ورلڈکپ کا سپر کپ

ورلڈکپ کا سپر کپ

Syed Rashid Hussain
June 14, 2018

تجزیہ: راشد حسین

وہ آ گئے لو وہ جی اٹھا میں عدو کی امید یاس ٹھہری

عجب تماشا ہے دل لگی ہے قضا کھڑی ہاتھ مل رہی ہے

آغا شاعر قزلباش نے نا جانے کس کی آمد پر یہ شعر کہا ہم جیسے فٹبال لوورز کے لئے تو فٹبال ورلڈکپ  پر ہی یہ شعر فٹ بیٹھتا ہے۔ اس بار ورلڈ کپ روس میں شروع ہوا اور دنیا بھر کی بہترین بتیس ٹیموں نے سونے کی چمچماتی ٹرافی کے لئے مقابلے شروع کردیئے۔ گو ہر ورلڈکپ اپنے کھیل کا سب سے بڑا ایونٹ ہوتا ہے لیکن  ہرورلڈکپ سے بڑا ایونٹ فیفا کا فٹبال ورلڈ کپ ہوتا ہے۔ ابھی ٹورنامنٹ شروع نہیں ہوا کہ صرف اشہتارات سے فیفا نے چھ کھرب روپے سے زائد کا معاوضہ کما لیا۔ مزید کھربوں روپے کی آمدنی یقینی ہے۔ آئس لینڈ اور پاناما کی ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ کھیل رہی ہیں تو چار بار کی چیمپئن اٹلی کی ٹیم اس بار ورلڈ کپ گھر بیٹھ کر دیکھ رہی ہے۔ امریکا کو پانامہ نے ایونٹ سے باہر کردیا تھا۔ نیدر لینڈز کی ٹیم جو دوہزار چودہ ورلڈکپ میں تیسرے نمبر پر رہی اس بار ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی نہیں کرسکی۔ چلی اور افریقی چیمپئن کیمرون کا بھی ایونٹ شروع ہونے سے پہلے ہی پتہ صاف ہوگیا۔ اس بار سب سے اہم بات یہ ہے کہ تیونس، مصر، سعودیہ عرب، ایران، نائجیر یا مراکش اور سینیگال سات مسلمان ممالک روسی گراؤنڈز پر ٹائٹل کی جنگ میں مصروف ہیں۔ جرمنی جس نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہر حریف کو شکست دی کو فٹبال پنڈت فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔ برازیل، ارجنٹائن اور پرتگال فیورٹس کی فہرست میں ٹاپ پر ہیں۔

مصریوں کی ورلڈکپ میں سب سے بڑی امید محمد صلاح ہے جس نے انگلش پریمئیر لیگ کی ٹیم لیور پول کو یورپیئن چیمپئن شپ کے فائنل تک پہنچایا تھا۔ گو فائنل میں ان کی انجری نے لیور پول کے ارمان پورے نہیں ہونے دیئے اس کے ساتھ ساتھ ان کی ورلڈکپ میں شرکت پر سوال اٹھ گئے۔ مصریوں نے بہت واویلا کیا ایک وکیل نے تو ریال میڈرڈ کے کپتان سرگیو راموس پر جن کی وجہ سے محمد صلاح زخمی ہوئے تھے پر اربوں ڈالر کا کیس کردیا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی راموس کے خلاف مہم چلائی گئی ایسی جذباتی مہم سے کچھ حاصل وصول تو نہیں ہوا لیکن دعاؤں نے اثر دکھایا اور محمد صلاح ٹیم کے ساتھ روس آگئے ہیں۔

برازیل کے نیمار بھی فٹنس مسائل سے نمٹ کر ٹیم کو جوائن کرچکے ہیں اور فل فارم میں آچکے ہیں۔ دوستانہ میچز میں گول داغ کر انہوں نے اپنی فٹنس بھی ثابت کردی ہے۔ ریال میڈرڈ کو یورپیئن چیمپئنز لیگ کا لگاتار تیسری بار تاج پہنانے والے پرتگال کے کرسچیانو رونالڈو اور بارسلونا کو اسپینش لیگ کا ٹائٹل دلانے والے لیونل میسی کی تو بات ہی کیا اس بار کئی دیگر کھلاڑیوں پر بھی سب کی نظریں ہوں گی۔ لیونل میسی شاید آخری بار ورلڈکپ میں پرفارم کریں گے وہ اس جانب اشارہ بھی کرچکے ہیں۔ کولمبیا کے روڈریگز نے دوہزار چودہ میں بہت دھوم مچائی تھی اس بار بھی انہوں نے جرمن چیمپئن بائرن میونخ کی جانب سے خوب دھوم مچائی ہے کولمبئین فینز بھی ان سے بہترین کارکردگی دکھانے کی توقع رکھتے ہیں۔

جرمنی کے اکیس سالہ ٹی مو ورنر ہوں یا پھر برازیل کے گبرائل جیزز۔ یوراگوئے کا ڈریکولا لوئس سوریز جو دوہزار چودہ ورلڈکپ میں حریف کھلاڑی کو دانت کانٹنے کے الزام میں سزا بھی بھگت چکے ہیں اس بار ان کی کارکردگی کے ساتھ ان کے رویے پر بھی سب کی نظریں ہوں گی۔ یورا گوئے کے کوچ نے تو ان کے لئے خصوصی طور پر ایک ماہر نفسیات کی خدمات بھی حاصل کیں ہیں جو ٹیم کےساتھ رہے گا اور ان کے رویے کو بہتر رکھے گا۔ اسپین کے اسگو نے بھی خوب دھوم مچا رکھی ہے نوجوان کھلاڑی میں بہترین کھلاڑی بننے کی تمام صلاحتیں موجود ہیں اور اسپین کے فٹبال پنڈت انہیں ورلڈکپ میں گولڈن بوٹ کا حقدار قرار دے رہے ہیں۔

میگا ایونٹ پندرہ جولائی تک جاری رہے گا۔ اس بار اس ایونٹ کے لئے شاندار انتظامات کئے گئے ہیں۔ روس نے سفری پابندی بہت کم کردی ہیں صرف ٹکٹ خرید کر آپ روس میں انٹر ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روسی حکومت نے تمام غیر ملکی مہمانوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ شائقین کو اپنے پاسپورٹ ہر وقت اپنے پاس رکھنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ جس کے پاس پاسپورٹ نہ ہوا اس کو جیل میں کئی دن گزارنے پڑسکتے ہیں اور روسی قوانین کے مطابق جب کوئی ایک بار جیل چلا جائے تو پھر باہر آنا اتنا آسان نہیں۔ مکمل قانونی کارروائی سے قبل غیر ملکی مہمان کو سرکاری مہمان بننا یعنی جیل میں رہنا پڑسکتا ہے۔ اس لئے میگا ایونٹ دیکھنے جانیوالے کچھ بھی بھول جائیں لیکن اپنا پاسپورٹ ہرگز نہ بھولیں کیونکہ ہر بھول معاف نہیں ہوتی۔