Saturday, January 29, 2022  | 25 Jamadilakhir, 1443

عوام میں شعور، دیر آید لیکن درست آید

SAMAA | - Posted: Jul 4, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 4, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: نورسلیم

ان دنوں کراچی کے کسی بھی علاقے میں چلے جائیں، اُس علاقے سے کھڑے ہونے والے نمائندوں کے پینافلیکس جابجا سجے ہوئے دکھائی دے رہے ہوں گے۔ چار سال تک علاقے میں کوئی ڈھنگ کا کام نہ کرنے والا نمائندہ اب چہرے پر مسکراہٹ سجائے، علاقہ مکینوں سے ملاقات کرنے کے لئے علاقائی دورے پر موجود نظر آرہا ہے۔ علاقہ مکینوں سے اس وقت کی ملاقات کا منظر بیان کیا جائے تو اس نمائندے کی جانب سے اس طرح کے الفاظ کہے جاتے ہیں کہ ’’ہم تو آپ لوگوں کے خادم ہیں، ہم آپ کے مسائل حل کرنے کے لئے ہی میدان میں اُتر رہے ہیں۔ ہمیں ووٹ دیں تاکہ ہم آپ کے مسائل حل کریں۔‘‘ وغیرہ

گزشتہ کئی سالوں سے تو عوام ان نمائندوں کی ان ہی میٹھے جملوں کے جال میں پھنس کر انہیں با آسانی ووٹ دے دیا کرتی تھی۔ لیکن اب قوم اپنا حساب خود ہی مانگنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ اب اسے بہت دیر سے جاگ اٹھنے والی غیرت کہیں یا شعور۔۔۔ جو بھی ہے، ان باتوں کو دیکھ کر ایک شہری ہونے کے ناتے یہی کہنے کو دل کرتا ہے کہ ’’دیرآید لیکن درست آید‘‘۔

گزشتہ کئی دنوں سے ایسے واقعات بار بار ہوئے ہیں، جن سے بخوبی واضح ہو رہا ہے کہ اب لوگ صرف ایک بریانی کی پلیٹ کھانے یا تھوڑے سے پیسے لینے کے چکر میں کسی ایک پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے، یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ سیاسی پارٹیاں عموماً لوگوں کو اپنے جلسوں میں بلوانے کے لئے انہیں بریانی وغیرہ کھلانے یا پھر پیسے دینے کا لالچ دیتی ہیں۔ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ اسی لالچ کی وجہ سے لوگ ان کے جلسوں میں پہنچ جاتے ہیں، نا تو انہیں پارٹی کا منشور پتا ہوتا ہے اور ناہی اس نمائندے کے بارے میں کچھ پتا ہوتا ہے، بس وہ ان ہی چیزوں کے لالچ میں ووٹ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے رہے ہیں۔ لیکن ان دنوں لوگوں کے رویوں میں تبدیلی دیکھی جارہی ہے، اس خوشگوار تبدیلی کی وجہ چاہے ان کا اپنا ذہن ہو، میڈیا ہو، سوشل میڈیا ہو یا نئی پارٹیوں کے نئے نمائندے۔۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو، عوام میں آتے اس نئے شعور کی لہر کو ابھی مزید 25 جولائی تک ضرور برقرار رہنا چاہئے۔

اب ذرا بات کرلیتے ہیں، ان واقعات کی، جن کی وجہ سے پتا چلا کہ اب عوام میں شعور آ رہا ہے۔ متحدہ موومنٹ پاکستان کے رہنما و دوسرے دھڑے کے قائد فاروق ستار کراچی کی میمن مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے پہنچے تو انہیں وہاں لوگوں نے گھیر لیا۔ فاروق ستار کا وہاں نماز پڑھنا اس لئے تعجب کی بات تھی کہ کیونکہ گزشتہ چار سالوں کے دوران انہیں ایک مرتبہ بھی یہ خیال نہ آیا کہ یہاں جا کر بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ اب وہاں آئے ہوئے ایک بوڑھے نے انہیں جو باتیں سنائیں یقیناً انہوں نے چار سال میں نہیں سنی ہوں گی، اس بوڑھے شخص کی جانب سے یہی کہا گیا کہ اسلحہ کے زور پر پچیس سالوں سے کھالیں چھیننے والوں، اب ووٹ لینے کے لئے آگئے ہو۔ فاروق ستار نے جانے سے قبل لوگوں کو یقین دلوایا کہ اس مرتبہ ان کی پارٹی اچھی طرح لوگوں کی خدمت کرے گی۔

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان جب پی ایس 110 میں پہنچے تو لوگوں نے انہیں ووٹ دینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ جیتنے کے بعد وہ صرف اسمبلی میں بیٹھ جاتے ہیں یا پھر گاڑی میں اپنے گھر آتے جاتے نظر آتے ہیں، لوگوں کے لئے ان کی جانب سے علاقے کے مکینوں کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ اسی طرح این اے 247 میں تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی پہنچے تو لوگوں نے ’’گو علوی گو‘‘ کے نعرے تک لگا دئیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما جام مہتاب ڈہر جب پی ایس 18 میں اپنے  بیٹے کے ساتھ الیکشن کمپین کے لئے پہنچے تو وہاں مظاہرین نے انہیں گھیر لیا اور پولیس نے ان کی گاڑی کو نکالنےکے لئے بہت مشکل سے جگہ بنائی، تاکہ وہ مظاہرین کے چنگل سے بچ سکیں۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو، کراچی میں موجود اپنے سب سے مضبوط گڑھ والے علاقے یعنی لیاری میں پہنچے تو انہیں وہاںایک نئی صورتحال دیکھنے کو ملی، لوگوں نے ان کے قافلے پر پتھر تک برسا دئیے۔

یہ سب مناظر اسی لئے دیکھنے کو مل رہے ہیں کیونکہ عوام سالوں سے الیکشن کے دنوں میں ووٹ کے نام پر ان کے اردگرد منڈلانے والے نمائندوں کو اچھی طرح جان چکی ہے، اس نئے شعور کی لہر اب نمائندوں کے ذہن میں یہ بات ضرور واضح کردے گی کہ اس بار اگر لوگوں نے انہیں ووٹ دے کر کامیاب کروایا اور وہ ان کے لئے کچھ نہیں کر پائے تو انہیں عوام کو ضرور جواب دینا ہوگا، کیونکہ اب عوام خود ہی اپنا حساب مانگ لے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube