پیسےلے لو، ڈیمز بنادو

July 11, 2018

کالا باغ ڈیم ایسا منصوبہ ہے، جس پرپوری قوم کبھی اکٹھی نہیں ہوتی، تاہم دیامربھاشااور مہمند ڈیمز کے منصوبوں پر قوم کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان ڈیمز کی تعمیر سے پاکستان میں پانی کی کمی کو دور کیاجاسکے گا، ساتھ ہی بجلی کی پیداوار میں اضافہ بھی ممکن ہوسکے گا جس سے امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ آنے والے وقت میں ملک سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

اس حوالے سے واپڈا کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)مزمل حسین کی جانب سے بیان بھی سامنے آیا کہ ان دونوں ڈیمز کی تعمیر2018-2019ء میں ہی شروع کردی جائے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم میں8اعشاریہ ایک ملین ایکر فٹ تک پانی جمع کیاجاسکے گا، ساتھ ہی اس کی مدد سے ساڑھے 4ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کی جاسکے گی۔ مہمند ڈیم میں ایک اعشاریہ2ملین ایکڑفٹجمع کیاجاسکے گا، ساتھ ہی اس کی وجہ سے 800میگا واٹ کی بجلی پیدا کی جاسکے گی۔ ان تمام اعدادوشمار سے بخوبی واضح ہورہاہے کہ ان دونوں ڈیمزکی تعمیر کی بدولت پانی کے ساتھ ساتھ بجلی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔

اگر ان دنوں دیامر بھاشا ڈیم یامہمند ڈیم کے بارے میں باتیں کی جارہی ہیں تو اس کا سہرا سپریم کورٹ کے سر جاتا ہے، جس نے کچھ دن پہلے ہی یہ ہدایات جاری کی تھیں کہ مندرجہ بالا دونوں ڈیمز کی تعمیر فوراً ہی شروع کی جائے، ساتھ ہی کورٹ کی جانب سے پاکستانی شہریوں بالخصوص اووسیز پاکستانیوں سے بھی گزارش کی گئی تھی کہ وہ بھی ان ڈیمز کی تعمیر کے لئے پیسے بھجوائیں ۔ حکومت کی جانب سے بھی کورٹ کےاس فیصلے کے بعد کہاگیا کہ وہ ان دونوں ڈیمز کی تعمیر کے لئے فنڈاکھٹے کرے گی، تاکہ ان کی تعمیر جلد سے جلد شروع کی جاسکے۔  سات ہی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک ودیگر مخصوص بینکوں میں ڈیمز کے فنڈزمیں دئیے جانے والے  پیسے جمع کروائے جاسکیں گے۔ ان اکاؤنٹس کی دیکھ بھال اکاؤنٹینٹ جنرل آف پاکستان ریوینیو اسلام آباد کے ذمے ہوگی۔ڈیمز کے لئے مخصوص کئے جانے والےان تمام اکاؤنٹس میں مقامی اور غیر ملکی افراد کی جانب سے دئیے جانےوالے فنڈز کو جمع کیا جارہاہے۔

 سب سے پہلے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے  بذات خود10لاکھ کی رقم ڈیمزکی تعمیر کے لئے دینے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے اعلان سامنے آیا کہ پاکستان آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے آفیسرز کی جانب سے  ان ڈیمز کی تعمیر کے لئے 2دن کی تنخواہ دی جارہی ہے جبکہ فوج کے سپاہیوں کی ایک دن کی تنخواہ دونوں ڈیموں کی تعمیر کے لئے دی جائے گی۔

اب جہاں چیف جسٹس اور فوج کے افسرا ن کی جانب سے فنڈز فراہم کرنے کی بات آگئی ہے تو ملک کے سیاستدان اس میں پیچھے کیوں نظر آرہے ہیں ، وہ سیاستدان جو ملک کا پیسہ کرپشن کرکے کھاچکے ہیں ، ان سے جرمانے کی مد میں پیسہ وصول کیا جائے اور وہ پیسہ ان دونوں ڈیمز کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جائے، اگر الیکشن کمپین کے لئے سیاستدان کروڑوں روپے لگاسکتے ہیں تو ملک و قوم کو فائدہ پہنچانے والے ان ڈیمز کی تعمیر کے لئے پیسے دینے میں پیچھے کیوں نظر آرہے ہیں ، ساتھ ہی ایک اور بات یہ کہ تمام سرکاری و نجی اداروں کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ لاکھوں روپے تنخواہوں کی مد میں لینے والے افسران بھی کم ازکم دو دن کی تنخواہ اس فنڈ کی مد میں دیں ۔ ہر چھوٹا بڑا ادارہ اس مہم میں بھرپور ساتھ دے اور اپنی طرف سے تھوڑے تھوڑے پیسے بھی دیدے تو قطرے قطرے سے دریا بن ہی جائے گا۔

 اگر ایسا کرلیا گیا تو ایک ہفتے کی قلیل مدت میں ہی ان ڈیمز کی تعمیر کے لئے رقم کا بندوبست ہوجائے گا اور تعمیر کا فوراً ہی آغاز کیا جاسکے گا، اب تو واقعی یہ وقت آگیاہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں سے یہ کہا جائے ’’پیسے لے لو اور ڈیمز بنادوــ‘‘۔