پیپلز پارٹی اور کراچی

hafizmuhammadisrarahmed
July 11, 2018

عام انتخابات میں صرف دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں، دو ہفتوں بعد عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کرے گی، یہ انتخابات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات میں حیران و پریشان کردینے والے نتائج سامنے آسکتے ہیں، کراچی کو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کی وجہ سے جانا جاتا ہے اس لئے کراچی کو شہر قائد بھی کہا جاتا ہے، کراچی کی دوسری پہچان ایم کیو ایم ہے جو آج بھی شہر قائد کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔

میرے موضوع 'پیپلز پارٹی اور کراچی' کا انتخاب دیکھ کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے اس موضوع کا انتخاب کیوں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی یہ دعوی کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کراچی سے کلین سویپ کرے گی۔ یہ دعوی تو اب تک شہر کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم نے بھی نہیں کیا۔ سعید غنی کے اس کھوکھلے دعوے کے بعد اس موضوع پر لکھنا اور حقائق سامنے لانا میں بطور لکھاری اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ پیپلز پارٹی کا یہ دعوی نیا نہیں، 2013 کے انتخابات سے قبل بھی پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے سابق صدر نجمی عالم یہ دعوی کر چکے ہیں، نجمی عالم پیپلز پارٹی کراچی کے صدر ہونے کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں یوسی چیئرمین کی سیٹ ہار گئے تھے اور الیکشن گزرتے ہی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، یہی حال پیپلز پارٹی کراچی کے موجودہ صدر سعید غنی کا ہوگا کیونکہ وہ کراچی سے کلین سویپ کا دعوی تو کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی سیٹ بھی نہیں جیت سکتے، سعید غنی کے حلقے کی عوام ان سے سخت نالاں ہیں کیونکہ ضمنی انتخابات سے قبل سعید غنی نے حلقے کی عوام سے جو وعدے کئے وہ ان میں سے کسی ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کرسکے۔

لیاری واقعے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے سعید غنی کو کراچی کی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا اعلان انتخابات کے بعد متوقع ہے، پچھلے ہفتے لیاری میں پیپلز پارٹی کے قافلے پر پتھراؤ ہوا تھا جس کے بعد پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اپنے قافلے کو دوسری طرف موڑنا پڑا، بلاول بھٹو کا کوئی قصور نہیں وہ تو لیاری کی گلیوں سے بھی واقف نہیں مگر سعید غنی، نجمی عالم، قادر پٹیل اور نبیل گبول اس پتھراؤ کے ذمہ دار ہیں کیونکہ لیاری والے انہیں لوگوں کو اپنا مجرم سمجھتے ہیں، لیاری کے مشتعل نوجوانوں کا نشانہ بلاول بھٹو نہیں تھے بلکہ سعید غنی اور نبیل گبول تھے اور اس واقعے میں جس گاڑی کے شیشے ٹوٹے وہ نبیل گبول کی گاڑی تھی، لیاری کے مشتعل نوجوانوں کے احتجاج کا طریقہ کار درست نہیں تھا۔ یہ بہتر ہوتا کہ وہ پرامن احتجاج کرتے مگر ان کا غصہ اور احتجاج جائز تھا۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں لیاری میں ایک نام نہاد آپریشن ہوا جس کی قیادت آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور بہادر بچے راؤ انوار نے کی جو ان دنوں جعلی پولیس انکاؤنٹر کے الزام اور اور نقیب قتل کیس میں جیل میں ہیں، اس آپریشن میں گینگ وار کو تحفظ فراہم کیا گیا اور لیاری کے باسیوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی یہی وجہ ہے کہ لیاری والے پیپلز پارٹی کے خلاف ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کراچی کی قیادت کو کراچی سے کلین سویپ کے دعوے کرنے کے بجائے لیاری کی سیٹ اور لیاری میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانا چاہئے۔