کالاباغ ڈیم متنازع ترین منصوبہ

umairsolangi
June 12, 2018

پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی منصوبہ اتنا متنازعہ ہوا ہوگا جتنا کہ کالا باغ ڈیم، اس لئے کالا باغ ڈیم کو پاکستان کی تاریخ کا متنازع ترین منصوبہ کہا جاتا ہے۔ ڈیم کے حامی کہتے ہیں کہ منصوبے کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ ڈیم کے حامیوں کا یہ دعوی ہے کہ ڈیم کی مخالفت محض سیاسی بنیادوں پر کی جارہی ہے اور تکنیکی لحاظ سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے کسی صوبے کو نقصان پہنچنے کا امکان نہیں جبکہ ڈیم مخالف ماہرین اسے صوبہ خیبر پختونخوا اور سندھ کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کے مخالف حلقے اس ڈیم کو صوبہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے مفادات کا قاتل اور پاکستان کی سلامتی و یکجہتی کا مخالف منصوبہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے بڑی تعداد میں خیبر پختونخوا کے لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے گی، زرخیز علاقے پانی میں ڈوب جائیں گے اور مزید اراضی سیم اور تھور کا شکار ہوجائے گی اس لئے اے این پی نے ہمیشہ اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی یہی کہتے ہیں کہ سندھ کے تحفظات دور کرکے کالا باغ ڈیم بنایا جائے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ صوبہ سندھ کو بھی کالا باغ ڈیم پر اعتراضات ہیں۔ سندھ کو پنجاب سے ہمیشہ یہی شکایت رہی ہے کہ پنجاب صوبہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی فراہم نہیں کرتا اس لئے خدشہ ہے کہ ایک اور ڈیم کی تعمیر سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ صوبہ بلوچستان کا براہ راست کالا باغ ڈیم منصوبے سے کوئی تعلق نہیں مگر بلوچستان اپنا پانی صوبہ سندھ سے لیتا ہے اس لئے سندھ کے موقف کی تائید کرتا ہے۔

پنجاب کالا باغ ڈیم کا حامی ہے مگر پچھلے ماہ صوبہ سندھ کے دورے کے موقعے پر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ اگر سندھ کے عوام نہیں چاہتے تو کالا باغ ڈیم نہیں بنے گا۔ ملک کے تین چھوٹے صوبوں کو یہ منصوبہ قبول نہیں اور وہ اسے کالا باغ نہیں بلکہ کالا ناگ کہتے ہیں۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں اس ڈیم کے خلاف اب تک کئی متفقہ قراردادیں منظور کر چکی ہیں جس سے اس منصوبے کی شدید مخالفت ظاہر ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں جب کالا باغ ڈیم منصوبے پر سندھ اورخیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت اپنے موقف سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں،‏مردہ گھوڑے کالا باغ ڈیم کے تنازعے کو زندہ کرنے کا مقصد صوبوں کے عوام کو لڑا کر تقسیم کرنا ہے،لہٰذا عدالتوں کو ایسے فیصلوں اور کیسوں کی سماعت سے گریز کرنا چاہئے۔ بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کالا باغ ڈیم متنازع منصوبہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک غیر متنازع ڈیمز کیوں نہیں بنائے گئے؟ ‏پانی کی قلت پر قابو پانے کے کئی حل موجود ہیں، کئی منصوبے ہیں جن میں سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے لیکن کسی منصوبے پر عمل کرنے کے بجائے بار بار مردہ گھوڑے کالا باغ ڈیم کے تنازعے کو زندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر مقصد پانی ذخیرہ کرنا اور بجلی بنانا ہے تو کالا باغ ڈیم کے متبادل کے طور پر غیر متنازعہ کٹ زارا ڈیم اور بھاشا ڈیم موجود ہیں جن سے ملک کی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ کالا باغ ڈیم پر تین صوبوں کے تخفظات ہیں جب تک تمام صوبے اس ڈیم کی حمایت نہ کریں مجھ سمیت کوئی بھی محب وطن پاکستانی اس منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔