Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے

SAMAA | - Posted: Jun 30, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 30, 2018 | Last Updated: 4 years ago

پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد میں تاخیر یا التواء کے حوالے سے پائی جانے والی افواہیں اور بے یقینی دم توڑ رہی ہے۔ ابھی تک جو حالات نظر آ رہے ہیں اس کے مطابق پچیس جولائی کو ہونے والے عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اور کوئی بھی طاقت انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنتے نظر نہیں آرہی۔ پچیس جولائی کو پاکستانی عوام ملکی تاریخ کے تیرہویں اور سب سے اہم انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بروقت انتخابات کرانے کا جو اعلان کیا ہے وہ اس پر قائم ہیں اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات خودکش دھماکوں، دہشتگردی کے مختلف واقعات، سیاستدانوں پر حملوں اور سازشوں کے باوجود مقررہ وقت پر منعقد ہوئے تھے، اس وقت بھی کچھ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سیلاب کی تباہ کاریوں اور متاثرین کو بسانے کا بہانہ بنا کر انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ سامنے آیا تھا مگر عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوئے تھے اور مجھے یقین ہے کہ پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات بھی مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے حلقہ بندیوں میں پیچیدگیوں اور تبدیلی کے باوجود انتخابات بروقت ہونے کا اعلان خوش آئند امر ہے۔

ایک طرف قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرنے والی جماعت تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلی پرویز خٹک کی جانب سے عام انتخابات کے التواء کیلئے الیکشن کمیشن کو خط لکھا گیا، تو دوسری طرف بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ایک ماہ کیلئے عام انتخابات میں تاخیر کا مطالبہ کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے بھی اسی طرح کا مطالبہ کیا اور انتخابات ملتوی کرنے کی بات کی۔ کسی بھی سیاسی رہنما کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ انتخابات کے التواء کا مطالبہ کرے۔ عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہونی چاہئے اور یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کے التواء کے کسی بھی غیر جمہوری مطالبے پر کان نہ دھرے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی دباؤ برداشت کرے کیونکہ ملک میں انتخابی عمل کا آغاز ہوچکا ہے اور امن وامان کی صورتحال بھی تسلی بخش ہے۔

سیاسی جماعتوں کے رہنما یہ دعوی کر رہے ہیں کہ انکی جماعت انتخابات کے لئے تیاریاں مکمل کرچکی ہے لیکن انہی کی جماعت کے کچھ رہنما انتخابات کے التواء کی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد انتخابات کو ملتوی کرنے کا کوئی آئینی طریقہ موجود ہی نہیں۔ انتخابات کے التواء کی سازش جمہوریت کو کمزور کرنے اور جمہوری قوتوں کو اقتدار کی دستور کے مطابق منتقلی سے روکنے کی کوشش ہے۔ جمہوری عمل کے چلنے ہی میں سیاسی جماعتوں کی کامیابی اور بقاء ہے۔ جو جماعت یا اس کے حامی سمجھے جانے والے عناصر انتخابات کے التواء کیلئے اسباب پیدا کرنے کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں ان لوگوں کو نہیں معلوم کہ اگر انتخابات ملتوی ہوئے تو سب سے زیادہ نقصان انہی کا ہوگا۔ سازشی عناصر کچھ بھی کرلیں نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار  کسی صورت انتخابات کے التواء پر راضی نہیں ہوں گے اور الیکشن کمیشن کو آئین و دستور کے مطابق بروقت شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھانے کی ہدایت کریں گے۔ بہتر ہوگا کہ سیاسی جماعتیں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی بجائے انتخابات کی تیاری کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube