Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

ممکنہ شکست، آغا سراج درانی بوکھلاہٹ کا شکار

SAMAA | - Posted: Jul 21, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 21, 2018 | Last Updated: 4 years ago

سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی پیپلز پارٹی کی رہنما اور زرداری صاحب کی ہمشیرہ فریال تالپور کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ووٹرز کو بلیک میل کرنے لگے ہیں۔ کچھ ماہ قبل آغا سراج درانی کی ایک متنازع ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ ووٹرز کو کہہ رہے تھے کہ میں آپ کے ووٹ پر لعنت بھیجتا ہوں۔ آغا سراج درانی نے اس ویڈیو میں جو الفاظ استعمال کئے اسے لفظ با لفظ لکھنا ممکن نہیں کیونکہ میری اخلاقیات اور تربیت مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد آغا سراج درانی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آغا سراج درانی اپنی غلطی کو تسلیم کرتے اور اپنے حلقے کے ووٹرز سے معافی مانگتے مگر آغا سراج درانی نے اپنی غلطی پر معافی مانگنے کے بجائے الٹا ووٹرز پر چڑھائی کردی۔ چند دن پہلے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں آغا سراج درانی کی بوکھلاہٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شکارپور میں انتخابی مہم کے دوران اپنے حلقے کی عوام سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی بطور رکن سندھ اسمبلی، سابق وزیر اور اسپیکر اپنی کارکردگی بتانے کے بجائے الٹا ووٹرز کو بلیک میل کرتے دکھائی دیئے۔ آغا سراج درانی نے اپنے حلقے کے ووٹرز کو کہا کہ اگر تھوڑی سی بھی غیرت ہے تو پیپلز پارٹی کو ووٹ دو۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہاں موجود ووٹرز اسی وقت آغا سراج درانی کے جلسے سے واک آؤٹ کرتے مگر ووٹرز چپ چاپ سنتے رہے کیونکہ اب بھی سندھ کے ہاری اور کسان وڈیروں کے ذاتی غلام ہیں۔

پچھلے دنوں میری ضلع جیکب آباد کے گاؤں کریم بخش کھوسہ کے ایک رہائشی سے بات ہوئی کہ آپ آئندہ انتخابات میں کس پارٹی کو ووٹ دو گے تو اس نے کہا کہ جہاں ہمارا وڈیرہ بولے گا میں وہیں ووٹ دوں گا، میں نے کہا کہ آئین پاکستان کسی وڈیرے یا کسان کو برابری کا حق دیتا ہے اور یہ آپ کا حق ہے کہ آپ اپنی پسند کے امیدوار کو منتخب کریں تو اس شخص نے جواب دیا کہ اگر میں نے اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دیا تو وڈیرہ مجھے گاؤں سے نکال دے گا اور میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ دربدر ہو جاؤں گا۔ اس شخص کی بات سن کر مجھے حیرانگی نہیں ہوئی کیونکہ گاؤں، دیہات میں ایسا ہی ہوتا ہے مگر افسوس یہاں الیکشن کمیشن کی آنکھیں بند رہتی ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آغا سراج درانی بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟ اگر نہیں تو میں بتاتا چلوں کہ درانی صاحب الیکشن میں اپنی ممکنہ شکست دیکھ رہے ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں آغا سراج درانی نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے ہوئے 32 ہزار 993 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کے امیدوار ذوالفقار علی کماریو 31 ہزار 264 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن پر رہے تھے۔ جے یو آئی (ف) کے امیدوار نے 1917، نواز لیگ کے امیدوار نے 1698 جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدوار نے مجموعی طور پر 2276 ووٹ حاصل کئے تھے۔ آغا سراج درانی اور فنکشنل لیگ کے امیدوار کے درمیان صرف 1729 ووٹوں کا فرق تھا جو اس مرتبہ ختم ہوتا دکھائی دے رہا یے کیونکہ پیپلز پارٹی مخالف تمام سیاسی جماعتیں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم پر متحد ہوچکی ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے حق میں 32 ہزار 993 اور پیپلز پارٹی کے خلاف 37 ہزار 440 ووٹ کاسٹ ہوئے تھے شاید یہی وجہ ہے کہ آغا سراج درانی کو اپنی ممکنہ شکست دکھائی دے رہی ہے تبھی وہ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube