Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

گستاخانہ خاکے، سوشل میڈیا اورہم

SAMAA | - Posted: Jul 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزادی کے لیے ہمیشہ مذہب کا استعمال کیا گیا۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی متنازعہ فلم “فتنہ” کے ہدایتکار اور سیاستدان ‘گیرٹ ولڈرز’ کی جانب سے ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منعقد کروانے کا اعلان بھی ہے۔

برطانوی جریدے “دی ویک” کے مطابق ڈچ حکومت نے اعلان کیا کہ گستاخانہ خاکوں کے اس مقابلے میں بذریعہ ای میل بھیجے جانے والے خاکے بھی شامل کہے جائیں گے اور یہ مقابلہ سوشل میڈیا پر براہ راست دکھایا جائے گا۔گیرٹ ولڈرز وہی شخص ہے جس نے پارلیمنٹ میں قرآن مجید کی ترسیل روکنے کا بل پیش کیا۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں سے نصف قرآن پاک تلف کر دینے کا مطالبہ کرنے والا بھی یہی شخص تھا اور اسی نے ہالینڈ میں خواتین کے پردے پر پابندی کا بل بھی پیش کیا ۔

چند برس پہلے اسی طرز کے فعلِ قبیح کے بعد ڈنمارک کے جریدے جیلانڈ پوسٹن کے ایڈیٹر نے اپنے مضمون “میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاکے کیوں شائع کیے “ میں لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو آزادی اظہار کے تمام حقوق حاصل ہوں ۔ مسلمانوں کو میرا مشکور ہونا چاہیے کہ میں ان سے کچھ لینا نہیں بلکہ انہیں کچھ دینا چاہتا ہوں جو لوگ سمجھتے ہیں کہ محمد کے خاکے بنانا آزادی اظہارنہیں، توہین مذہب ہے وہ اپنے تقدس کو دوسروں پہ تھوپ رہے ہیں کیونکہ حقیقی جمہوریت وہی ہے جہاں کچھ بھی مقدس نہ ہو، اور تمام موضوعات اور سربراہان پر لکھا اور بات کی جائے‘‘۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ان خیالات کا تعلق مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے لیے صرف کائنات کی مقدس ترین ہستی تک رہا یعنی آزادی اظہار کیا صرف محبوبِ خدا کی شان میں گستاخی کرنے کا نام ہے؟؟ اگر نہیں تو کیا کبھی اسرائیلی وزیراعظم کا فلسطینی بچوں کو مارنے کے مناظر کا کارٹون بنایا؟؟شامی مسلمانوں پر ڈھائے مظالم کی ترجمانی کی ؟؟برما میں زندہ جلائے اور ذبح کیے جانے والے مسلمانوں کیلئیے آواز اٹھائی ؟؟کشمیر میں حاملہ خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹنے پر بھارتی حکومت کیلئیے مذمتی الفاظ لکھے گئے ؟؟۔

نہیں، ایسا نہیں ہوا کیونکہ بقول انکے یہ سب نسل پرستی کو ہوا دینے کے مترادف ہےاور پھر یہ پہلا واقعہ نہیں پہلے بھی کئی بار یہی حرکات کی گئیں ، تو سوچئیے کہ اب جبکہ سوشل میڈیا اکثریت کی رسائی میں ہے تو کیا ہم ایک طاقت بن کر ان گستاخانہ خاکوں کے چھپنے سے پہلے کچھ ایسا کر سکتے ہیں جن سے یہ شیطانی حرکت روکی جا سکے؟ ۔

دھیان رہے کہ اس معاملے میں حکومت ،میڈیا یا کسی بھی تیسرے فرد کی طرف دیکھنے کے بجائے خود مجھے اور آپکو آواز بلند کرنی ہےکیونکہ ذرا سوچیے کہ اگر قیامت کے روز سوال ہوا کہ ’’جب سوشل میڈیا پر اللہ کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کھُلے عام انتہائی غلیظ باتیں ہونے لگیں تو تم نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا‘‘؟۔ تب جواب کیا یہ ہوگا کہ ’’اُس وقت فیس بک پر سو لفظی کہانیاں لکھی جا رہی تھیں ، اشعار پوسٹ کیے جا رہے تھے سیاست پر بات ہو رہی تھی ، الیکشن زیرِ بحث تھے یا یہ کہ اس معاملے میں حکومت ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو کردار ادا کرنا چاہیے تھا جو انہوں نے نہیں کیا‘‘۔

ایسے میں حکومت یا میڈیا سے سوال کرنے کے بجائے خود سے یہ سوال کیجیے کہ ہم اس معاملے کو روکنے کیلئیے کیا کر سکتے ہیں؟ جہاد بالقلم کا حصہ بنیں، اس شیطانی مہم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ یہ ہی وقت ہے کہ جب سوشل میڈیا کو صرف تفریح اور وقت گزاری کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنی آخرت سنوارنے کے لیے استعمال کیا جائے کیونکہ ہم تو آج ہیں کل شاید نہ بھی رہیں لیکن کسے معلوم کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کو رکوانے کی ہماری یہ چھوٹی سی کوشش ، ہمارے یہ چند الفاظ ہی ہمارے لیے توشہ آخرت بن جائیں اور حساب کتاب کے وقت ہم سر جھکا کر عاجزی سے کہہ سکیں کہ ’’اے پروردگار، جب دنیا میں چند نا فرمان اور سرکش لوگ تیرے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی کرنے پر اتر آئے تب میں نے اپنی استطاعت اور اوقات کے مطابق تیرے محبوب کی حُرمت کیلئےجو بن پڑا وہ کیا۔ اے خدا ، تو اپنے محبوب کے صدقے میری ان ادنٰی کوششوں کو قبول فرما لے۔ بیشک تو قطرے کے بدلے سمندر عطا کر دینے پر قادر ہے‘‘۔
اللہ ہمارا مددگار ہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube