ہوم   > بلاگز

چار اگست،شہداء پولیس ، ہمارے قومی ہیروز

SAMAA | - Posted: Aug 4, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 4, 2018 | Last Updated: 2 years ago

چار اگست 2010 کو پشاور میں آئی جی ایف سی صفوت غیور کو شہید کیا گیا تھا جس کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی جس کے بعد ملک بھر میں پولیس افسران اور جوانوں کی شہادتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پچھلے سال چار اگست کو قومی سطح پر پہلی بار قومی سطح پر یوم شہداء پولیس منایا گیا تاکہ قوم کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والے ان بہادر پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کیا جاسکے، ساتھ ہی پولیس کے شہداء کے لواحقین کو یہ احساس بھی دلایا جاسکے کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے پولیس افسران و اہلکاروں کے لواحقین کے ساتھ پوری قوم کی ہمدردی موجود ہے۔ صفوت غیور شہید کے علاوہ ایس ایس پی چودھری اسلم کو کراچی میں شہید کیا گیا جبکہ 2013 میں کوئٹہ شہر میں دہشتگردوں نے ڈی آئی جی فیاض سنبل کو شہید کیا۔ پچھلے برس ڈی آئی جی حامد شکیل بلوچستان میں دہشت گردی کا نشانہ بنے، اس سے قبل ایس ایس پی قلعہ عبداللہ ساجد مہمند، ایس پی قائد آباد کوئٹہ مبارک شاہ ، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر عمر الرحمن، انسپکٹر عبدالسلام بنگلزئی بھی ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں میں شہید ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں چار خودکش دھماکوں سمیت 12 حملوں میں 41 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ پنجاب میں بھی پولیس افسران و اہلکاروں کو دہشتگردوں نے شہید کیا جن میں ڈی آئی جی کیپٹن احمد مبین شہید اور زاہد محمود گوندل شہید، عصمت اللہ شہید اور امین شہید سمیت دیگر کئی نام شامل ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس افسران اور جوانوں کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا گیا۔

رواں سال اپریل کے مہینے میں کوئٹہ میں پولیس ٹرک پر خودکش دھماکہ ہوا تھا جس میں، چھ اہلکار شہید ہوئے تھے۔ مارچ 2018 میں رائیونڈ میں ہونے والے خودکش حملے میں نو پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ ایک ہفتے قبل ہی پچیس جولائی کو جب پولنگ کا عمل جاری تھا تو کوئٹہ میں تعمیر نو کمپلیکس پولنگ اسٹیشن کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں تیس افراد جاں بحق جبکہ ستر سے زائد زخمی ہوگئے، دھماکہ پولیس وین کے قریب کیا گیا تھا اس لئے پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد  نشانہ بنی۔ دھماکے میں زخمی ہونے والا ایک نوجوان پولیس اہلکار ایسا بھی تھا جو زخمی ہونے کے باوجود اپنے فرض کی ادائیگی سے پیچھے نہیں ہٹا اور ڈیوٹی نبھاتا رہا، یہ پولیس اہلکار نا صرف میڈل کا حقدار ہے بلکہ ہمارے لئے ایک مثال بھی ہے کہ اگر ہم سچی نیت سے اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ذمے داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

پولیس سمیت دیگر تمام فورسز ملک و قوم کی محافظ ہے لہذا پوری قوم کو پولیس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یوم شہداء پولیس منانا چاہیے۔ پولیس کے شہداء ہماری قوم اور ہمارے ملک کے ہیرو ہیں ہم سب اپنے ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں، ان ہیروز کی قربانیوں کو تاقیامت یاد رکھا جائے گا جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک میں امن و امان اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ یوم شہداء پولیس منانا ایک احسن اقدام ہے جس کا مقصد نہ صرف پولیس کے ان افسروں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے اس ملک کے دفاع اور دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے اور قانون کی بالادستی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا بلکہ پولیس شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی ہے۔ ہم آج کے دن عہد کرتے ہیں کہ ہم پولیس کے شہداء اور ان کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک مادر وطن پاکستان اور ہمارے محافظوں کی حفاظت فرمائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube