Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

کرکٹ اورسیاست

SAMAA | - Posted: Jul 10, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 10, 2018 | Last Updated: 4 years ago

پاکستان میں کرکٹ اور سیاست کا بہت گہرا تعلق ہے۔ ایک وقت تھا جب کرکٹ میں سیاست ہوتی تھی۔ شاہد آفریدی اور پروفیسر محمد حفیظ کی ٹیم میں اپنی اپنی لابی تھی۔ کوئی بھی کپتان زیادہ عرصے تک ٹک نہیں پاتا تھا، یہ اس زمانے کی بات ہے جب کرکٹ میں سیاست عروج پر تھی مگر اب ٹیم سے سیاست کا خاتمہ ہوگیا ہے اس لیت ٹیم کامیابیاں سمیٹ رہی ہے۔ سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم نے آخری بار منعقد ہونے والی چیمپئنز ٹرافی جیت کر کامیابیوں کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع کیا اور حال ہی میں سہ فریقی ٹی ٹونٹی میں پاکستان کی نوجوان ٹیم نے فنچ کی قیادت پر مشتمل بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل آسٹریلیا کی ٹیم کو شکست دی۔

کرکٹ سے تو سیاست کا خاتمہ ہوگیا ہے مگر اب سیاست میں کرکٹر کی انٹری سے بڑے بڑے سیاستدان پریشان ہیں۔ جب عمران خان نے اپنی جماعت بنائی تھی تو اس وقت ان کا مذاق اڑایا گیا اور 2013 تک انہیں مخالفین کی جانب سے یہی طعنے دیے گئے کہ خان صاحب سیاست آپ کے بس کی بات نہیں، آپ کرکٹ کھیلیں۔ شاید یہ سیاستدان واقف نہیں کہ جتنی سیاست کرکٹ میں ہے شاید سیاسی جماعتوں میں نا ہو۔ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے سیاست میں آنے سے سیاست پر کرکٹ کا اتنا گہرا اثر پڑا ہے کہ کوئی سیاستدان دوسری جماعت میں شامل ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے فلاں جماعت کی وکٹ گرا دی۔ پی ایس پی کے چیئرمین مصطفی کمال بھی روزانہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو اپنی پارٹی میں شامل کرواتے اور یہی دعویٰ کرتے کہ انہوں نے ایم کیو ایم کی وکٹیں گرا دی ہیں۔

وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ کرکٹ کا میدان ہو یا سیاست کا میدان جب تک نئے کھلاڑی شامل نہیں کیے جائیں گے تب تک کامیابی نہیں مل سکتی۔ اگر کرکٹ کی بات کریں تو آپ کو یاد ہوگا کہ جب تک سینئر پلیئرز ٹیم کا حصہ تھے وہ پرفارمنس دکھائے بغیر ٹیم کا حصہ بنے رہتے تھے کیونکہ ان پر سینئر ہونے کی چھاپ جو تھی لیکن اب جب سے نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا ہے تب سے کامران اکمل، وہاب ریاض، عمر اکمل، محمد سمیع اور سہیل تنویر کی تو چھٹی ہوچکی ہے اور انکی جگہ سرفراز احمد، شاداب خان، محمد نواز، فخر زمان، شاہین آفریدی، حسن علی، فہیم اشرف، آصف علی اور حارث سہیل جیسے بہترین کھلاڑیوں نے لے لی ہے۔

جب نوجوانوں کو موقع دیا گیا تو اتنا ٹیلنٹ سامنے آیا ہے کہ کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹر پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ کس پلیئر کو ٹیم کا حصہ بنایا اور کس پلیئر کو ٹیم سے باہر کیا جائے۔

سیاست کے میدان میں بھی ہم پچھلے تیس سال سے پرانے چہروں کو بار بار آزما رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار دھوکہ کھاتے ہیں۔ اب ہمیں پرانے کھلاڑیوں کو بھی میدان سے باہر کرکے نوجوان امیدواروں کو موقع دینا ہوگا۔ چیف سلیکٹر کے پاس ہر سیریز سے پہلے نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا چانس ملتا ہے مگر عوام کو نئے امیدواروں کو منتخب کرنے کا چانس پانچ سال بعد ہی ملتا ہے، اس لیے اس مرتبہ ایسے امیدواروں کو منتخب کریں جو نوجوان ہوں اور ملک و قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔

پچیس جولائی کو عوام کو یہ موقعہ ملے گا کہ وہ تمام سینئر اور ریٹائرڈ سیاسی کھلاڑیوں کو سیاست کے میدان سے باہر کریں تاکہ قومی کرکٹ ٹیم کی طرح قومی سیاست اور ملک کی قیادت بھی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube