Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

عید صرف بچوں کی تو نہیں ہوتی؟

SAMAA | - Posted: Jun 19, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Jun 19, 2018 | Last Updated: 2 years ago

یہ جملہ بہت عام ہے کہ عید تو بس بچوں کی ہوتی ہے، ان کا سجنا سنورنا، نئے نئے چشمے، چمک دھمک کے کپڑے، ہاتھ میں کڑک کڑک عیدی کے نوٹ، جھولے جھولنا، باہرچیزیں کھانا، اونٹ کی سواری کرنا اورریل گاڑی میں بیٹھنا! مزے تو بچوں کے ہوتے ہیں بڑوں کے کیا مزے، خواتین ہیں تو اٹھتے ہی کام میں لگ جاتی ہیں، دعوتوں کے لیے کھانے بنانا، گھرکودیکھنا، اورمحض تھوڑی ہی دیرکے لیے تیار ہونا پھر وہی روز کے کام کام اور صرف کام! اسی طرح مرد حضرات ہیں تو وہ صبح عید کی نمازکے بعد کھانا پینا اور پھر سوجانا اوراہل خانہ کو دوسرے رشتے داروں کے گھرلے کرآنا جانا۔ بالکل اسی طرح لڑکے اور لڑکیاں اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ کھانے پینے یا ایک دوسرے سے عید ملنے چلے جاتے ہیں۔

یہ سوچ ہماری ذہنوں میں رچ بس گئی ہے کہ ہرآنے والے سال کی عید پیکھی سی لگ رہی ہے، جس میں وہ مزہ نہیں ہے جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ تقریبا سب ہی یہ بات سوچتے ہیں کہ اب عید میں وہ رنگ نہیں رہا جو پہلے چاروں طرف باقائدہ دکھائی دیتا تھا، وہ خوشی وہ تازگی، وہ عیدی ملنے کا جوش و خروش، وہ ایک دوسرے سے گلے لگنا، آنا جانا، کھانا پینا اور بھی بہت کچھ! تو جناب! عید تو وہی ہے، یہ وہی تحفہ ہے جو روزے داروں کے لیے ہوتا ہے۔ ہم نے در اصل اپنے آپ کو محدود کرلیا ہے یا ہم سب نے ہی خود کو دوسرے کاموں میں مصروف کرلیا ہے جو ہماری عید کی خوشی کو بھی ماند کر دیتے ہیں۔ آج کے دورمیں عید سے زیادہ خوشی، عید پرملنے والی چھٹیوں کی ہوتی ہے، یہ حقیقت تو ہے پر بہت تلخ حقیقت بھی۔ سب کی اولین سوچ یہ ہی ہوتی ہے کہ سب سے پہلے تو ان چھٹیوں میں ہم آرام کریں گے پھردیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے، کہاں جانا ہے، کس کو بلانا ہے اورکس کی دعوت کرنی ہے یا کس کے ہاں دعوت میں جانا ہے۔ ہم نے اپنی بے جا مصروفیت کے باعث عید کے پر خلوص تہوار کو بھی (ٹیکن فارگرانٹڈ) لے لیا ہے جو ہماری بد نصیبی ہے۔

عید تو خوشی کا وہ تہوارہے جہاں مسلمان ساری پریشینیاں بھول بھال کرخوشی خوشی تہوارکومناتے ہیں، اور دوسروں میں خوشیاں بانٹتے ہیں خاص طورپروہ لوگ جو سارا سال ان خوشیوں سے محروم ہوتے ہیں، اسی تہوارپرمسلمان اپنے روٹھوں کو بھی منا لیتا ہے اورکوشش کرتا ہے صلح صفائی بھی انہی عید کے دنوں میں ہوجائے تو دل صاف ہوجاتے ہیں۔ عید کے دن خاص طور پر پہلے، دوسرے اورتیسرے دن سب ہی کہیں نہ کہیں خوش ہوتے ہیں، کوئی اظہارکرتا ہے اورکوئی اظہارنہیں کرتا، اوربہت سارے لوگ توجان بوجھ کر اس خوشی کو محسوس کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے عید کا تہواربس اسلیے نہیں ہونا چاہیئے کہ وہ آئے اور یوں ہی محض چلا جائے، یا عید کی چھٹیوں کی خوشی عید کے تہوارکومنانے سے زیادہ ہرگزنہیں ہونی چاہیئے، بلکہ اس سے بہت بڑھ کراوراس سے بہت آگے۔ ہمیں عید کی بھی دیگر کاموں کی طرح منصوبہ بندی کرنی چاہیئے، جیسا کہ عید کے معنی لوٹ آنے یا پھر بار بار آنے کے ہیں تو یہ جب آنے والی ہوتی ہے ہمیں تب ہی سے اس کی خوشی کو دل سے محسوس کرنا چاہیئے اوران تک خاص طور پر یہ خوشیاں پہنچانی چاہیئں جو اس کی رنگینیوں سے بہت دور ہوتے ہیں لیکن وہ ان خوشیوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube