Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

موقع پرستی

SAMAA | - Posted: Jun 26, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Jun 26, 2018 | Last Updated: 4 years ago

موقع پرستی ایک فن ہے، ایک ہنرہے، ایک قابلیت ہے۔ جو کہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ویسے تو ہم پاکستانی اس میں ید طولیٰ رکھتےہیں مگر کچھ لوگ اس ہنر میں واقعی بے مثال اور باکمال ہوتے ہیں۔ کہاں کسی کو رام کرناہے، اپنے آئینے میں اتارنا ہے؟ کہاں کسی سے گلوخلاصی کرنی ہے؟ موقع شناس اس معاملے کا خاص گر جانتےہیں۔ معاشرتی معاملات ہوں، سیاست ہو، سماجی امور ہوں، دفتری کام یا اپنے باس کی آنکھوں کا تارا بننا، موقع پرستوں کی شاطر بازی اور ادائے دلنوازی کی داد دینا پڑتی ہے۔

ویسے تو موقع شناس شعبہ زندگی کے ہر موڑ پرنابغہ روزگار ہیں مگر سیاست میں ان کی آن نرالی اور شان کمالی ہے۔ برسوں تک اقتدار کے مزے لوٹ لیں اور جب ذاتی مفاد کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہو تو کمال بے نیازی سے کسی اور کے کارواں کا حصہ بن جائیں۔۔ کہاں کا نظریہ اور کہاں کی نظریاتی دھنیں؟ صاحب یہ باتیں فلمی ہیں اور اسکرینوں پر یا پھر کسی باغی کی کتاب میں اچھی لگتی ہیں۔

ملک میں انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ کل تک عوام جنہیں چمکتی دمکتی اسکرینوں پر دیکھتے تھے  وہی سیاسی نابغے آجکل ان کے بیچوں بیچ  پھلجڑیاں چھوڑ رہےہیں۔ نئے وعدے ، نئے دعوے، نئی رسمیں ، نئی قسمیں، نئے خواب،نئے سپنے اور سپیدہ سحری کی نئی چکا چوند، جس کے لئے یہ بے چارے بائیس کروڑ عوام تو کیا ان کے پرکھے بھی ترستے رہے۔

جو ان بے کسوں پر گزری سو گزری مگر اب جو آنےوالا کل ہے اس کیلئے منصوبہ بندی ضروری ہے۔ تبھی تو یہ مہان موقع پرست، موقع شناسی کا اعلیٰ مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو پھر سے سبز باغ دکھا رہےہیں۔ امید کے پودے مرجھا گئے ہیں تو کیا ہوا؟ آس کے پھول کملا گئے ہیں تو کوئی غم نہیں۔ آنکھوں میں نیند اور خواب نہیں ، ارمانوں پر شباب نہیں تو بھلا یہ بھی کوئی فکر والی بات ہے۔ امیدوں کے ان سوداگروں سے ملئے زندگی کی رونقیں پھر سے لوٹ آئیں گی۔

مختلف سیاسی جماعتوں میں جمہوری اقدار کی تکریم اور ٹکٹوں کی تقسیم نے ہمارے اسے گلے سڑے نظام کا چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ چوہدری نثار سے لیکر زعیم قادری کی ناراضی تک، جیالوں کے اسٹنٹس سے لیکر دھرنا جماعت کے خلاف اپنے کارکنوں کی دھرنا گردی تک، پوری فلم دیکھتے جائیں اورموقع پرستوں کی دلبرانہ اداؤں سے محظوظ ہوتے جائیں۔

تبدیلی کے دعویدارہوں، ترقیاتی کاموں کی ہاہاکار مچانے والوں کے کارنامے ہوں،مذہب کے نام پر سیاست گردی کرنے والے ہوں، جمہوریت پسندی کی آڑ میں قوم پرستی کا زہر پھیلانے والے ہوں یا پھر روٹی کپڑا اور مکان کے کھوکھلے نعرے لگانے والے، عوام کو ان کا ہرزخم یاد ہے پھولے نہیں ہیں۔

 کل تک سرداروں اور لغاریوں کی بیماریوں نے قوم کو یرغمال بنا رکھا تھا مگر وقت کا یہ حسین ستم دیکھ لیں عوام جن کے جادوئی حصار میں اور افیمی خمار میں گرفتار تھے، شعور و آگہی کے کلہاڑے نے ان بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ یہ موقع پرست اب جہاں کہیں جاتے ہیں پہلے ان سے گزشتہ پانچ برسوں کی کارگزاری پوچھی جاتی ہے۔ جیالے لیڈر نثار کھوڑوجو خاصے بزلہ سنج سیاستدان ہیں ایک چرب زبان جوان نے کچھ ایسی ہی گستاخی کی، کھوڑو صاحب سے جب کوئی جواب نہ بن پایا تو خاموش رہے مگر ہم جانتے ہیں کھوڑوصاحب نے دل ہی دل میں اس کوڑھ مغز جوان کو ضرور یہ بددعا دی ہوگی کہ تیری زبان کو کوڑھ لگ جائے، تیرے پورے خاندان کو خارش ہوجائے، بھلا یہ بھی کوئی وقت ہے کارکردگی پوچھنے کا؟

موقع شناسوں کا ایک ٹولہ ایسا بھی ہے جو ذرا وکھرے انداز میں اپنا کام کرتا ہے۔ پوری قوم کو امید ہے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونگے لیکن یہ موقع پرس ہرحال میں انتخابات کا التواء چاہتے ہیں۔ کسی کو ملکی حالات ٹھیک نہیں لگ رہے تو کسی کو آرٹیکل 62، 63 کی فکر ستارہی ہے۔ پیرپگاڑا ، چوہدری شجاعت حسین اور سراج الحق کو تو انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے۔ البتہ اندر کی خبر رکھنے والے کہتےہیں کہ تاریکیوں کےسرپرست جو بھی کہتے پھریں چناؤ وقت پر ہی ہوگا۔

حالات پر نظر رکھنے والے تو یہ بھی دعویٰ کرتےہیں کہ کسی کو بھی زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں اکثریت کسی کی نہیں آنےوالی۔۔ چلیں بات جو بھی ہو، موقع شناسوں کی ہرادا خاص ہے اور ان کے لیے ہر رت راس ہے مگر عام لوگ کیا اتنے مردم شناس ہیں کہ اس ہجوم میں بھی حقیقی رہنما کا انتخاب کرسکیں؟

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube