Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

کراچی، انتخابات اور حیران کن نتائج

SAMAA | - Posted: Jul 31, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 31, 2018 | Last Updated: 3 years ago

ایک ماہ قبل میں ٹی وی دیکھ رہا تھا تو پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حیران کن نتائج دے گی۔ انتخابات کے بعد سعید غنی کی یہ بات درست ثابت ہوئی اور کراچی کے علاقے ملیر اور لیاری جسے پیپلز پارٹی کا قلعہ سمجھا جاتا تھا،وہاں سے پیپلز پارٹی کو بھیانک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیاری سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بھیانک ہار نے واقعی سب کو حیران کردیا اور یوں پی پی رہنما سعید غنی کا کہا درست ثابت ہوا۔

انتخابات سے قبل سمجھا جا رہا تھا کہ کراچی کی اکیس میں سے پندرہ قومی اسمبلی کی سیٹیں ایم کیو ایم باآسانی جیت جائے گی مگر جب نتائج سامنے آنا شروع ہوئے تو نتائج صرف ایم کیو ایم کے لئے ہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لئے بھی حیران کن تھے۔ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ایم کیو ایم لندن کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے باعث کراچی سے ایم کیو ایم پاکستان زیادہ نشستیں حاصل نا کرسکی جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو دھاندلی کے ذریعے جتوایا گیا مگر سچ تو یہ ہے کہ عوام نے تحریک انصاف کو دل کھول کر ووٹ دیئے کیونکہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں رہتے ہوئے عوام کو مایوس کیا۔

پچھلے دس سال سے مسلسل سندھ میں حکمرانی کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی کے پاس یہ سنہری موقع تھا کہ وہ کراچی میں ایم کیو ایم کی کمزور پوزیشن کا فائدہ اٹھائے مگر ہوا کچھ یوں کہ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کی ناکام پالیسی اور نااہلی کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے خاطر خواہ نتائج تو نہیں دیئے البتہ لیاری اور ملیر سے شکست فاش ہوئی۔ ملک تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہیں، ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات لگانا ہمارے ملک کے سیاستدانوں کا وطیرہ رہا ہے۔ شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان کی طرح پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ایک ہی پریس کانفرنس میں پہلے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اس لئے ہم نتائج مسترد کرتے ہیں اور اگلے ہی لمحے انہوں نے سید مراد علی شاہ کو سندھ کا وزیراعلی نامزد کردیا۔ کوئی بلاول صاحب سے پوچھے کہ جب انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو کیا پیپلز پارٹی نے سندھ سے 75 نشستیں بھی دھاندلی کے ذریعے حاصل کی ہیں؟۔

عمران خان پانچ سال تک دھاندلی کا شور مچانے کے باوجود خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت بنا کر بیٹھے رہے۔ آج بلاول بھٹو زرداری اور حمزہ شہباز بھی ایک طرف دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں اور دوسری طرف صوبے میں حکومت قائم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ سیاستدانوں کو یہ دوہری پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو کھلے دل سے نتائج تسلیم کرنے چاہیے اور اس روایت کو ختم کرنا چاہیے۔ اب جو بھی عوام کی خدمت کرے گا وہی اگلے انتخابات میں کامیاب ہوگا۔ سیاسی جماعتیں دھاندلی دھاندلی کا رونا بند کریں اور اپنی جماعتوں کے منتخب اراکین اسمبلی کو یہ ہدایت جاری کریں کہ وہ اپنے حلقے کی عوام کی خدمت کریں تاکہ اگلی بار پھر کامیابی مل سکے ورنہ جو سیٹیں حاصل ہوئی ہیں اگلے انتخابات میں اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے کیونکہ اب ملک کی عوام باشعور ہوچکی ہے، اب عوام کو جذباتی نعروں، جھوٹی تسلیوں اور کھوکھلے نعروں کی نہیں بلکہ کام کی ضرورت ہے اس لئے سیاستدانوں کو دھاندلی پر رونے دھونے کے بجائے اپنی شکست کو تسلیم کرنا چاہیے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube