Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

الیکشن اورسوشل میڈیا

SAMAA | - Posted: Jul 19, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jul 19, 2018 | Last Updated: 4 years ago

الیکشن دوہزار اٹھارہ میں ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے پاکستان میں ہر جگہ شوٹنگ ہو رہی ہو اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈر اور کارکن بھر پور اداکاری کرنے میں مصر وف ہیں اور اداکاری بھی اتنی زبردست کہ جتنی تعریف کی جائے کم ہے اور عوام ان لوگوں کی اداکاری سے متاثر ہورہی ہے اور وہ بھول گیے ہیں کہ یہ وہ ہی سیاست دان ہیں جنہوں نے قومی دولت لوٹنے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی اور ہماری عوام کی معصومیت یا مجبوری کا یہ حال ہے کہ وہ ان ہی سیاست دانوں اور پارٹیوں کو ہر بار ووٹ دیتی ہے،ان سیاست دانوں نے ملک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی شہریت کو بھی داغ دار کر دیا ہے۔
سال 2018 کے انتخابات کی مہم تیز ہوتی جارہی ہے اور تمام پارٹی اپنے اپنے طریقے سے مہم چلارہی ہیں۔سیاسی جماعتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ووٹروں کو کیسے اپنی طرف راغب کیا جائے؟مثبت پیغام اور اچھا منشور پیش کرنے سے کام نہیں بنتا۔چنانچہ ہر جماعت نے فیصلہ کیا کہ مخالف سیاستدانوں اور جماعتوں کو گندا کیا جائے۔ووٹروں کا دل جیتنے کیلئے امیدواروں نے مختلف انداز اختیار کر لیے ہیں کسی نے گندے پانی سے منہ دھویا تو کسی نے رکشہ چلا یا ، کوئی موٹر سائیکل پر سوار تو کوئی پیدل چل پڑا ہے۔سب سے ذیادہ ہلچل توسوشل میڈ یا پر ہے تمام سیاسی جماعت سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی اپنی جماعتوں کا پروپیگینڈا اور اپنی سیاسی سرگرمیوں کی تشہیر بھی کررہے ہیں۔ انتخابات کے دنوں میں یہ وسیلہ اور بھی اہمیت کا حامل ہوتا جارہا ہے۔آج سیاست دان اپنا موقف اخبار اور ٹی وی کے رپورٹر کے بجائے خود عوام تک پہنچانے کے لیئے سوشل میڈیا کااستعمال کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا سیاسی جماعتوں کے نوجوانوں تک پہنچنے کا کامیاب ذریعہ بن گیا ہے :”ووٹ رجسٹر کروانے کی مہم میں بھی سوشل میڈیا نے اہم کردار اداکیا کیونکہ ہماری آبادی میں نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ان میں بہت سے سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں۔سوشل مڈیا کی وجہ سے بہت سے مسائل بھی سامنے آئے ہیں اور سیاست دانوں سے سوالات بھی کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔“یہ انتخابات کئی لحاظ سے تاریخی ہیں جن میں سوشل میڈیا کا عنصر بھی شامل ہے اس دوران بہت سے لوگوں کو 2018 دیکھنے کا اشتیاق ہے کہ ان انتخابات میں سوشل میڈیا کیا کردار ادا کرے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روایتی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی اور کاروبار بھی معلومات کے تبادلے اور عوام تک پہنچنے کے لیے آج بڑی تعداد میں فیس بک اور ٹویٹر جیسے جدید میڈیا کا ہی سہارا لے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے یہ جانناآسان ہو گیا ہے کہ کون سی جماعت سب سے زیادہ سرگرم ہے۔ کون سا لیڈر سوشل میڈیا پر دوسروں سے آگے ہے۔ تمام سیاست دانوں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ شہباز شریف ،عمران خان،بلاول بھٹواور ان کے رفقاءٹوئیٹر پر خوب متحرک ہوگئے ہیں بلکہ اپنی ٹیم کو بھی میدان میں اتار دیا ہے۔بلاول کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پہلے ٹوئٹ ہوتی ہے، پھر خبر بنتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان ٹوئیٹر پر مقبول ترین پاکستانی لیڈر ہیں۔ ان کے 80لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔عمران خان روزانہ ٹوئیٹ کر کے سیاسی اور اہم امور پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ تحریکِ انصاف نے 2006 میں سوشل میڈیا کی بنیاد رکھی جس کے لیے اب دنیا بھر میں 30 رضاکار کام کرتے ہیں۔ اس سیل کی ایک رکن نے بتایا کہ اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ اس وقت میڈیا پی ٹی آئی کو گھاس نہیں ڈالتا تھا۔ ’باقی پارٹیوں کی غیر اہم سرگرمیوں کو بھی کوریج ملتی تھی جبکہ ہمارا بڑے سے بڑا ایونٹ کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔ اسی لیے ہم نے متبادل ذرائع استعمال کرنا شروع کیے ہماری دو طرفہ حکمتِ عملی ہے جس کا ہمیں بھر پور فائدہ ہوا۔

مریم نواز بھی ٹوئیٹر پر خوب متحرک رہیں ۔ جیل جانے سے پہلے وہ  ٹوئیٹر کے ذریعے اپنے خیالات اور سیاسی عزائم کا اظہار اور دوسروں کے پیغامات ری ٹوئیٹ بھی کرتی  رہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک آفیشل پیج سے بھی  انتخابی مہم زور و شور سے چلائی جارہی ہے۔ کئی بڑی اور چھوٹی جماعتوں اور ان کے بعض رہنماؤں نے اپنے اپنے فیس بک پیج اور ٹوئٹر ہینڈل بنا رکھے ہیں اور انھیں باقاعدگی سے استعمال بھی کررہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ عوام سوشل میڈیا پر مقبول لیڈرز کو کامیابی کا تاج پہناتے ہیں یا پھر واقعی قابل لو گوں کو منتخب کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube