو خود پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو میدان میں ہیں اس لئے جیت سو فیصد یقینی ہے مگر پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت اپنے ہی بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے وہ تاریخی الفاظ بھول گئی کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے۔ موجودہ پیپلز پارٹی وڈیروں اور جاگیرداروں کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتی ہے جن کی مدد سے پیپلز پارٹی مسلسل تیسری مرتبہ سندھ میں حکومت بنانے جارہی ہے۔

عام انتخابات میں بڑے بڑے برج الٹ گئے اور بہت سے عام سیاسی کارکن پارلیمنٹ تک پہنچ گئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان بدل رہا ہے۔ خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، طلال چوہدری، فاروق ستار، مصطفی کمال اور چوہدری نثار جیسے مشہور و معروف سیاستدانوں کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انتخابات میں جو ہونا تھا وہ ہوگیا اب منتخب ہونے والے نمائندوں کو کارکردگی دکھانا ہوگی اور سیاسی تفریق کے بغیر تمام منتخب عوامی نمائندوں کو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا۔

پاکستان کے اگلے ممکنہ وزیراعظم عمران خان نے انتخابات سے قبل تبدیلی کا نعرہ زورشور سے لگایا تھا جس کی بناء پر عوام نے انہیں منتخب کیا اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ ملک میں حقیقی تبدیلی لائیں اور اس تبدیلی کا آغاز انہیں اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا۔ عمران خان کو چاہیے کہ وزارت عظمی کا حلف اٹھانے کے فوری بعد کرپٹ لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کریں کیونکہ جب تک کرپٹ لوگ گرفتار نہیں ہوں گے اس وقت تک ملک کی معیشت نہیں سنبھل سکتی۔ عمران خان کو سب سے پہلے اپنی جماعت کے رہنماؤں کا احتساب کرنا چاہیے اور پھر دیگر سیاستدانوں کا تاکہ یہ تاثر نا ابھرے کہ عمران خان نے انتقامی کاروائی شروع کردی ہے۔ اگر عمران خان کرپشن کو روکنے میں کامیاب ہوگئے تو میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ہمارا پیارا پاکستان بدل جائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube