Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

ابھی اقتدار کے امتحان اور بھی ہیں۔

SAMAA | - Posted: Aug 1, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 1, 2018 | Last Updated: 3 years ago

آخر کار وہ انتخابات ہوگئے۔ جن کے موئخر ہونے کی افواییں پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت ختم ہونے سے پہلے سے ہی ہورہی تھیں اور انتخابی نتائج بھی توقعات کے عین مطابق آئے۔ جن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنائے گی اور عمران خان وزیراعظم ہوں گے۔ ویسے تو یہ روز آخر کی طرح عیاں ہے کہ وفاق میں حکومت پی ٹی آئی کی ہو گی۔ لیکن نمبر گیم پوری کرنے کے لئے دیگر جماعتوں سمیت آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والوں کو بھی تحریک انصاف میں شامل کیا جارہا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی وفاق میں حکومت تو بن جائے گی۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟۔ وفاق میں حکومت بنانے کے لئے 342 اراکین کی اسمبلی میں 173 اراکین کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ جن میں جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین کے علاوہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین اور اقلیتی اراکین شامل ہوتے ہیں۔ لیکن سادہ اکثریت سے وزیراعظم منتخب کرنے اور کابینہ کے چناؤ کے بعد ہوگا کیا؟۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف چند دیگر چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر اگر اپوزیشن کرتے ہیں۔ تو اگلے پانچ سالوں تک اپوزیشن عمران خان کی حکومت کو لوہے کے چنے چبوائے گی۔ کسی بھی موقع پر اپوزیشن اور خاص کر نواز لیگ کے اراکین اسمبلی تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے خلاف وہی جارحانہ روّیہ اپنائیں گے۔ جو کہ پچھلے پانچ سالوں تک تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی حکمران جماعت نواز لیگ کے اراکین کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے انتخابات سے پہلے ہی بلند و بانگ دعوے کئے گئے ہیں اور عمران خان کی طرف سے تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے 100 دنوں کا ایجنڈا بھی پیش کردیا گیا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے پیش کردہ ایجنڈے پر عمل درآمد کریں گے کیسے؟۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے کئے گئے دعووں میں چند دعوے ایسے بھی ہیں۔ جن کے لئے تحریک انصاف کو آئینی ترامیم درکار ہوگی۔ جس کے لئے وزیراعظم کے چناؤ کی طرح اراکین اسمبلی کی سادہ اکثریت نہیں، بلکہ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ جو کہ تحریک انصاف کبھی بھی حاصل نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ عمران خان کی حکومت کو آئینی ترمیم کے لئے سینیٹ سے بھی منظوری درکار ہوگی۔ جہاں اکثریت پیپلز پارٹی کی ہے اور دوسری بڑی جماعت نواز لیگ ہے۔ جن دونوں کے سینیٹرز کی تعداد سینیٹ کی آدھی تعداد سے زیادہ یعنی 53 ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی میں حکومت بنا بھی لے۔ لیکن کسی بھی قانون سازی کے لئے تحریک انصاف کو سینیٹ کی اکثریتی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے ترلے منتیں کرنا پڑیں گے۔ قومی اسمبلی کے علاوہ اگر تحریک انصاف پنجاب میں بھی حکومت بناتی ہے تو جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کے وعدے کی تکمیل کے لئے تحریک انصاف کو پنجاب اسمبلی میں آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ جو کہ موجودہ حالات میں تو نہیں لگتا کہ تحریک انصاف حاصل کرسکے گی۔

پنجاب کے علاوہ سندھ میں تحریک انصاف کی حکومت کراچی والوں اور سندھ کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کے لئے کوئی خاطر خواہ خدمات سر انجام نہیں دے سکے گی۔ لیکن خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے پاس باآسانی دو تہائی اکثریت حاصل ہوگی۔ جس کے ذریعے عمران خان اپنی مرضی کی آئینی ترامیم کرواسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور تحریک انصاف آزاد اراکین اور دیگر چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر باآسانی حکومت بنا لے گی۔ لیکن اصل مسئلہ صرف حکومت بنانے کا نہیں۔ بلکہ حکومت بنانے کے بعد عمران خان کی طرف سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا ہے۔ جس کے لئے تحریک انصاف کی حکومت کو آئینی ترامیم کرنا پڑیں گی۔ جس کے لئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ عمران خان مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری اور سابق خادم اعلی پنجاب شہباز شریف کو کیسے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترامیم کو منظور کروانے کے لئے راضی کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube