الیکشن 2018 اور تخت لاہور

Dr Tanweer Sarwar
July 10, 2018

(دوسرا حصہ)

 لاہور میں صوبائی اسمبلیوں کی 30 نشستوں پر 940 سے زائد امیدوار آمنے سامنے ہوں گے، 2013ء کے انتخابات میں لاہور میں صوبائی اسمبلی کی 25 سیٹیں تھیں، نئی حلقہ بندیوں کے بعد اس بار الیکشن 2018ء میں 5 سیٹوں کا اضافہ ہوگیا، تمام حلقوں کی جغرافیائی تبدیلی کی وجہ سے ووٹروں اور امیدواروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور بعض امیدواروں کیلئے بھی مسئلہ بنا ہوا ہے کہ ان کے حلقے میں کون کون سے علاقے شامل ہیں، یہ تبدیلی اس بار الیکشن پر بھی اثر انداز ہوگی۔

ایک نجی ٹی وی کے سروے کے مطابق لاہور میں ن لیگ کو 57 فیصد اور تحریک انصاف کو 36 فیصد ووٹرز کی حمات حاصل ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کو 50 فیصد اور ن لیگ کو 37 فیصد حمایت حاصل ہوگی، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ لاہور میں کس کی فتح ہوگی، لاہور میں صوبائی حلقہ پی پی 144 میں ن لیگ کے مضبوط امید وار سمیع اللہ خان اور تحریک انصاف کے خالد ایڈووکیٹ صاحب کے درمیان مقابلہ ہوگا، پی ٹی آئی کے خالد ایڈووکیٹ پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ سمیع اللہ خان پہلے بھی منتخب ہوچکے ہیں، اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ن لیگ کے امیدوار کی پوزیشن یہاں مضبوط نظر آتی ہے۔

پی پی 145 میں غزالی سلیم بٹ، پی پی 146 سے حمزہ شہباز شریف، پی پی 147 سے مجتبیٰ شجاع الرحمن، پی پی 149 سے میاں مرغوب، پی پی 150 سے بلال یاسین، پی پی 151 سے باقر حسین، پی پی 162 سے یاسین سوہل، پی پی 164 اور پی پی 165 سے شہباز شریف، پی پی 168 خواجہ سعد رفیق اور پی پی 173 سے پہلے مریم نواز شریف امیدوار تھیں لیکن ان کی سزا اور نااہلی کی وجہ سے اب اس سیٹ پر عرفان شفیع الیکشن لڑیں گے، ان سیٹوں پر تحریک انصاف کی نسبت ن لیگ کے تمام امیدوار مضبوط ہیں، اس لئے ان کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں، اب بھی لاہور میں ن لیگ کے ووٹروں کی تعداد زیادہ ہے، لیکن اس بار تحریک انصاف کے ووٹروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، اس لئے کئی نشستوں پر سخت مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

تحریک انصاف کی جانب سے پی پی 146 سے ملک زمان نصیب، پی پی 147 سے طارق سادات، پی پی 148 سے آجاسم شریف، پی پی 150 سے چوہدری محمد اصغر، پی پی 151 سے اسلم اقبال، پی پی 157 سے محمد شعیب صدیق، پی پی 160 سے میاں محمود الرشید، پی پی 161 سے ملک جہانگیر، پی پی 162 سے عبدالعلیم خان اور پی پی 173 سے ملک سرفراز کھوکھر امیدوار ہیں، اس کے علاوہ باقی حلقوں پر ملا جلا رحجان ہے، تحریک انصاف کی جانب سے اسلم اقبال، عبدالعلیم خان، آجاسم شریف، ملک زمان نصیب اور محمود الرشید مضبوط امیدوار ہیں اور یہ اپنے مخالف امیدوار کو سخت چیلنج دیں گے اور ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ امیدوار اپنی اپنی سیٹیں جیتنے میں کامیاب بھی ہو جائیں۔

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ن لیگ کے امیدوار کافی مضبوط نظر آتے ہیں لیکن تبدیلی کے نام پر بھی کافی لوگوں نے اس بار اپنا ووٹ تحریک انصاف کو دینے کا ارادہ کیا ہے، لاہور میں ن لیگ کی پوزیشن اس وجہ سے بھی مضبوط ہے کہ یہاں پر کافی ترقیاتی کام ہوئے ہیں اور کچھ ترقیاتی منصوبے اب بھی جاری ہیں، ن لیگ کی حکومت میں لاہور کی معروف شاہراہ فیروز پور روڈ، جیل روڈ، رنگ روڈ اور سمن آباد کے نالے کو کشادہ کیا گیا، فیروز پور روڈ اور جیل روڈ کو سگنل فری شاہراہ بنادیا گیا۔

ابھی حالیہ بارشوں میں لاہور پانی میں ڈوب گیا تھا لیکن نئی شاہراہوں پر کہیں بھی پانی کھڑا نہیں ہوا، ن لیگ کے دور حکومت میں سیورج کا کام صحیح طریقے سے نہیں ہوا، اب جس کی بھی حکومت آئے اسے سب سے پہلے سیوریج کے نظام کو درست کرنا ہوگا تاکہ دوبارہ ایسی صورتحال پیش نہ آئے، ابھی یہاں اورنج لائن ٹرین کا کام بھی جاری ہے، اس لئے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ صاف پانی کا ہے اسے بھی آنیوالی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا، لاہور کے کئی حلقوں میں سیوریج اور صاف پانی کا مسئلہ جوں کا توں ہی ہے، اس لئے ان حلقوں کے ووٹرز اس بار پی ٹی آئی کو ووٹ دے سکتے ہیں، اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن 2018ء میں پی ٹی آئی بھی لاہور سے سیٹیں لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔