عام انتخابات اور دہشتگردی کا خطرہ

Abdullah
July 12, 2018

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ دہشتگردی کا ایک بڑا واقعہ ہوا، پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی جلسے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہارون بلور سمیت 22 افراد شہید اور 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ دو روز قبل ہی سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں نیکٹا کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ عام انتخابات کے دوران سیاسی رہنماؤں پر حملے کا خطرہ ہے۔ نیکٹا نے جن سیاسی رہنماؤں پر حملوں کا خطرہ بتایا،ان میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم خان درانی، اے این پی کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی اور حافظ محمد سعید کے بیٹے طلحہ سعید شامل ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت پر بھی حملوں سے متعلق رپورٹس ہیں۔

پچھلے عام انتخابات کی مہم کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے 100 سے زائد کارکنوں اور امیدواروں کو دہشتگردوں نے شہید کر دیا تھا۔ 2013 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دہشتگردوں کے نشانے پر تھی اور طالبان کی جانب سے ان تینوں سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے سے روکا گیا گیا۔ 2013 کے انتخابات کی مہم کے دوران دہشتگرد پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کو بھی دن کی روشنی میں ملتان شہر سے اغواء کر کے لے گئے تھے جس کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری دہشتگردی کے خطرے کے باعث انتخابی مہم نہیں چلا سکے تھے۔ بلاول بھٹو پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات کے لئے جوش و خروش سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں مگر ابھی بھی انکی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اے این پی کے جلسے پر حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں سمیت 80 ہزار سے زائد پاکستانی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں مگر اب بھی ملک میں سو فیصد امن قائم نہیں ہوسکا جس کے ذمہ دار وہ سیاستدان ہیں جو دہشتگردوں کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے تو طالبان کو دفاتر تک کھولنے کی پیشکش کردی تھی۔ نیکٹا نے جن چھ لوگوں پر دہشتگردوں کی جانب سے حملوں کا بتایا ہے ان میں سے پانچ کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام انتخابات سے قبل دہشتگردوں کی کاروائیوں کا مرکز خیبر پختونخوا ہوسکتا ہے۔

ہارون بلور کی شہادت بلور خاندان کے لئے پہلا نقصان نہیں۔ شہید ہارون بلور کے والد بشیر بلور بھی دسمبر2012 میں پشاور میں ہی عوامی نیشنل پارٹی کے ایک جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہوگئےتھے۔ ہارون بلور کی شہادت کے بعد خیبر پختونخوا میں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں خوف پھیل گیا ہے۔ دہشتگرد کسی کے دوست نہیں ہوتے، ان کا کام صرف اور صرف دہشتگردی اور خوف پھیلانا ہے پھر چاہے انہیں کسی پر بھی حملہ کرنا پڑے اس لئے سیاسی جماعتوں کے قائدین اور امیدواروں بالخصوص بلاول بھٹو، اسفند یار ولی، شہباز شریف، عمران خان، فاروق ستار مصطفی کمال، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق اور پیر پگارا کو چاہیئے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کا خیال رکھیں اور یہ نگراں حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے۔ دعا ہے کہ انتخابات کا یہ مرحلہ خیر و عافیت سے گزر جائے اور اللہ تعالی اس ملک و قوم کو محفوظ رکھے۔