کیا بھٹو کی پیپلز پارٹی ختم ہوچکی؟

salaar sulaman
July 11, 2018

کوئی وقت تھا کہ پاکستان میں بھٹو کے نام کا طوطی بولتا تھا، سابق صدر و وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بے شک تاریخ میں ایک متنازعہ شخصیت ہوں گے، لیکن ہم اُن کی کچھ باتوں کو چاہ کر بھی بھُلا نہیں سکتے، بھٹو صاحب انتہائی ذہین آدمی تھے، بلا تھکان وہ پورا پورا دن کام بھی کر سکتے تھے، اپنے وقت میں انہوں نے سیاست کو نہ صرف جدت دی بلکہ ڈرائنگ سے اُٹھا کر وہ اُس کو عام آدمی کے پاس لے گئے، بھٹو صاحب کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ وہ الیکشن میں کھمبے کو کھڑا کرتے تھے تو وہ جیت جاتا تھا، کہتے ہیں تب اُن کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی تاہم بعد میں بھٹو صاحب کے ان کے ساتھ  تعلقات اچھے نہیں رہے،  دونوں کے مابین طاقت کا بنیادی مرکز طول پکڑ گیا اور پھر اُس کے بعد کی تاریخ ہم آج بھی کھوج رہے ہیں۔

بھٹو صاحب ایک کرشماتی شخصیت کے مالک تھے، پاکستان کی سیاست میں اُس وقت جب میڈیا ایک حد تھا، اخبار نویس کی ویلیو تھی اور لوگ ریڈیو، اخبار یا جرائد  سے ہی معلومات حاصل کرسکتے تھے، اُس وقت بھٹو صاحب نے اپنی مقبولیت کے ساتھ ’’ہاؤس فل‘‘ قسم کے پاور شوز کئے، تاہم آج دیکھیں تو لگ بھگ 45 سال کے بعد بھٹو کا طلسم ٹوٹ رہا ہے، یہ ہرگز کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک انسان کے مرنے کے بعد اُس کی بیٹی کو ٹھیک ٹھاک مقبولیت حاصل ہو اور وہ 2 مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ہوجائے، اگر ہم  بغور دیکھیں تو سندھ میں بھٹو کا کرشمہ اب بھی کسی حد تک قائم ہے لیکن باقی پاکستان میں بھٹو صاحب کا طلسم اب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

پیپلز پارٹی والے خود یہ کہتے ہیں کہ زرداری صاحب کے آنے کے بعد پیپلز پارٹی میں وہ دم خم ہی نہیں رہا، سرویز بھی پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان سے پیپلز پارٹی کا الوداع سنا رہے ہیں اور شاید اس الیکشن میں سندھ سے بھی پیپلز پارٹی کو دھچکا لگ جائے۔ اس کی امید اگرچہ بہت کم ہے کہ سرویز کے مطابق پیپلز پارٹی ابھی بھی سندھ میں مقبول ہے لیکن اگر اپوزیشن مؤثر انداز میں اپنا پیغام ہر ووٹر تک پہنچا دیتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی کا اختتام سامنے کی بات ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ووٹر بہت جذباتی ہے اور وہ صرف سامنے کی چیز ہی دیکھتا ہے۔ اگر یہی ووٹر گہرائی میں جاکر سوچتا تو پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی۔

دوسری سب سے بڑی بات کہ پیپلز پارٹی کے پاس اب نظریاتی کارکن بہت کم رہ گیا ہے اور اُن کی اکثریت پی پی پی سے دلبرداشتہ ہوکر تحریک انصاف کی جانب کوچ کرچکی ہے، جبکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس اب کوئی بھی کرشماتی شخصیت کا حامل فرد نہیں، جس پر انویسٹمنٹ کرکے اُس کو لیڈر بنایا جا سکے۔ بلاول اگرچہ نوجوان ہیں لیکن اُن میں ’’ریئل کراؤڈ پُلر‘‘ والی بات نہیں اور چونکہ بلاول بھٹو زرداری کی سیاست اپنے والد کے زیر اثر ہے لہٰذا اُس کی اپنی شخصیت یہیں کہیں دب جاتی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کا مقابلہ اب ایم کیو ایم سے نہیں، جماعت اسلامی یا متحدہ مجلس عمل سے نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔

عمران خان آج اپنی مقبولیت کے عروج پر ہیں، انہوں نے بھی پاکستان کی سیاست میں کئی ٹرینڈز متعارف کروائے ہیں، وہ عوام جو 2 جماعتی نظام سے تنگ آچکی تھیں، عمران خان اُن کی آواز بن کر سامنے آئے ہیں اور انہوں نے عوام کے سامنے تیسرا آپشن رکھا ہے۔ تحریک انصاف نے ہی سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال کرکے باقی سب پارٹیوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے باقاعدہ پروفیشنل میڈیا سیلز بنائیں، اس کے علاوہ ووٹر کا جوش اس حد تک عروج پر پہنچا دیا ہے کہ مخالفین کیلئے اُن کے دلوں میں نفرت ہے اور وہ ہر قیمت پر خان صاحب کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے اصطبل میں بہت سارے الیکٹ ایبلز بھی اکٹھے کرلئے ہیں، شاید ہمارا سسٹم ہی ایسا ہے کہ الیکٹ ایبلز کے بغیر الیکشن جیتنا نا ممکن ہے۔

خاں صاحب کا خیال ہے کہ وہ جب اسمبلی میں اکثریت حاصل کرکے کرسی اقتدار پر بیٹھ جائیں گے تو وہ الیکٹ ایبلز کو خود ہی سیدھا کرلیں گے، کیا وہ ایسا کرسکیں گے؟، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب خاں صاحب مستند اقتدار پر فائز ہونے کے بعد ہی دے سکتے ہیں، لیکن اگر ہم خیبر پختونخوا کی جانب دیکھیں تو بے شک وہاں کے سرویز میں پاکستان تحریک انصاف ایک مقبول جماعت ہے لیکن اس کی کارکردگی پر بہت سارے سرخ دائرے موجود  ہیں، خان صاحب میں بھٹو جیسا کرشمہ نہیں ہے لیکن یہ سچ ہے کہ وہ ایک کراؤڈ پُلر ہیں اور 2 جماعتی سسٹم میں تیسرا آپشن بن کر سامنے آئے ہیں، عین ممکن ہے کہ وہ اس مرتبہ اتحادی حکومت بھی بنالیں لیکن وہ حکومت کتنی دیر چلے گی، یہ خود عمران خان پر منحصر ہے۔