بیوی کی عزت کیجئے

salaar sulaman
June 12, 2018

وہ میرے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ وہ بات کرنے کیلئے منہ کھولتا لیکن ایک آدھ لفظ بول کر ہی خاموش ہو جاتا تھا۔ میں نے اُس کو پانی پینے کیلئے دیااور دل ہی دل میں دعا کی کہ اللہ خیر ہی کرے۔ بالاخر اُس نے اپنی ہمت جمع کی اور بولا کہ سالار بھائی ، میری شادی بالکل تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے ۔ اللہ ہی اس رشتے کو بچا لے لیکن مجھے کوئی امید نظر نہیں آ رہی ۔ میں اُس سے وجہ پوچھی تو اُس نے کہا کہ میری شادی کو تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ، میری بیوی بھی سمجھدار تھی، اُس نے ابتدا ہی میں میرے گھر والوں کے دل میں اپنی جگہ بنا لی۔ لیکن اس کے بعد ہمارے درمیان نا چاقیاں شروع ہو گئیں۔ میں چاہتا تھا کہ وہ میری مانے، میری بیوی کی کوشش تھی کہ میں اس کی مانوں۔ اتھارٹی کے چکر میں ہمارے جھگڑے ہونے لگے۔ ہمیں اللہ نے اولاد کی نعمت سے بھی نوازا لیکن اس سب کے باوجود ہمارے جھگڑے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے۔ آج بھی کافی شدید جھگڑا ہوا کہ قریب تھا کہ میں اپنی بیوی پر ہاتھ اُٹھا دیتا ۔ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟

میں خاموشی سے اُس کی کتھا سنتا رہا ۔ جب وہ چپ ہو گیا تو میں نے کہا کہ اور بھی اگر کچھ ہے تو بتاؤ۔ اُس نے کہا کہ میں کوئی لمبی چوڑی ڈیمانڈ نہیں کرتا ہو۔ میں اپنی اوقات کے مطابق اس کی تمام ضروریات پوری بھی کرتا ہوں،خدا سب کا پردہ رکھیں یہ میں جانتا ہوں کہ میں کیسے گھر چلاتا ہوں ،یہ باتیں میری بیوی بھی مانتی ہے ۔ میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ وہ میری عزت کرے، میرے آگے زبان نہ چلائے ، میری بات کو سب پر اہمیت دے ، فضول میں بحث نہ کرے، میرے ساتھ میری مرضی کے مطابق رہے ، اپنی من مانی نہ کرے، میرے ساتھ مقابلہ نہ کرے۔ سالار بھائی، میں ٹینشن اور ڈپریشن کا مریض ہو کر رہ گیا ہوں۔

یہ مسئلہ اُس ایک نوجوان کا نہیں بلکہ دنیا کے شاید نوے فیصد شادی شدہ مرد اس مسئلے سے گزر رہے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کریں؟ بطور مسلمان ہم پر فرض ہے کہ ہم اللہ اور اُس کے نبی ؐ کی مانیں ۔ مرد اور عورت دونوں یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ حدود اللہ کی پابندی کریں گے تو نصف معاملہ تو حل ہو جائے گا۔ اللہ کے نبی ؐ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ عورت پسلی سے تخلیق کی گئی ہے ۔ اس کو سیدھا کرو گے تو یہ ٹوٹ جائے گی۔

عموماً مرد غصے کے تیز ہی ہوتے ہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ غصے کی حالت میں ری ایکشن ہی اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ لڑائی مزید بڑھے گی یا ختم ہوگی۔ ہر مرد کو اپنی بیوی پر غصہ آتا ہی ہے ۔ بہتر ہوتا ہے کہ غصے میں مرد اپنی زبان کو بالکل بند کر لے۔آپ غصے کے ابتدائی پندرہ منٹ کنٹرول کر لیں، اِس کے حیران کن نتائج سامنے آئیں گے۔ غصے میں جگہ بھی تبدیل کر لیں، حالت غصہ میں بھی منفی سوچوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں بلکہ کوشش کیجئے کہ غصے کی حالت میں اُس ٹاپک کو سوچیں ہی نہیں۔ میں نے بہت بڑے لوگوں کو غصے میں اپنا سب کچھ ہارتے ہوئے دیکھا ہے ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیوی آپ کی عزت کرے تو آپ کو اُس کی عزت پہلے کرنی ہوگی، اگر آپ اس کی عزت نہیں کریں گے، اُس کو حقیرسمجھیں گے، اُس کی بات کو بغیر دلیل کے رد کر دیں گے اور اُس کو ہر وقت ڈانٹتے رہیں گے یا ہر وقت نصیحت کرتے رہیں گے تو یقین کیجئے، آپ کی شادی شدہ زندگی شدید خطرے میں چلی جائے گی۔ آپ کی بیوی بھی انسان ہے، اُس کو بھی اسپیس دیجئے ۔ بعض اوقات ایک قدم پیچھے ہٹ جانے میں ہی عقل مندی ہوتی ہے اور یہ ایک قدم کا پیچھے ہٹنا آپ اور آپ کے رشتے کو بچا جاتا ہے۔ میں نے ہر اُس مرد کو کہ جو اپنی انا کا غلام ہوتا ہے ، کبھی بھی خوش نہیں دیکھا ہے ۔آپ اگر ارب پتی ہیں اور آپ اپنی بیوی کی عزت نہیں کرتے ہیں تو یقین کیجئے کہ وہ پیسہ، دولت ، عیش و آرام ہوتے ہوئے بھی آپ کے ساتھ خوش نہیں ہوگی ۔ اگر آپ غریب ہیں لیکن اُس کے باوجود آپ اپنی بیوی کی عزت کرتے ہیں تو وہ عورت نہ صرف خوش ہوگی ،بلکہ یہ لکھ لیجئے ،وہ آپ کی خاطر اپنی جان کی بازی بھی لگا دے گی۔ آپ یہ سب آزما کر دیکھ لیجئے ، آپ کے نوے فیصد مسائل حل ہو جائیں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ عورت ہی غلط ہوتی ہے لیکن میرا کہنا یہ بھی نہیں کہ صرف مرد ہی غلط ہوتا ہے ۔ میری ذاتی رائے میں ایسی صورتحال میں غلط دونوں ہوتے ہیں ، بس کوئی زیادہ غلط ہوتا ہے اور کوئی کم غلط ہوتا ہے ۔ آپ صرف اپنی بیوی کی عزت کریں، اُس کو حقیر نہ سمجھیں، آ پ کے مسائل بشمول ٹینشن اور ڈپریشن ختم ہو جائے گا۔