ہوم   >  بلاگز

گدھوں کی کارنر میٹنگ

1 year ago

تحریر: زبیر نیازی

آٹھ گھنٹے مزدوری، وقت پر چارا، تین مہینے بعد ہیئرکٹنگ، نہ ڈنڈا نہ ڈانٹ، الیکشن آیا تو مطالبات کی یہ فہرست لیے کچھ گدھوں نے بھی کونے کھانچے میں میٹنگ سجالی، جسے اُنہوں نے ‘کارنر میٹنگ’ کا نام دیا، میٹنگ کا آغاز ہوا، ایک گدھا سہما سہما، پریشان سا، اپنی دھن میں مگن نظر آیا۔
کیوں بھئی! تم کیوں غمگین بیٹھے ہو؟، کسی نے پوچھا، جواب آیا میرا مالک بہت ظالم ہے گھاس کم دیتا ہے، کام زیادہ لیتا ہے اور مارتا بھی ہے۔

پھر سوال ہوا کہ “تو تم اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟، بولا چھوڑ دیتا بس روشن مستقبل کی اُمید میں رکا ہوا ہوں، دراصل میرے مالک کی بیٹی بہت خوبصورت ہے جس کا پڑھنے میں بالکل دل نہیں لگتا، شرارتیں بہت کرتی ہے، اب اس کے باپ نے کہا ہے اگر اس بار بھی پاس نہ ہوئی، شرارتیں کرنا نہ چھوڑیں تو اسی گدھے سے تمہاری شادی کر دوں گا، بس آس لگائے بیٹھا ہوں۔

فٹے منہ، ہم یہاں اپنے حقوق کیلئے جمع ہوئے تو اپنی لے کر بیٹھ گیا، انہی گدھوں میں سے ایک کچھ سیانا نظر آرہا تھا، اُس نے سب کو مخاطب کیا۔

’’دیکھو بھئی پہلے تو ہمیں صرف بے وقوف سمجھا جاتا تھا، ہم پر لطیفے بن رہے تھے لیکن اب معاملات بہت آگے نکل چکے ہیں، ایک لیڈر نے سرعام  مخالفین کو گدھا کہا، قصور اُن کا یہ تھا کہ وہ اپنے لیڈر کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ پہنچے تھے، جس کے جواب میں مخالف سمت سے بھی پوسٹیں ہونے لگی ہیں، دونوں طرف سے ایک دوسرے کو گدھا کہا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہمارا مذاق اُڑایا جارہا ہے، کیا ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ کوئی بھی ہمارا نام لے کر دوسروں کو بے وقوف کہے۔
ایک اور گدھا اُٹھا، اُس نے پہلے کی تائید کی، بھئی! بات اس سے بہت آگے نکل چکی ہے، اب تو سیدھا گردن پر چھری پھرتی ہے، ہماری تکہ بوٹی بنتی ہے اور لوگ مزے لے لے کر کھاتے ہیں، کہیں سے 300 تو کہیں سے 500 کھالیں ملتی ہیں۔

ہا ہا ہا، ایک گدھا زور سے ہنسنے لگا، تم کیوں ہنس رہے ہو بھائی؟۔ اس لئے ہنس رہا ہوں کہ جو لوگ ہمیں گدھا اور بے وقوف سمجھتے ہیں، اُنہیں ہی لوگ گدھا بناکر گدھے کا گوشت کھلادیتے ہیں۔

ارے بھائی، کام کی بات کرو، کام کی، یہ وقت فضول باتوں کا نہیں، ویسے بھی سارا دن بوریاں اُٹھائی ہیں، ایک گدھے نے جلے بھنے انداز میں کہا، بھئی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کیلئے آواز اُٹھانا ہوگی، چپ چاپ رہے تو اسی طرح وزن اُٹھاتے رہیں گے اور مالک کی مار کھاتے رہیں گے، امریکا میں بھی گدھوں نے اپنے حقوق کیلئے آواز اُٹھائی تھی، آج وہاں گدھا طاقت کی علامت ہے، امریکی صدر اپنا  انتخابی نشان گدھا رکھتا ہے، وہاں گدھے کو تھپڑ مارنے پر بھی ایف آئی آر کٹتی ہے۔

ارے بھائی! بس کرو، کچھ نہیں ہونا، جو بھی آئے، ہمیں یہی مال اُٹھانا ہے، ڈنڈے کھانے ہیں۔ ( ایک گدھے نے مایوس لہجے میں کہا) کردی نہ تو نے انسانوں والی بات (سیانے گدھے نے غصے میں کہا) ارے تجھ سے اچھے تو انسان ہیں، ہوتا اُن کا بھی کچھ نہیں، ایک ظالم جاتا ہے، دوسرا اُس سے بڑھ کر آتا ہے، لیکن وہ بھی مایوس نہیں ہوتے، اپنی دھن میں لگے ہوئے ہیں کبھی نہ کبھی اچھا دن ضرور آئے گا۔
خاک اچھا دن آئے گا، (مایوس گدھے نے ٹوک کر کہا)، ان کی قسمت کبھی نہیں بدل سکتی، جب انسان خود گدھا بن جائے، تو پھر اُس کے نصیب میں صرف ڈنڈے ہی رہ جاتے ہی۔

یہ کیا کہہ رہے ہو؟ ایک گدھے نے پوچھا۔ ٹھیک کہہ رہا ہوں بھائی، ابھی کل ہی بات ہے، ہمارے ایک ساتھی گدھے پر کچھ لوگوں نے مخالف جماعت کے لیڈر کا نام لکھا، اُسے ریلی میں لے گئے اور مار مار کر بُرا حال کر دیا، میں سوچ رہا تھا کہ ان میں سے گدھا کون ہے، جو مار رہے ہیں وہ یا جسے مارا جارہا ہے۔

تو پھر کس نتیجے پر پہنچے؟، جواب ملا یا نہیں؟، سیانے گدھے نے سوال کیا۔ چھوڑو یار! کیا جواب ملنا تھا؟۔ لیکن مجھے تو جواب مل گیا ہے، (سیانے گدھے نے کہا) دراصل دونوں ہی گدھے ہیں، ایک پر اس لئے ظلم ہورہا ہے کہ وہ دن بھر بوریاں اُٹھاتا ہے لیکن خود کو کمزور سمجھتا ہے، اُس نے اپنی زبان سی رکھی ہے اور دوسرا اس لئے گدھا ہے کہ وہ اپنی حقیقت بھلا بیٹھا ہے، وہ انسان ہوکر ظلم کرتا ہے۔ تو جو انسان ہوکر ظلم کرے اُس میں اور جانور میں کیا فرق؟۔
جب تک خود کو کمزور سمجھنے والے گدھے کو اپنی طاقت کا احساس نہ ہوجائے اور جب تک دوسروں پر ظلم کرنیوالے انسان کی عقل سے پردہ نہ اُٹھ جائے، تب تک کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی، فی الحال اُن کے بھی نصیب میں ڈنڈے ہیں اور ہمارے نصیب میں بھی۔ میٹنگ ختم، ابھی اُٹھو، کل کام پر بھی جانا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
2 hours ago
3 hours ago
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں