Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

کہاں گئے وہ عیدکارڈز، وہ بچپن کی عیدیں

SAMAA | - Posted: Jun 14, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 14, 2018 | Last Updated: 4 years ago

چند سال قبل تک صدر میں موجود عید کارڈز کی دکانوں پر تھوک کے حساب سے عید کارڈز خریدنے والوں کا رش ہوتاتھا، لوگ یہاں سے کم نرخوں پر عید کارڈز خریدتے تھےا و ر اپنے اپنے علاقوں میں جاکرمنافع کے ساتھ بیچ دیتے تھے۔ ان کے علاقوں میں رہنے والے بچے اور نوجوان ان کارڈز کو خریدنے کے لئے بے چین نظر آتے تھے۔ بچیاں اپنے بڑوں سے فرمائش کرتی تھیں کہ انہیں گڑیا، گڈے والا عید کارڈ دیاجائے۔اسی طرح اداکاروں اور اداکارائوں ، پھول پتیوں ودیگرکی تصاویر پر مشتمل عید کارڈز عید کے دنوں میں بہت خریدے جاتے تھے۔

نوجوان اور بچے مختلف کارڈز جمع کرکے اپنے دوستوں اور کزنز کو دیتے تھے، جس میں وہ اپنے دوستی کے حساب سے شعر لکھاکرتے تھے۔ کارڈ کے ایک طرف اس طرح کا کوئی ایک شعر لکھا جاتاکہ
ڈبے میں ڈبہ ، ڈبے میں کیک
میر ی دوست لاکھوں میں ایک!

پھر اس کے ساتھ اپنی حیثیت اورجیب خرچی کو مدنظررکھتے ہوئے تحفہ بھی دیاجاتا۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ تحفہ دینے سے محبت بڑھتی ہے۔ اسلئے عید جیسے مذہبی تہوار کے موقع پر تحفہ دینے سے ایک دوسرے کے دل میں جگہ بنتی ہے، لیکن اب یہ روایات آہستہ آہستہ دم توڑتی جارہی ہیں ۔ پہلے تو عید کارڈز دینے کی روایت ختم ہوچکی ہے۔ اب لوگ ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد کا ایک میسج کردیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی۔ عید کے موقع پر تحفہ دینے کی روایت بھی دم توڑتی جارہی ہے، اب بس ان لڑکیوں کو تحفے ملتے ہیں ، جن کی شادی ہونے والی ہوتی ہے اور وہ تحفے سسرال والوں کی طرف سے بطور عیدی انہیں بھیجے جاتے ہیں ۔ویسے تو ہمارے معاشرے میں ایک غلط سوچ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی کسی کو تحفہ دے رہاہے تو اس کو یقیناً کوئی کام ہوگا، بغیر کام کے کون ، کسی کو آج کے دور میں تحفہ دے سکتا ہے۔ اسی سوچ نے رہی سہی کسر پوری کرتے ہوئے اس روایت کو معدومی تک پہنچادیاہے۔

پہلے تو بچوں کو اگر عیدی میں دس روپے بھی دے دیئے جاتے تھے تو وہ خوشی سے نہال ہوجاتے تھے ۔ اب تو کسی بچے کوایک سو روپے دے دیئے جائیں تو اس کو خوشی نہیں ہوتی۔اس کی نظرمیں عیدی کے پیسوں کی وہ اہمیت نہیں ہوتی ، کیونکہ آج کل کے بچوں کو جیب خرچ کے لئے ہی اتنے پیسے مل جاتے ہیں تو ان کی نظر میں عیدی کے موقع پر ملنے والے پیسو ں کی کیا اہمیت ہوگی، خود ہی سوچ لیں ۔

اس کے علاوہ پہلے محلے گلیوں میں عید کے دن بچوں کے جھولے والے جابجا نظر آتے تھے، بچے عیدی کے پیسے لے کربھاگتے ہوئے جاتے اور ان جھولوں پر بیٹھ کر اپنی عید کی خوشیاں دوبالا کرتے تھے، تاہم اب تو بچے موبائل پکڑ کراس میں گیمز کھیلنے میں ہی مصروف نظر آتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پہلے لوگ خاندان کے بزرگوں کو سلام کرنے چلے جاتے تھے اور ان کے ساتھ ہی عید کی نماز ادا کرتے تھے، لیکن اب لوگ خود ہی نماز کے لئے نکل جاتے ہیں ، عید کی نماز سے قبل /بعد میں خاندان کے بزرگوں کو جاکر سلام کرنے اور عیدملنے کی روایت بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے، جس کا یقیناً افسوس ہے، یہ خوبصورت روایات ہی گھر کے بچوں کو یہ بات سکھاتی ہے کہ بڑے بزرگ گھر کی جان ہوتے ہیں اور ان کے دم سے ہی عید کی خوشیاں دوبالا اور گھر میں رونق ہوتی ہے۔ اس تحریر کو پڑھنےکے بعد ہی ا س حوالے سے شعور بیدار ہوجائے اور کوئی ایک شخص بھی عید کی نماز اپنے بڑوں کے ساتھ پڑھ لے تو سمجھیں تحریر کا حق اداہوگیا۔

اس کے علاوہ کسی سے پوچھا جائے کہ وہ ’’عید کے دن کیا کرتے ہیں ؟ ‘‘ تو عموماً یہی جواب ملتاہے کہ ’’عید کے دن ہم سوکر ہی گزارتے ہیں ، اپنی نیند پوری کرتے ہیں ۔‘‘ جبھی تو اب احساس ہوتاہے کہ وہ عید کارڈز اور وہ بچپن کی عیدیں بہت قیمتی تھیں ، اگر ہم چاہیں تو اب بھی کئی روایات کو ختم ہونے سے بچاسکتے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو ہم عید کا اصل مطلب یعنی خوشیاں بانٹنا، بزرگوں کی دعائیں لینا، تحفے دینا، عیدی دینا، بذات خود دوسروں کے گھروں میں جانا اور ان کو اپنی عید کی خوشیوں میں شامل کرناوغیرہ کے بارے میں سمجھائیں اور نسل در نسل عید سے جڑی روایات کو منتقل کریں ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube