Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

کراچی میں مسلم لیگ نون

SAMAA | - Posted: Jul 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jul 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago

مسلم لیگ پاکستان کے بانیوں کی پارٹی تھی لیکن پاکستان کی آزادی کے بعد یہ پارٹی مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوتی رہی۔ 1970 کی دہائی میں یہ تقریبا ختم ہونے والی تھی۔ 1980 کی دہائی میں مسلم لیگ ن کی وجہ سے یہ پارٹی واپس اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی۔ آج کی مسلم لیگ آل انڈیا مسلم لیگ کا ہی ایک دھڑا ہے۔ 1990 سے1999تک اور 2008سے اب تک مسلم لیگ نون کسی نہ کسی طرح حکومت کا حصہ رہی ہے ۔جہاں تک مسلم لیگ کے کراچی میں مضبوط ہونے کی بات ہے مسلم لیگ نے کراچی کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا۔انہوں نےہمیشہ اپنی سیاست کو محور پنجاب کو ہی رکھا مگر کراچی سے اچھے اور معتبر لوگوں کے نون لیگ میں شامل ہونے کے بعد کراچی کی اہمیت کو مسلم لیگی قیادت نے سمجھنا شروع کیا 1990ءاور پھر 1997ءکے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی مسلم لیگ نون کی حکومتوں میں متحدہ قومی موومنٹ اس کی حلیف تھی لیکن دونوں مرتبہ ہی یہ اتحاد دو سال سے بھی کم عرصے میں ٹوٹ گیا اور ہر بار اس اتحاد کے خاتمے پر ایم کیو ایم کے خلاف نیا آپریشن شروع ہوا۔ اس کے بعد مسلم لیگ نون کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ وہ اب صرف صوبہ پنجاب تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور اس سے اس کا سیاسی کردار کم ہوگیا ہے اسی لئے اپنے دائرے کو بڑھانے کے لئے مسلم لیگ نون کی قیادت نے کراچی کی سیاست میں داخل ہونے کیلئے اس وقت کے گورنر عشرت العباد سے رابطے شروع کئے اور اس طرح 2009 سے اب تک مسلم لیگ کراچی میں اپنا وجود رکھتی ہے اگر کراچی کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو مسلم لیگ کا کوئی کردار نظر نہیں آتا پاکستان مسلم لیگ نون ماضی میں کراچی کے محاذ پر ہمیشہ ہی ناکامی کا سامنا رہاہے۔ا س مرتبہ پہلی بارصدر مسلم لیگ نے اپنے ساتھ اتنے مضبوط امیدوار کراچی کے میدان سیاست میں اتارے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ امیدواران کوئی کمال دکھا پائیں گے؟
کراچی سے الیکشن میں حصہ لینے والوں میں سب سے جاندا ر نام سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف،این اے 249 سے حصہ لے رہے ہیں ان کے سامنے پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا ہیں اور اگر دیکھا جائے تو شہباز شریف کی پوزیشن بہت مستحکم ہے کیونکہ بلدیہ ٹاﺅن میں چیئرمین اور کونسلرز مسلم لیگ کے ہیں اور وہ ہی میاں شہباز شریف کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔دوسر ابڑا نام سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا ہے جواین اے 244سے حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے سامنے ایم کیوایم کے رﺅف صدیقی اور ایم ایم اے کے زاہد سعید ہیں مگر یہاں بھی مفتاح اسماعیل کی پوزیشن قدرے بہتر ہے۔
سینیٹر سلیم ضیاءکراچی کے پرانے و زیرک سیاستدان ہیں این اے 246سے پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے سامنے ہیں مگر یہ سیٹ مسلم لیگ کیلئے نکالنا نا ممکن ہے کیونکہ لیاری سے پی پی کے علاوہ کسی کا جیتنا مشکل دکھائی دیتاہے میں نے خود لیاری جاکر دیکھاہے، عوام بلاول کیلئے پاگل ہیں ۔
مشاہداللہ خان کے صاحبزادے ڈاکٹر افنان اللہ، این اے 247سے حصہ لے رہے ہیں ان کو یہاں پر کراچی کے بڑے سیاستدانوں کا سامنا ہے جن میں فاروق ستار، ڈاکٹر عارف علوی، فوزیہ قصوری، حسین محنتی اور پی پی کے عزیز میمن ان سب کی موجودگی میں افنان اللہ کی دال نہیں گلنے والی۔
جبکہ دوسری طرف وطن عزیز کے صدر ممنون حسین کا تعلق بھی کراچی سے ہیں اور سندھ کے گورنر محمد زبیر بھی یہی سے ہیں مگر ان دونوں نے بھی مسلم لیگ کوکراچی میں مضبوط کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔پاکستان مسلم لیگ نون کی یہ بھی بدقسمتی  ہے کہ وہ ہمیشہ سے اندرونی اختلافات کا شکار رہی ہے،اس وجہ سے کراچی میں ایک مضبوط پارٹی بن کر سامنے نہ آسکی حالانکہ مسلم لیگ کا ووٹ بنک کراچی کے پر علاقے میں موجود ہے اور نمائندگی بھی ہے مگر اردو بولنے والوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے آج تک پارٹی کراچی میں مستحکم نہ ہوسکی۔ابھی حال ہی میں علی اکبر گجر کو کراچی کا صدر بنایا گیا،وہ بھی ان کی ناراضی کی وجہ سے بنایا گیا،وہ بہت عرصے سے اپنا الگ آفس چلا رہے تھے ۔مبصرین کے مطابق مسلم لیگ کوئی اچھی پوزیشن میں نہیں ہے مگر اس طرح الیکشن میں حصہ لینے سے مسلم لیگی ووٹرز بھی مطمئن ہوسکے گا اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کیلئے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو تیارکر سکے گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube