ہوم   > بلاگز

ذمہ دار کون؟

SAMAA | - Posted: Jul 21, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 21, 2018 | Last Updated: 2 years ago

سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور، وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کا اکلوتا بیٹا میاں راشد حسین اور ایک ہزار سے زائد عیدیدار اور پارٹی ورکروں کی نعشیں اٹھانے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے 2013کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تاہم یکہ توت میں انتخابی مہم کے دوران بشیر احمد بلور کے صاحبزادے ہارون بلور اور بھائی سابق وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور کو ایک اور خود کش حملے کا سامنا کرنا پڑا جس میں وہ دونوں محفوظ رہے تاہم عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کا شاید وہ آخری دن تھا اس کے بعد اے این پی کی پارلیمان میں نمائندگی صرف رسمی حد تک ہی رہ گئی تھی ۔
پانچ برس گزر گئے ایک اور عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہوئیں اس بار امن کا پرچار کیا جا رہا ہے لیکن5سال قبل خود کش حملے میں بال بال بچ جانے والے ہارون بشیر بلور اس مرتبہ امن دشمنوں کا پہلا نشانہ بنے ۔ہارون بلور کے ہمراہ 22افراد اس حملے میں جاں بحق ہوئے اوراس حملے کے ساتھ ہی دہشتگردوں کی جانب سے طبل جنگ بجا دیا گیا۔ بنوں میں سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کے قافلے پر آئی ای ڈی بم دھماکہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 4افراد جاں بحق ہو گئے تاہم مستونگ واقعہ نے زخموں کو مزید گہرا کر دیا ۔
2013کے عام انتخابات اور اس کی مہم کے دوران یکم جنوری 2013سے لیکر 15مئی 2013تک ملک بھر میں 148حملے کئے گئے یعنی اوسط روزانہ ایک حملہ کیا گیا اور ان حملوں کے نتیجے میں 298افراد جاں بحق جبکہ 885افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح سیاسی لڑائی جھگڑوں اور ہاتھاپائی کے97کیسزبھی رپورٹ کئے گئے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے ان حملوں میں سے 108کی ذمہ داری قبول کی ہےجبکہ بلوچ باغی تنظیموں کی جانب سے 40حملے کئے گئے۔ سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ حملے عوامی نیشنل پارٹی پرکئے گئے جن کی تعداد 37ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ پر 12،12حملے کئے گئے۔مسلم لیگ ن کو بھی 10حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دہشتگردوں کی جانب سے حملے اور اداروں پر الزامات دوسری جانب تاہم اس بار سیاسی جماعتیں خاموش نہیں ہیں۔سیاستدان اپنے ہر جلسے اور پریس کانفرنس میں واضح الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہیں مہم چلانے نہیں دیا جا رہا۔ پہلے پشاور اور بعد ازاں مالاکنڈ میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے بلاول بھٹو کوجلسے کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جلسہ تو کیا بلاول کو لاہور ایئرپورٹ تک استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی اور وہ ہارون بلور کی فاتحہ خوانی کیلئے براستہ سڑک پشاور پہنچے ۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سینٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمن ،مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان سمیت متعدد سربراہوں نے سیاسی ماحول پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی میدان صرف ایک جماعت کیلئے سجایا گیا ہے اور وہ جہاں چاہے جلسے کر سکتی ہے تاہم ہمیں میدان ہاتھ پاﺅں باندھ کر پھینک دیا گیا ہے ۔
سکیورٹی صورتحال کا اندازہ الیکشن کمیشن کو پہلے سے تھا۔اسی لئے انہوں نےساڑھےتین لاکھ سکیورٹی اہلکارتعینات کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کرلیا تھا تاہم اب ہیومن رائٹس آف کمیشن کی جانب سے اس فیصلے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔2013میں 60ہزار سے زائد فوجی اہلکار تعینات کئے گئے تھے تاہم اس بار یہ ہندسہ 6گنا سے بھی زائد ہے جو تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ادارہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے تاہم اس کی مثال گاندھی کے تین بندروں کی مانند ہے جسے نہ کچھ دکھائی دیتا ہے ،نہ سنائی دیتا ہے اور نہ ہی وہ کچھ بول سکتا ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلسل منت سماجت اور درخواستوں کے باوجود الیکشن کمیشن نے تاحال مسلم لیگ ن ، عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو مہم چلانے کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معنی خیز خاموشی جہاں ان سیاسی جماعتوں کیلئے واضح پیغام ہے وہیں یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ 2018میں ہونے والے عام انتخابات شاید 70میں ہونے والے عام انتخابات کے جیسے ہوں گے ۔مسلم لیگ ن کی الیکشن کمیشن پر تنقید ان کا حق ہے تاہم الیکشن کمیشن کی بے بسی میں سب سے بڑا کردار مسلم لیگ ن کا ہی ہے 5سالہ دور حکومت میں کبھی بھی الیکشن کمیشن کی بہتری اور اسے طاقت ور بنانے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی سزا مسلم لیگ ن اب بھگت رہی ہے ۔
عام انتخابات کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کے ہمراہ دوسرا بڑا کردار نگران حکومتوں کا ہے تاہم خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بگڑنے کے بعد نگران صوبائی حکومت بیوروکریسی کے ساتھ لڑنے کیلئے میدان میں نکل آئی۔ سیاسی جماعتوں کو پر امن اور سازگار ماحول فراہم کرنے کی بجائے ان تمام اداروں نے ایک دوسرے کے کام میں ٹانگ اڑانی شروع کر دی ہے تاہم مثبت عنصر یہ ہے کہ آج تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ بہتری ایوان کے اندر سے آئے گی لہٰذا تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کا کسی صورت بائیکاٹ نہیں کریں گی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube