Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

عوام الناس کسے اور کیوں ووٹ دے ؟

SAMAA | - Posted: Jul 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jul 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago

ملک میں 25 جولائی 2018 کو عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیاگیا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے اکثریتی ایسے چہرے امیدوار کے طور پر سامنے لائے گئے ہیں جنہیں ملک کے 96 فیصد غریب مظلوم عوام کے مسائل کا سرے سے کچھ معلوم ہی نہیں، کیونکہ وہ ملک کی 4 فیصد مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ویسے بھی ہمارے ملک میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے عام آدمی کو اس قدر مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح سے جاگیرداروں وڈیروں کے سامنے قدم جاسکتاہے؟ لیکن مشکلات سے نمٹ کر کوشش بھی کرے تو الیکشن لڑنے کے لیے تیس اور بیس ہزار جیسی بڑی رقم کہاں سے لائے کہ وہ الیکشن میں باآسانی حصہ لے سکے۔

جب بھی کسی کو یہ کہتا سناجائے کہ زمہ دار شہری ووٹ ضرور ڈالیں تو سمجھ نہیں آتا کہ عوام الناس کسے ووٹ ڈالیں؟ جاگیردار ، وڈیرے اور سرمایہ داروں کو یا اُنکی سرپرستی میں کھڑے ہونے والے کٹھ پتلیوں کو ؟ لیکن اس سے عوام الناس کا کیا فائدہ؟ آپ خود سوچئے جب سرمایہ دار، صنعتکار، جاگیرداروں اور وڈیروں کی اکثریت جیت کر اسمبلی میں جائے گی تو وہ اپنے طبقے کے مشترکہ (سماجی، معاشی) مفادات کے تحفظ کے اعلاوہ عوام الناس کے بنیادی حقوق کی اُنکے دہلیز تک پہنچانے کے لیے قانون سازی کریں گے ؟ ہرگز نہیں۔

ملک میں اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں۔ اس میں اکثریت اِن ہی کی رہی ہے اور کبھی عوام دوست اقدامات ہم نے ہوتے نہیں دیکھے۔ تو اب کس طرح امید لگائی جاسکتی ہے؟ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو اپنے قائدین سے سوال کرنا چاہیے کہ پچھلے ادوار میں اُنکی جماعت نے اسمبلی میں کیا کردار ادا کیا؟ عوام کے بنیادی حق کے لیے کیا قانون سازی کی گئی؟ اگر پچھلے ادوار میں کچھ ناکرسکے تو کیاگارنٹی ہے کہ اب منتخب ہوکر تمام مسائل حل کردیے جائیں گے؟

حکمرانوں کی مسائل کے حل کے لیے عدم دلچسپی کے باعث ملک کی اکثریت انتخابات میں ووٹ ڈالنےکےلیے گھروں سے نہیں نکلتی۔ اسکے لیے ضروری ہے کہ بیلٹ پیپر میں ایک ایسا آپشن ہونا چاہیے کہ اگر ووٹر کو لگے کہ اِن امیدواروں میں سے کوئی بھی اِنکی نمائندگی کرنے کا حق نہیں رکھتا تو وہ سب کو مسترد کرسکے۔ اس طرح سے ہر سیاسی جماعت کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے صحیح امیدوار کو پارٹی ٹکٹ دے۔ اب اگر ایسا نہیں ہونے جارہا ہے تو اس کے بعد یہ آپشن ہے کہ عوام الناس ایسے انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرے جس میں معاشرے کے تمام طبقات کو انتخابات میں حصہ لینے کے مواقع میسر نہ ہو۔

معاشرے کے 4 فیصد مراعات یافتہ طبقے نے جس طرح سے ملک کے 96 فیصد عوام پر حکمرانی قائم کررکھی ہے اس سے معاشرے میں ہر قسم کا بگاڑ پیدا ہورہاہے۔ انتخابات محض سرمایہ دار، جاگیردار وڈیروں یا اُنکے کٹھ پتلیوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ حالانکہ جمہوریت کے لیے تو کہتے ہیں کہ یہ تو عوام کی حکومت ہوتی ہے۔ جوکہ عوام کے لیے عوام کے زریعے منتخب ہوتی ہے۔ لیکن ہمارےیہاں اس کی تشریح ایسے کی جاتی ہے کہ سرمایہ داروں ، جاگیردار وڈیروں کی حکومت سرمایہ داروں جاگیرداروں اور وڈیروں کے لیے۔ یہ ہی وجہ ہےکہ ہمارے یہاں جمہوریت کے ثمرات عوام الناس تک نہیں پہنچ پارہے ہیں۔ لہذا وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ ملک کے تمام طبقات کو برابر کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ قانون ساز اسمبلی میں سب کی نمائندگی ہو۔ اگر کہیں کسی جگہ کسی کے ساتھ ناانصافی ہو تو وہ بھرپور آواز اُٹھاسکے۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو معاشرے میں طبقاتی فرق مزید بڑھتا جائے گا جوکہ سب کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube