Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

عام انتخابات اور موروثی سیاست

SAMAA | - Posted: Jun 19, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 19, 2018 | Last Updated: 4 years ago


ملک میں جمہوریت دس برس کی ہو چکی ہے مگر آج بھی ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنے ہی خاندان کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ موروثی سیاست کی بات کی جائے تو سب سے آگے پیپلز پارٹی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری این اے 213 نواب شاہ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کے صاحبزادے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری این اے 200 لاڑکانہ، کراچی کے علاقے لیاری اور خیبر پختونخوا کے شہر مالاکنڈ سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ آصف زرداری کے بہنوئی میر منور تالپور این اے 219 میرپورخاص سے اور سابق صدر کی ہمشیرہ اور میر منور تالپور کی اہلیہ فریال تالپور پی ایس10 لاڑکانہ سے انتخاب لڑرہی ہیں۔ آصف زرداری کی دوسری ہمشیرہ عذرا پیچوہو پی ایس 39 بے نظیر آباد سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس طرح آصف زرداری ان کی دو بہنیں، بہنوئی اور بیٹا انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہی نہیں اگر بلاول بھٹو لاڑکانہ اور لیاری سے منتخب ہو جاتے ہیں تو بلاول بھٹو لاڑکانہ کی سیٹ اپنے پاس رکھیں گے اور لیاری کی سیٹ پر ضمنی انتخابات ہوں گے جہاں سے ان کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ضمنی الیکشن میں حصہ لیں گی۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور ان کی بیٹی نفیسہ شاہ بھی خاندانی سیاست کو پروان چڑھاتے ہوئے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ منظور وسان اور نواب وسان بھی خیرپور سے ہی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ٹھٹھہ کے شیرازی برادران کو بھی پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشتوں کے لیے ٹکٹ دیئے ہیں۔ شیرازی برادران سال میں دو مرتبہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما تحریک انصاف پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ پنجاب میں انہوں نے سیاسی لوٹوں کو ٹکٹ دیئے ہیں مگر پی پی پی کے رہنما یہ بتانے سے ڈر رہے ہیں کہ سندھ میں ان کی پارٹی نے بھی یہی کام کیا ہے۔ ن لیگ سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے شیرازی برادران، مسلم لیگ ن سے ہی شامل ہونے والے حکیم بلوچ اور ہمایوں خان، ایم کیو ایم سے شامل ہونی والی ہیر سوہو، تحریک انصاف سے شامل ہونے والی ناز بلوچ، مسلم لیگ ف سے شامل ہونے والے امتیاز شیخ، جام مدد علی، قاسم سومرو اور ماروی راشدی کو بھی پیپلز پارٹی نے ٹکٹ جاری کئے ہیں۔ یہ عجیب منافقت ہے کہ اگر کوئی پیپلز پارٹی چھوڑ کر دوسری کسی جماعت میں شامل ہو تو وہ لوٹا ہے اور اگر کسی اور جماعت کا رہنما پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائے تو یہ ان کے نظریے کی جیت ہے۔

تحریک انصاف جو ہمیشہ موروثی سیاست کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے وہ بھی موروثی سیاست کو پروان چڑھا رہی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے خاندان کا کوئی شخص ٹکٹ حاصل نہیں کر سکا اور نا ہی پارٹی میں کسی اہم پوزیشن پر ہے مگر پی ٹی آئی نے دادو کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں جتوئی خاندان میں دل کھول کر تقسیم کی ہیں۔ قومی اسمبلی کے این اے 234 سے لیاقت جتوئی کو ٹکٹ دیا گیا ہے تو این اے 235 سے لیاقت جتوئی کے صاحبزادے کریم جتوئی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پی ایس 83 دادو سے لیاقت جتوئی کے بھائی احسان جتوئی اور پی ایس 84 سے لیاقت جتوئی کے بھائی صداقت جتوئی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ایک ہی خاندان میں چار چار ٹکٹیں تقسیم کی گئیں ہیں، یہ بدترین موروثی سیاست نہیں تو اور کیا ہے؟

جس پارٹی میں موروثی سیاست عروج پر ہو وہاں جمہوریت نہیں ہوتی اور جب پارٹی میں جمہوریت نہیں ہوتی اور پارٹی ایک فرد، چھوٹے مراعات یافتہ گروہ یا خاندان کی ملکیت ہوتی ہے اور پارٹی میں اندرونی جمہوریت نہیں ہوتی تو یہ اشرافیہ جمہوریت کہلاتی ہے۔ اشرافیہ جمہوریت کمزور ہوتی ہے اس لئے جب اسے لپیٹا جاتا ہے تو لوگ مزاحمت نہیں کرتے۔ ‏جب پارٹی ایک خاندان کی ملکیت ہو، پارٹی میں جمہوریت نہ ہو تو اشرافیہ جمہوریت جنم لیتی ہے۔ اگر ‏سیاسی جماعتوں کو نظریاتی بنیادوں پر منظم کیا جائے اور جماعتوں کے اندر جمہوریت مضبوط کی جائے تو پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر ہونے والے تماشے بند کئے جا سکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube