Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

ایون فیلڈ ریفرنس: احتساب عدالت کے اندر کا احوال

SAMAA | - Posted: Jul 6, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 6, 2018 | Last Updated: 3 years ago

ARTWORK: Muhammad Obair Khan

صبح 8 بجے جب میں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پہنچا تو تقریباً ایک درجن صحافی پہلے سے موجود تھے اور سب تکے لڑارہے تھے کہ آخر سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کی قسمت میں کیا لکھا ہے۔

میں نے ٹکڑا جوڑا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر آج سب سے پہلے نواز شریف کی فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست کی سماعت کریں گے۔

وقت 9:35 پر جج صاحب عدالت میں داخل ہوئے اور باہر کھڑے صحافیوں کو بتایا گیا کہ فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست کی سماعت جاری ہے۔

وقت 10:00 بجے جج محمد بشیر نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا اور ایک گھنٹے بعد نواز شریف اور مریم نواز کی درخواست کو مسترد کردیا۔

پھر بتایا گیا کہ احتساب عدالت ایون فیلڈ ریفرینس کا فیصلہ دوپہر 12:30 پر سنائے گی، اس اعلان کے بعد رپورٹر حضرات ایک بار پھر اندازے لگانے میں مصروف ہوگئے کہ آخر ہوگا کیا؟۔

خیر خدا خدا کرکے 12:30 بجے اور سب صحافی احتساب عدالت کے اندرونی دروازے پر جمع ہوگئے کیونکہ تمام لوگوں کو عدالت کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی بلکہ گنتی کے چند رپورٹرز کو اندر جانے کی اجازت تھی۔

اندر سے آنے والے ایک رپورٹر نے اطلاع دی کہ جج صاحب نے ریفرنس کا فیصلہ 2:30 بجے تک مؤخر کردیا ہے۔ پھر گھڑی کی سوئیاں 2:30 پر پہنچیں لیکن فیصلہ نہ آیا، بلکہ کہا گیا کہ مزید آدھے گھنٹے انتظار فرمائیں۔

ایک بار پھر 3 بجے کہا گیا کہ مزید آدھے گھنٹہ انتظار کروائیں اور پھر ایک بار پھر کہا گیا کہ آدھا گھنٹہ انتظار فرمائیں، اس طرح فیصلے کا نیا وقت 4 بجے مقرر ہوا۔

فیصلہ بار بار مؤخر ہونے پر کچھ رپورٹرز کوفت کا شکار تھے، تو دوسری طرف کچھ صحافی طرح طرح کے لطیفے سنا رہے تھے۔

ایک نے کہا : لگتا ہے فوٹو کاپی مشین خراب ہوگئی ہے۔

دوسرے نے کہا: لگتا ہے فیصلہ کہیں بہت دور سے آرہا ہے، اس لئے اب تک نہیں پہنچا۔

اندر سے خبر آئی کہ جج محمد بشیر اپنے ہی لکھے گئے فیصلے کا دوبارہ اپنے چیمبر میں بیٹھے مطالعہ کررہے ہیں تاکہ غلطی کی کوئی گنجائش نہ رہے۔

اللہ اللہ کرکے پتہ چلا کہ جج صاحب اپنے چیمبر سے اٹھ کر کورٹ روم میں آپہنچے ہیں۔ ابھی ہم فیصلے کے انتظار میں ہی تھے کہ پتہ چلا کہ کورٹ روم کی کنڈی اندر سے لگادی گئی ہے اور جو چند صحافی کورٹ روم میں تھے، انہیں بھی باہر نکال دیا گیا اور جج، نیب اور شریف خاندان کے وکلاء میں کچھ گفتگو ہورہی ہے۔

باہر رپورٹرز بے چین تھے کہ آخر اندر چل کیا رہا ہے، ایسے میں احتساب عدالت کے باتھ روم کی کھڑکی اطلاعات کا واحد ذریعہ بنی، اندر کیا ہورہا ہے کیا نہیں یہ اطلاعات باتھ روم کی کھڑکی سے ہی رپورٹرز تک پہنچ رہی تھیں۔

شام 4:00 بجے کے قریب جج صاحب نے فیصلہ سنایا، ہر طرف بھاگ دوڑ مچ گئی اور خبر بریک کرنے کے چکر میں تیزی سے بھاگتے صحافیوں نے بتایا کہ نواز شریف کو 10 سال کی سزا اور 80 لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ کیا گیا، مریم نواز کو 7 سال قید بامشقت اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 1 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

جس وقت فیصلہ سنایا گیا اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے صرف سابق وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری عدالت میں موجود تھے، جبکہ سابق سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی اور راجا ظفرالحق کچھ دیر عدالت میں رک کر میڈیا سے بات چیت کرکے چلے گئے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کہتی ہے کہ نواز شریف 25 جولائی سے قبل واپس آئیں گے اور قانون کا سامنا کریں گے، جبکہ آنیوالے دنوں میں سزاؤں کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube