Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

سندھ کی سیاست بدل چکی ہے

SAMAA | - Posted: Jul 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago

پاکستانی سیاست میں کب،کیسے اور کیا تبدیلی آجائے کچھ پتا ہی نہیں چلتا۔ چند گھنٹوں میں بڑے بڑے سیاسی رہنما نااہل ہوجاتے ہیں۔ سیاست میں کبھی کسی جماعت کا پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کبھی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملک کے سیاست حالات میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے مگر سندھ کی سیاست کافی مختلف ہے۔ یہاں دوسرے صوبوں سے حالات کافی مختلف ہیں۔ سندھ میں ووٹ کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ مظلومیت کی بنیاد پر مانگا جاتا ہے۔ جب بھی کوئی ووٹر اپنے حقوق مانگتا ہے تو اسے یہ کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ بھٹو خاندان کی قربانیاں بہت ہیں۔ بہت سے جذباتی ووٹرز کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے اس ملک کے لئے اپنی جان قربان کردی تو کیا ہم انہیں اپنا ووٹ نہیں دے سکتے؟

میں ان تمام جذباتی ووٹرز سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا آپ جانتے بھی ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کیوں کی تھی؟ شاید آپ نہیں جانتے اس لئے آپ سوال نہیں کرتے۔ ذوالفقار علی بھٹو اس ملک کے پہلے لیڈر تھے جنہوں نے عوام کو آواز کی طاقت دی۔ بھٹو نے کہا تھا اپنا حق مانگوں اور اگر آپ کو اپنا حق نا ملے تو چھین لو۔

کہتے ہیں کہ ایک سیاسی جلسہ کے دوران ایک نوجوان رکاوٹیں پھلانگ کر اسٹیج پر چڑھ کر ذوالفقار علی بھٹو سے بڑے جذباتی انداز میں مخاطب ہو کر پوچھنے لگا کہ بھٹو صاحب آپ نے ہمیں دیا ہی کیا ہے،ہرروز جلسے جلوسوں کےشوروغل سےلوگوں کا وقت ضائع ہورہا ہے۔ یہ سسٹم اب بند ہونا چاہئے۔اتنے میں سیکورٹی گارڈز نے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اس نوجوان کو دبوچ لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے آگے بڑھتے ہوئے سیکورٹی جوانوں کو پیچھے کرتے ہوئے اس نوجوان کو آزاد کروا کر کہاکہ اے نوجوان وہ الفاظ پھر سے دہراؤ۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے۔  اس نوجوان نے جب پھر سے جارحانہ انداز میں وہی الفاظ دہرائے تو ذوالفقار علی بھٹو نے اس نوجوان کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا کہ میں نے یہی سیاسی شعور آپ کو دیا ہے تاکہ آج کا نوجوان اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑا ہو۔

بھٹو نے شعور دیا تھا کہ سامنے چاہے ملک کا وزیراعظم ہی کیوں نا ہو مگر اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے سے مت گھبرائیں۔ بھٹو کے عدالتی قتل کے بے نظیر بھٹو نے قیادت سنبھالی تو اس وقت سیاسی کارکنان نظریے کی بنیاد پر سیاست کرتے تھے۔ اس وقت کی اور آج کی سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج پیپلز پارٹی کے پاس نا تو کوئی نظریہ ہے اور نا ہی کوئی نعرہ۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے وزراء عوام سے ڈرتے تھے کہ اگر کسی نے انکی شکایت بے نظیر سے کردی تو انکا کیا بنے گا مگر اب طاقت کا استعمال کرکے عوام کو دبایا جا رہا ہے یہاں تک کہ سوال کرنے سے بھی روکا جا رہا ہے جس کی تازہ مثال سوشل میڈیا پر گردش کرتی وہ ویڈیو ہے جس میں سابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سوال کرنے والے عام آدمی کو ڈانٹ رہے ہیں۔ یہی نہیں مراد علی شاہ نے ویڈیو بنانے والے شخص کا موبائل بھی چھین لیا۔

گزشتہ دن لیاری میں بھی بلاول بھٹو کے قافلے کو روک کر عوام نے شدید احتجاج کیا اور پیپلز پارٹی کے خلاف نعرے بازی کی۔ جی ہاں، اب سندھ کی سیاست بھی بدل چکی ہے۔ لوگوں میں شعور پیدا ہوگیا ہے اور اب لوگ دس سال تک حکمرانی کرنے والی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے سوال کر رہے ہیں کہ آپ نے دس سالوں میں ہم عوام کو کیا دیا۔ لگتا ہے کہ پچیس جولائی کو ہونے والے الیکشن میں سندھ سے حیران کن نتائج سامنے آئیں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube