متنازع انتخابات

umairsolangi
July 11, 2018

جوں جوں انتخابات کی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے ملکی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ متنازع انتخابات سے بھری پڑی ہے اور آج بھی انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جس ملک میں الیکشن متنازع ہوں وہاں نا تو ترقی ہوتی ہے اور نا ہی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ آج تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں کوئی بھی غیر متنازع نہیں، ہر انتخابات کے بعد بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے ہیں مگر پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات کا معاملہ بلکل مختلف ہے کیونکہ یہ انتخابات پہلے ہی متنازع ہوچکے ہیں۔ طاہر القادری کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان ہوا تو ان کے اس فیصلے کو تمام سیاسی جماعتوں، میڈیا اور عوام نے نظرانداز کیا کیونکہ ان کے چاہنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے مگر ان کی جماعت انتخابات میں کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر پائی۔ فوجی صدر جرنل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے 2002 میں منعقد کرائے گئے  انتخابات میں طاہر القادری کو لاہور سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر جتوایا گیا مگر سب جانتے ہیں کہ 2002 میں الیکشن کے نام پر سلیکشن ہوئی تھی۔ آج پھر ہر طرف یہی شور برپا ہے کہ الیکشن کے نام پر سلیکشن کی جا رہی ہے۔

ویسے تو ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات لگتے ہی ہیں مگر اس مرتبہ انتخابات سے قبل ملک میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں انتخابات کی شفافیت پر انگلیاں اٹھا رہی ہیں۔ کل تک صرف مسلم لیگ (ن) کے رہنما پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات کو متنازع قرار دے رہے تھے مگر اب پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شیری رحمان نے بھی کہہ دیا ہے کہ انتخابات کو متنازع کر دیا گیا ہے۔ شیری رحمان کا یہ کہنا قطعی غلط نہیں کیونکہ انتخابات سے صرف دو ہفتے قبل پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے جس سے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ شکوک و شبہات اس لئے بھی بڑھ رہے ہیں کیونکہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے نے جو ٹیم تشکیل دی ہے اس ٹیم کا سربراہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے اہم رہنما اور سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قریبی رشتے دار ڈاکٹر نجف مرزا کو مقرر کیا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے پاکستان واپس آنے اور ان کی گرفتاری سے انتخابات مزید متنازعہ ہوجائیں گے۔ میری اطلاعات کے مطابق ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں انتخابات کے بائیکاٹ کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہیں، دونوں میں سے کسی ایک جماعت نے بھی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو انتخابات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے بعد تحریک انصاف کو بھی اس بات کا ادراک ہوچکا ہے کہ انتخابات متنازع ہو چکے ہیں اس لئے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے سابق حکمران جماعت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) الیکشن کو متنازع بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ہر سیاسی پارٹی کا رہنما اپنی اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق بیانات دے رہا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ الیکشن تو متنازعہ ہو چکے ہیں کیونکہ تین بڑی پارٹیوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے جس کے بعد پچیس جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے لوگوں میں بے چینی پھیل چکی ہے۔

نگراں حکومتوں اور انتظامیہ کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ صرف انتخابات کا پرامن ہونا ضروری نہیں بلکہ انتخابات کا غیر جانبدارانہ اور صاف شفاف ہونا بھی ضروری ہے۔