ریحام خان کی کتاب اور معاشرہ

ریحام خان کی کتاب اور معاشرہ

Syed Amjad Hussain Bukhari
June 13, 2018

تجزیہ: سید امجد حسین بخاری

میں کئی دنوں سے سوچ رہا تھا ریحام خان اور عمران کی شادی پر کچھ لکھوں، کوئی چٹکلا چھوڑوں ۔۔ کئی بار خیال آیا کہ عمران کی عزت رولنے کا یہ بہترین موقع ہے یقین جانیں واٹس ایپ پر ایسے ایسے پیغامات موصول ہوئے کہ کانوں سے دھواں نکلتا رہا، ریحام کی کتاب کے اقتباسات سن سن کر واٹس ایپ چھوڑنے کا خیال بھی آیا۔ پھر خیال آیا کہ ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوا، اسلامی ماحول میں پرورش پائی ،، ۔۔ اور اب کلچر پر تحقیقی کام بھی کر رہا ہوں۔ ایک لمحے کو غور کریں ریحام خان اگر عمران کی بیوی نہ ہوتی تو؟ اسے طلاق نہ ہوئی ہوتی تو؟ خیر میرا اور آپ کا کام سوچنا تھوڑی ہے، ہمیں تو جو ملے گا وہ شیئر کردیں گے۔۔ لیکن چلیں ایک بات پڑھ لیں۔۔ قرآن نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا لباس کہا ہے۔۔ جی جی لباس جسم ڈھانپتا ہے۔ لباس عزت و آبرو کا محافظ ہوتا ہے۔۔۔ لباس جسم سے جدا ہونے کے بعد بھی آپ کے راز کو بیان نہیں کرتا۔

ریحام خان کی جانب سے طلاق کے فورا بعد اٹھائے جانے والے سوالات ۔۔ اس کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان کا مذاق ۔۔ دوستو! دراصل یہ ہمارے معاشرتی نظام کو تباہی کے دہانے پہنچا رہا ہے۔۔ آپ عمران خان کو چاہے جو بھی کہہ لیں مگر یاد رکھیں ۔۔ انہوں نے دو طلاقوں کے باوجود کبھی بھی اپنی سابقہ بیگمات کے بارے میں ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا۔ سیاسی اختلافات اور نظریاتی وابستگیوں سے بالا ہو کر ایک بار سوچیں ۔۔ جس طرح ہم چاہتے اور نہ چاہتے ہو ئے خواتین کی بے حرمتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔۔ ہمارا معاشرہ کس جانب جا رہا ہے؟ الزامات۔ اخلاقی اقدار کا قتل عام ۔۔ خاندانی نظام کی شکست و ریخت ہمارے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے۔ ارزائے تفنن ۔ ہم ایسی باتیں کر جاتے ہیں ، جو معاشرے کے بگاڑ کا باعث بن رہی ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا نے جس طرح اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ ان کے اثرات ہمارے آنے والی نسلوں کو بھگتنا ہوں گے، جو یقینا تباہ کن ہوں گے۔ بات صرف عمران خان کی طلاق اور ریحام کی کتاب تک محدود نہیں ہے۔ عدم برداشت ، کردار کشی ہماری پہچان بن چکی ہے۔ سوشل میڈیائی دانشوروں نے باپ بیٹی کا تقدس پامال کر دیا ہے۔ معاشرہ تباہی کے دہانے پر ہے، اقدار ختم ہو چکی ہیں، ایک کتاب جو ابھی پیبلش نہیں ہوئی، اس کو بنیاد بنا کر ہم بیہودگی کی انتہاوں کو چھو رہے ہیں۔ سیاست دان، تجزیہ کار اور صحافی کتاب کو بنیاد بنا کر معاشرے کے بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات، باپ بیٹی کی شفقت، بہن بھائی کا احترام ختم ہوتا جا رہا ہے۔

یقین جانیں اس سب کے ذمہ دارمن حیث القوم ہم خود ہی ہیں۔تہذیب و ثقافت پر تحقیقی کام کے دوران معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کے عوامل پڑھنے کا موقع ملا۔ یقین جانیں ، جس جانب ہم نہ چاہتے ہوئے بھی جا رہے ہیں۔ اس منزل پر خیر ہمارا استقبال نہیں کرے گی۔ سیاست اور مذہب کے نام پر نفرتوں کے جن بیجوں کی ہم پرورش کر رہے ہیں ، ان کے پھل ہماری نسلوں کو کاٹنا پڑیں گے۔ جس تیزی کے ساتھ ہم اس دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔ بعید نہیں کہ ہم بھی اس کے اثر میں آجائیں۔ سوشل میڈیا جسے ہم باہمی رابطے کے لئے استعمال کرنے کی متمنی ہیں۔ اسے ہم نے دل کا غبار نکالنے کا پلیٹ فارم بنا کر رکھ دیا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اپنی ذات سے تبدیلی کا آغاز کرنا ہوگا۔ نفرتوں کے کانٹوں کی جگہ محبت کے پھولوں کی آبیاری کرنا ہوگی۔ معاشرتی بگاڑ کو اپنے عمل، قول و فعل سے سدھارنا ہوگا۔ اپنا معاشرہ بچانے کے لئے خود میدان عمل میں آنا ہوگا۔ یاد رکھیں! یہ الزامات اور بیانات عمران خان کے حوالے سے نہیں ہیں۔ یہ سب ہماری ذات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ لیکن معاشرہ اور ملک بچانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔