Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

فیفا ورلڈ کپ اورتاریخی اپ سیٹ

SAMAA | - Posted: Jun 29, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 29, 2018 | Last Updated: 4 years ago

Source: Reuters

فیفا ورلڈ کپ روس میں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔پہلا مرحلہ ختم ہوگیاہے اور پری کوارٹرفائنلز کی لائن اپ مکمل ہوچکی ہے۔  راؤنڈ میچز میں اپ سیٹ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

ورلڈ کپ فٹبال کی تاریخ میں سب سے بڑا اپ سیٹ جرمن ٹیم کی جنوبی کوریا کے ہاتھوں شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہونے سے ہوا۔ جرمنی نے 80 سال بعد ورلڈ کپ میں اگلے مرحلے کے لئے کوالیفائی نہیں کیا۔اس سے قبل جرمنی کی ٹیم فرانس میں ہونے والے(1938)کے ورلڈ کپ کے پہلے راؤنڈ میں ہی ایونٹ سے باہر ہوگئی تھی ۔ روس میں جاری ورلڈ کپ میں میچ ریفری کا رویہ بھی جانب دار دیکھنےمیں آیا۔ گروپ ایف کے میچ میں ریفری نے جرمنی کو پورا پورا موقع دیا۔میچ میں کورین ٹیم بھی جرمنی کی جان کو آگئی۔کھیل کے انہتر ویں منٹ میں جرمن دفاعی کھلاڑی نے کورین اسٹرائیکرسان ہیونگ کو ایک ہاتھ سے کھینچا اور گرادیا اس پر ریفری نے جرمن کھلاڑی کو یلو کارڈ دکھانے کے بجائے کورین کھلاڑی کو ہی یلو کارڈ دکھا دیا ۔ انجری ٹائم میں کوریا نے پہلا گول کیا،ریفری نےکورین اسٹرائیکرکوآف سائیڈ قرار دیا ۔ فیصلہ ریویو پر گیا اورجرمنی کےخلاف گول قرار دیا گیا۔دوسرا گول بھی کوریا نے واضح کیا اور اسکور دوصفر ہوا۔کھیل کے انجری ٹائم بھی نومنٹ رکھا گیا لیکن جرمنی کے نصیب میں فتح نہیں تھی اور وطن واپسی کا ٹکٹ مقدر تھا۔ایسا ہی ایک لمحہ ارجنٹینااور نائجیریا کے میچ میں  دیکھنے میں آیا جب ارجنٹینا کے دفاعی کھلاڑی سے ڈی میں گیند سر سے لگ کر ہاتھ پر لگی اور نائجیرین کھلاڑیوں کے اپیل کرنےپر ریویو لیا گیا اور نائجیریا کو پنالٹی دینے کا فیصلہ ہوا لیکن ریفری نے میدان سے باہر جاکر ری پلے دیکھا اور پنالٹی کینسل کردی۔

یہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ورلڈ کپ میں فیفانے بھی بڑی ٹیموں کو اگلے راؤنڈ میں پہنچانے میں بھرپور دلچسپی دکھائی ورنہ متنازع فیصلے کے بعد فیفا نے ریفری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔فیفا اور فٹبال کی دنیا میں یورپ اور لاطینی امریکا کی ہی اجارہ داری ہے ۔۔ اس  ورلڈ کپ میں ایشیا اور امریکا کی ٹیمیں بھی بھر پور تیاریاں کر کے آئی تھیں۔ نائجیریا کو افریقا  سے دیکھ لیں تو ایران اور جنوبی کوریا نے ایشیا کی جانب سے شاندارکھیل پیش کیا لیکن اگلے مرحلےمیں رسائی حاصل نہ کرسکے۔ بڑی ٹیموں کے کھلاڑی تو زیادہ تر لیگز کھیلتے ہیں ملک کے لئے تو صرف ورلڈ کپ کوالیفائنگ ہی کھیلتے ہیں ۔جب ٹیم ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی کرلیتی ہے تو اسٹارز فٹبالرز کا کام ختم ہوجاتا اور پھر اسٹار فٹبالر لیگز کھیلنے لگتےہیں۔ زیادہ لیگز کھیلنے کی وجہ سے کھلاڑی انجریزکا بھی شکار رہتے ہیں۔ مصر کے محمد صلاح چیمپئینز لیگز کے فائنل میں زخمی ہوئے اور ورلڈکپ تک انجری کا ہی شکار رہے۔اس کے برعکس چھوٹی ٹیموں کے کھلاڑی تمام تر توانائیوں کے ساتھ میدان میں اترے اور بڑی ٹیموں کو ٹف ٹائم بھی دیا۔ ورلڈ کپ میں جرمنی کو چھوڑ کر تمام فیورٹ ٹیموں نے ناک آؤٹ مرحلےکے لئے کوالیفائی کرلیا ہے اب دیکھنا یہ کہ آر یاپار مرحلے میں ٹیموں کی کارکردگی کیا رہتی ہے اور آخرکار فٹبال کی دنیا پر حکمرانی کا تاج کس کے سر پر سجتا ہے،اس کے لیے  پندرہ جولائی کا انتظارکرناپڑےگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube