Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

یہ بازی عشق کی بازی ہے

SAMAA | - Posted: Jul 17, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jul 17, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: طاہر نصرت

ایسا بھی نہیں کہ انہیں اپنے سیاسی مقدر کا پتہ نہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ انہیں معروضی حالات کا ادراک نہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ موجودہ صورتحال میں چلنےوالی ہواؤں سے بے خبر ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ انہیں اپنے ستاروں کی چال کا علم نہ ہو۔ ایسا بھی نہیں کہ انہیں آسمانی طاقتوں کے جلال اور اشتعال کا اندازہ نہ ہو۔ انہیں پتہ ہے کہ نصیبہ روٹھ گیا  ہے۔ جس کا ’’سہارا‘‘ تھا وہ چھوٹ گیا ہے۔ انہیں یہ بھی خبر ہے کہ جو ’’راز و نیاز‘‘ والے تھے وہ سب غماز بن بیٹھے ہیں۔ انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ سیاست کے اس کارزار میں، مخالفت کے دشت و ریگزار میں اور سچ اور جھوٹ کی اس تکرار میں ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔ مگر پھر بھی نواز شریف وطن واپس پہنچے ہیں۔

وقت کے حسین ستم اور منصف کے قلم نے تو ان کے سیاسی مستقبل کو مخدوش بنا دیا ہے مگر پھر بھی وہ خود کو مقدر کا سکندر سمجھ رہے ہیں۔ کون سی کرپشن؟ کہاں کی کرپشن؟ کونسے ریفرنسز؟ کہاں کے ریفرنسز؟ احتساب عدالت نے لندن فلیٹس ریفرنس میں فیصلہ کیا دیا، ن لیگی قائد کے اندر کا پہلوان جاگ اٹھا۔ گزشتہ دنوں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ اب مزید چپ نہیں رہیں گے۔ ووٹ کی عزت کی خاطر جو کرنا پڑا کریں گے۔

عدالتی فیصلے کے پیچھے انہیں کچھ اور محرکات نظر آرہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی ’’خاص بندے‘‘ کو نوازنے کے لیے انہیں منظرسے ہٹایا جارہا ہے۔ نواز شریف یہ بھول رہے ہیں کہ پانامہ اسکینڈل قہر الٰہی تھا جس کی زد میں صرف وہ یا ان کے خاندان والے نہیں اور بھی کافی بڑے بڑے لوگ آئے ہیں۔

پاکستان آکر میاں صاحب نے اپنی جماعت کو تتر بتر ہونے سے بچانے کے لیے اور اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بڑا سیاسی داؤ کھیلا ہے۔ سترہ برس قبل 2001 میں انہوں نے جو غلطی کی تھی شاید میاں صاحب اس کا کفارہ ادا کرنے آئے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ جلاوطن ہو کر چپ رہنا سیاسی لحاظ سے خودکشی کے مترادف ہے۔ جی ٹی روڈ سے شروع ہونے والے بیانیے کو دوام بخشنے اور ووٹروں کو جھنجھوڑنے کےلیے نواز شریف نے بڑا سیاسی جوا کھیلا ہے۔ کل تک جو مصلحت کی خاطر خاموش تھے آج وہ بھی پرجوش نظر آرہے ہیں۔ شہباز شریف بھی اپنے بھائی کے بیانیے کے قائل ہوگئے ہیں۔ نیب کی کارروائیوں نے انہیں بھی سوچ بدلنے پر مجبور کردیا ہے۔

نگراں سرکار پر تیکھے وار ہوں یا احتساب والوں کو للکار، خادم اعلیٰ اب ہر معاملے میں بدلے بدلے نظرآتے ہیں۔ موصوف اب الیکشن مہم میں ترقیاتی کاموں کے گن کم گاتے ہیں اور بھائی کے بیانیے کا ذیادہ ذکر کرتے ہیں۔ بحرحال نواز شریف نے پارٹی کو منتشر ہونے سے بچانے، پرانا داغ دھونے اور عوامی ہمدردی سمیٹنے کے لیے سیاسی کارڈ کھیلا ہے۔ ان کی واپسی سے انصاف کے تقاضے ضرور پورے ہوئے ہیں لیکن ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھنے کا بھی امکان ہے۔

میاں صاحب کے سامنے اب دو ہی راستے ہیں۔ مزاحمت یا پھر مفاہمت۔!! مزاحمت تو انہوں نے بہت دکھائی۔ نااہلی سے لیکرجی ٹی روڈ پر مارچ تک، مجھے کیوں نکالا کے نعرے سے لیکر ووٹ کی عزت کی صدا تک، ٹکراؤ کے ہی تو مختلف انداز تھے۔ اب جب احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد انہوں نے گرفتاری بھی دے دی ہے تو یہ طے ہونا باقی ہے کہ انہوں نے ورکرز کو اشتعال دلا کر انہیں سڑکوں پر لانا ہے یا آئینی دائرے میں رہ کر جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

حالات پر نظر رکھنے والوں کو زنجیروں میں جکڑا نواز شریف زیادہ خطرناک لگ رہا ہے۔ داماد جی کی گرفتاری، بیٹی کے ساتھ وطن واپسی اور سلاخوں کے پیچھے جانے کا فیصلہ، بڑے میاں صاحب نے یقیناً کچھ سوچ کرہی یہ جوا کھیلا ہوگا۔

بحرحال معاملہ جو بھی ہو ملک میں غیریقینی صورتحال ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ برسات کے اس اجلے اور دھلے دھلے موسم میں بھی ہر سو دھندلکوں کا راج ہے۔ انتخابات کے انعقاد میں محض کچھ ہی دن باقی ہیں لیکن پھر بھی بے یقینی کا خمار ذہن پر سوار ہے۔ دنوں کی مسافت صدیوں پر محیط لگ رہی ہے۔ وسوسوں کے مہیب سائے تلے، یقین خراٹے ماررہا ہے، گمان انگڑائی لے رہا ہے اور خدشات کے بھونچال خیالات میں کمالات دکھا رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے۔۔۔۔؟؟

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube